حضور اکرمؐ کی زندگی احادیث کے آئینے میں

   
۲۶ فروری ۲۰۱۱ء

محدثین کرامؒ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف و کمالات اور معمولات کو علم حدیث کے ایک مستقل شعبے کی صورت میں مرتب کیا ہے جسے ’’شمائل نبویؐ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ بعض محدثین نے اس پر الگ کتابیں لکھی ہیں اور باذوق اہل علم نے بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے حسن ذوق کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتؐ کی اجتماعی، معاشرتی، اور علمی و عملی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی کی جزئیات تک روایت کی ہیں جنہیں محدثین کرام نے حدیث کے مستقل ابواب کی صورت میں جمع کر کے قیامت تک امت مسلمہ کی رہنمائی کا اہتمام کر دیا ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا تو ذوق ہی یہ تھا کہ وہ ہر کام اسی ترتیب اور جزئیات کی پاسداری کے ساتھ کرتے تھے جس طرح حضورؐ نے وہ کام کیا تھا۔ جناب رسول اللہؐ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج کیا تھا جو ’’حجۃ الوداع‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اس حج میں حضورؐ کے ساتھ تھے اور انہوں نے اس سفر کے آنے جانے کی تفصیلات اس جزرسی کے ساتھ یاد کر رکھی تھیں کہ باقی صحابہ کرامؓ اس پر رشک کیا کرتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اس کے بعد زندگی بھر ہر سال حج کیا اور اسی ترتیب کے ساتھ کیا جیسے حضورؐ کے ساتھ کیا تھا۔ جہاں سے آپؐ نے احرام باندھا وہیں سے وہ احرام باندھتے تھے، جہاں آپؐ نے پہلی رات قیام فرمایا وہیں پہلی رات قیام فرماتے تھے، جہاں آپؐ نے دوسرے روز ظہر کی نماز پڑھی وہیں نماز پڑھتے۔ حتیٰ کہ بعض روایات کے مطابق عبد اللہ بن عمرؓ اس مبارک سفر کے دوران پیشاب بھی اسی جگہ کرتے تھے جہاں انہوں نے آپؐ کو پیشاب کرتے دیکھا تھا۔ منٰی میں وہ اسی جگہ خیمہ لگاتے جہاں حضورؐ کا خیمہ حجۃ الوداع میں نصب تھا اور قربانی بھی اسی جگہ کرتے تھے جہاں آپؐ نے قربانی کے جانور ذبح کیے تھے۔ ایک صاحب نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے پوچھا کہ ہم آپ کو بعض کام بڑے اہتمام سے کرتا دیکھتے ہیں مگر باقی صحابہ کرامؓ وہ کام ویسے نہیں کرتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں تو ہر کام اسی انداز اور ترتیب سے کرتا ہوں جس طرح میں نے جناب رسول اللہؐ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے۔

اس قدر جزرسی اور تفصیلات اگرچہ ضروری نہیں ہیں مگر جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ حد درجہ محبت و عقیدت کی علامت ضرور ہیں۔ کیونکہ محبوب کی ہر ادا اور ہر چیز محبت کرنے والے کو محبوب ہوتی ہے، اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی طرح ہو جائے اور اس کی ہر ادا کو اپنا لے۔ اس کی ایک جھلک ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ ہمارے بچے کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھتے ہیں تو جس کھلاڑی کی کوئی ادا کسی نوجوان کو پسند آجاتی ہے وہ اسے اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً کرکٹ کے حوالے سے آپ کو اپنے ماحول میں کئی چھوٹے چھوٹے میانداد نظر آئیں گے، کئی عمران خان ملیں گے، اور کئی شاہد آفریدی دکھائی دیں گے۔ وہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں لیکن بیٹ ایسے پکڑیں گے جیسے جاوید میانداد پکڑتے ہیں، گیند ایسے کرائیں گے جیسے عمران خان کراتے رہے ہیں، اور ایکشن ایسے لیں گے جیسے انہیں شاہد آفریدی کا ایکشن دکھائی دیتا ہے۔ یہ پسند کی علامت ہے، محبت کا اظہار ہے، اور دل میں بس جانے کی بات ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کاذوق بھی یہی تھا اور وہ اس معاملے میں تمام صحابہ کرامؓ میں امتیازی شان رکھتے تھے۔

جناب رسول اللہؐ کے ذاتی اوصاف و خصائل اور معمولات پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں احادیث محدثین کرامؒ نے روایت کی ہیں جن میں بطور نمونہ چند ایک کا تذکرہ کرنے کی سعادت ہم حاصل کر رہے ہیں، اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس ذکر کی برکت سے اس ذوق کا کچھ حصہ ہمیں بھی نصیب فرما دیں جو قیامت کے روز حضورؐ کی شفاعت اور ان کے ساتھ قربت کا ذریعہ بن جائے، آمین یا رب العالمین۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کو انسانی خصال میں سے سب سے زیادہ نفرت جھوٹ سے تھی (بیہقی)۔ اور اپنے خاندان کے کسی شخص کے بارے میں جھوٹ کی کسی بات پر مطلع ہوتے تو اس سے اس وقت تک اعراض فرماتے تھے جب تک اس کی توبہ مشاہدے میں نہ آجاتی (مسند احمد)۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کسی شخص کو کسی علاقے کا حاکم بنا کر بھیجتے تو یہ نصیحت بطور خاص فرماتے تھے کہ لوگوں سے انہیں قریب لانے والی باتیں کرنا، دور کرنے والی باتوں سے گریز کرنا۔ آسانی والی بات کرنا، مشکل اور تنگی والی بات نہ کرنا (ابو داؤد)۔

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ جب کسی سے بیعت لیتے اور کسی کام کے کرنے کا عہد لیتے تو اس عہد میں یہ گنجائش رکھنے کی تلقین فرماتے کہ فیما استطعت کہ جہاں تک میرے بس میں ہوگا اطاعت کروں گا (مسند احمد)۔

حضرت ابو امامہؓ فرماتے تھے کہ جناب رسول اللہؐ کسی کو امیر (حاکم) بنا کر بھیجتے تو یہ تلقین فرماتے کہ تقریر مختصر کرنا اور باتیں تھوڑی کرنا اس لیے کہ کلام میں تبھی جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے (طبرانی)۔ ایک طالب علم کے طور پر اس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضورؐ حاکموں سے فرما رہے ہیں کہ لوگوں کو اپنی جادو بیانی اور گفتگو کے سحر میں ہی نہ جکڑے رکھنا بلکہ ان کے مفاد کے عملی کاموں کو ترجیح دینا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ جب کسی ساتھی کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک وہ خود ہاتھ نہ چھوڑتا، اور اسے رخصت کرتے وقت دعا سے بھی نوازتے (مسند احمد)۔

حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ سب لوگوں سے زیادہ خوش مزاج اور سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے (طبرانی)۔

حضرت ابوالدرداءؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ جب بھی گفتگو فرماتے، مسکراہٹ آپ کے چہرے پر نظر آتی تھی۔ (مسند احمد)۔

حضرت حنظلہ بن خدیمؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کسی شخص کو بلاتے تو اس کے پسندیدہ نام اور کنیت کے ساتھ اس کو پکارتے (طبرانی)۔

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؑ اکثر اوقات اپنے سر مبارک کو ڈھانپ کر رکھتے یعنی سر پر اکثر کپڑا ہوتا تھا (ترمذی)۔

حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، بے مقصد بات نہ کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر ارشاد فرماتے۔ آپؐ کسی بات پر ناک نہیں چڑھاتے تھے اور کسی بیوہ، یتیم یا غلام کے ساتھ اس کے کام کے لیے چلنے میں تکبر نہیں کرتے تھے اور جب تک اس کا کام نہیں ہو جاتا تھا ساتھ رہتے تھے (مستدرک حاکم)۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہؐ اپنے کام اکثر خود کر لیتے تھے۔ کپڑے کو ٹانکا لگا لیتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے، اور ذاتی خدمت کے کام بھی خود کر لیتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ دوسرے روز کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہیں رکھتے تھے اور جو کچھ ہوتا اسی روز خرچ کر ڈالتے تھے (ترمذی)۔

حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا بھی ہو تو میں اپنے پاس تین دینار سے زیادہ ذخیرہ نہیں رکھوں گا اور سب کا سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں گا (بخاری شریف)۔

حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کی خوراک بہت کم تھی۔ وہ اگر دوپہر کا کھانا کھاتے تو رات کا نہیں کھاتے تھے اور رات کا کھانا کھا لیتے تو دوپہر کا نہیں کھاتے تھے (حلیہ)۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خادموں سے پوچھتے رہتے تھے کہ تمہاری کوئی ضرورت تو نہیں؟ تمہیں کوئی کام تو نہیں؟ (مسند احمد) ۔ گویا حضورؐ اپنے خادموں کی ضروریات کا بھی بطور خاص خیال رکھتے تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بھی ان خصائل مبارکہ کو اپنانے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter