قرآن و سنت کی دستوری بالادستی اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

   
۸ فروری ۲۰۰۱ء

گزشتہ روز ایوانِ اقبال لاہور میں ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریکِ خلافت پاکستان کے زیراہتمام ’’انٹرنیشنل خلافت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دستوری طور پر قرآن و سنت کی بالادستی کا اہتمام ضروری ہے۔
ان سے قبل اسی کانفرنس میں جنرل (ر) حمید گل نے اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور نظامِ خلافت کی عملداری کے لیے واحد دستوری صورت یہ ہے کہ دستور میں قرآن و سنت کو پاکستان کا سپریم لاء تسلیم کرایا جائے تاکہ قرآن و سنت کے منافی قوانین کے خاتمہ کی راہ ہموار ہو سکے۔ جنرل حمید گل نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا کہ عدالتِ عظمیٰ نے ایک کیس میں ‘‘قراردادِ مقاصد‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے اصول اور قرآن و سنت کی بالادستی کی شق کو دستور کی دیگر دفعات پر بالاتر قرار دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے قرآن و سنت کے سپریم لاء قرار دینے کا معاملہ لٹک گیا تھا۔ اس لیے اب بھی اس کا راستہ یہی ہے کہ دستوری طور پر پاکستان میں قرآن و سنت کو بنیادی قانون اور سپریم لاء تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔
قرآن و سنت کی بالادستی کے حوالے سے جنرل (ر) حمید گل کی باتیں تو سمجھ میں آ رہی تھیں کہ وہ ایک عرصہ سے یہ آواز اٹھا رہے ہیں اور اس پر مسلسل زور دے رہے ہیں، لیکن جسٹس نسیم حسن صاحب کی زبان سے قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی بات سن کر تعجب ہوا، اس لیے کہ جنرل حمید گل نے سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا حوالہ دیا ہے وہ ڈاکٹر نسیم حسن شاہ ہی کا تحریر کردہ ہے، جو اُن کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے صادر کیا تھا اور اس کے بعد اس کے خلاف اپیل کی اور کوئی عدالت باقی نہیں رہ گئی تھی۔
جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے تازہ ارشاد پر تبصرے سے قبل اس کیس کا مختصر پس منظر عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ۱۹۸۸ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئیں تو ان کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے بہت سے قیدیوں کی موت کی سزا کی معافی یا تبدیلی کے احکامات صادر کیے۔ جس پر لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی کہ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۴۵ کے تحت صدر مملکت کو قیدیوں کی سزا معاف یا تبدیل کرنے کا جو اختیار حاصل ہے یہ شرعی قوانین کے منافی ہے۔ اور چونکہ دستور میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کو تسلیم کرتے ہوئے قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے صدر کے اختیارات کی یہ دفعہ قراردادِ مقاصد کے بھی منافی ہے، لہٰذا اس دفعہ کو ختم کیا جائے۔
’’سکینہ بی بی کیس‘‘ کے نام سے معروف اس مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ کے تین جج صاحبان راجہ افراسیاب، شیخ ریاض احمد اور ملک محمد قیوم پر مشتمل فل بینچ نے قراردادِ مقاصد کی دستوری بالادستی کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے صدر کے مذکورہ اختیارات والی دستوری دفعہ کو غیر مؤثر قرار دے دیا۔ جس سے عدالتی طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ پاکستان میں قرآن و سنت کو دستوری اور قانونی طور پر بالادستی حاصل ہے اور شریعتِ اسلامیہ کے منافی کوئی دستوری دفعہ یا قانون مؤثر حیثیت سے باقی نہیں رہے گا۔
لیکن اس فیصلہ کو جب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے فل بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یہ قرار دیا کہ قراردادِ مقاصد کو دستور میں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، یہ بھی دستور کے دیگر آرٹیکلز کی طرح مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے جب بھی قراردادِ مقاصد کا دستور کی کسی دیگر دفعہ سے تصادم سامنے آئے گا تو عدالت ان میں سے کسی کو ترجیح نہیں دے گی اور وہ زیادہ سے زیادہ پارلیمنٹ کو اس طرف متوجہ کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فل بینچ کے اس حتمی فیصلہ نے اس سارے عمل کو بریک لگا دی جو عدالتی فیصلہ کے ذریعے ملک میں رائج غیر شرعی قوانین کو ختم کرنے کے لیے ملک کے ہر حصے میں شروع ہوگیا تھا، اور یہ توقع نظر آنے لگی تھی کہ اب اگر پارلیمنٹ شرعی اصولوں کی روشنی میں قانون سازی میں خدانخواستہ پیش رفت نہیں کرتی تو بھی عدالت ہائے عالیہ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ دستور کی کسی دفعہ یا ملک میں رائج کسی قانون کو قراردادِ مقاصد کی روشنی میں قرآن و سنت کے منافی دیکھتی ہیں تو اس کے کالعدم اور غیر مؤثر ہونے کا فیصلہ صادر کر سکتی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے نے ملک میں اسلامی قوانین کے عملی نفاذ اور غیر شرعی قوانین کا خاتمہ کے اس امکان کا راستہ بھی روک دیا۔
جنرل حمید گل نے اپنے خطاب میں اسی فیصلہ کا حوالہ دیا اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے اور جنرل پرویز مشرف کو عدالتِ عظمیٰ نے دستور میں ترامیم کا جو اختیار دیا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دے سکتے ہیں، اور اس طرح وہ ملک میں اسلامی نظام و قوانین کے عملی نفاذ کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں۔ 
جنرل صاحب کی یہ بات درست ہے اور ہم اس کی تائید کرتے ہیں کہ دستوری طور پر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا عملی راستہ یہی ہے اور جنرل پرویز مشرف کے پاس اختیار بھی موجود ہے کہ وہ اگر قرآن و سنت کی بالادستی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ پر ایمان رکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ قرآن و سنت کو دستوری طور پر ملک کا سپریم لاء قرار دینے کا اعلان کر دیں۔ جو بلاشبہ نہ صرف پاکستان کی پچاس سالہ تاریخ بلکہ افغانستان اور ایک آدھ اور ملک کے استثنا کے ساتھ پورے عالمِ اسلام میں ان کے لیے ایک تاریخی اعزاز ثابت ہو گا اور مؤرخ ان کے اس کارنامے کو سنہری باب اور روشن باب کی صورت میں تحریر کرے گا۔
لیکن جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی طرف سے قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کے اہتمام کی بات ہمارے لیے حیرت اور تعجب کا باعث بنی، اس لیے کہ ان کے پاس تو ایک دور میں اس بالادستی کے اہتمام کا اختیار موجود تھا اور وہ مذکورہ بالا مقدمہ میں اگر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار نہ دیتے، اور اس کی توثیق کا اختیار بھی ان کے پاس موجود تھا، مگر اس وقت قرآن و سنت کی بالادستی پر ان کا عقیدہ خدا جانے کونسے فریزر میں منجمد پڑا تھا کہ انہوں نے ایک جنبش قلم سے عدالتی راستہ سے نفاذِ اسلام کے سارے عمل کو بریک لگا دی۔ اور اب اتنے سال گزرنے کے بعد انہیں یاد آ رہا ہے کہ ملک میں اسلامی قوانین و نظام کے نفاذ کے لیے قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کا اہتمام ضروری ہے۔
اسلام میں توبہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا اور کوئی بھی انسان اپنی غلطی کا کسی وقت بھی (موت سے پہلے) اعتراف کر لے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے، لیکن توبہ کے لیے گزشتہ گناہ اور غلطی کے اعتراف اور معافی کی درخواست کے ساتھ ساتھ اس غلطی کی تلافی بھی ضروری ہوتی ہے، ورنہ توبہ ایک بے معنی سا عمل ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں اگر ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور وہ اس کے نتیجہ سے گلوخلاصی چاہتے ہیں تو اس کا عملی راستہ یہ ہے کہ وہ ملک کے سرکردہ ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کا ایک فورم قائم کر کے اس کی طرف سے قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دینے کی مہم چلائیں اور اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کی عملی و قانونی راہ ہموار کریں۔ تاکہ نفاذِ اسلام کا جو راستہ اُن کے ہاتھوں بند ہوا تھا وہ انہی کے ذریعے دوبارہ کھل جائے، جو یقیناً‌ ان کے لیے بھی دارین کی سعادت کا باعث ہو گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter