جرم کے اسباب اور ان کا ازالہ

   
۷ اپریل ۱۹۹۹ء

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ میں امن و امان کی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلہ میں اپنے بعض اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جرم کے وجوہ و اسباب کے ازالہ کے لیے بھی اقدامات کر رہی رہے۔

معلوم نہیں کہ میاں صاحب موصوف نے یہ بات کس پس منظر میں کہی ہے اور ان کے پیش نظر جرائم کے وجوہ و اسباب کی نشاندہی اور ان کے ازالہ کے لیے کون سے اقدامات ہیں؟ تاہم ان کی یہ بات اصولی طور پر درست ہے کیونکہ جرائم کے اسباب و وجوہ اور عوامل و محرکات کی نشاندہی اور ان کا ازالہ جرم کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے، اور اس کے بغیر محض سطحی اور سرسری کارروائیوں سے معاشرہ کو جرائم سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ وہ جرم کے وجود میں آجانے کے بعد اس پر قابو پانے کی کوشش کے بجائے اس سرچشمہ کو بند کرتا ہے جہاں سے جرم پھوٹتا ہے، اور گندگی کے اس ڈھیر کو صاف کرنے کی تلقین کرتا ہے جہاں سے جرائم کے جراثیم جنم لیتے ہیں۔ مثلاً‌ زنا جرم ہے، کم و بیش سبھی نظام ہائے حیات اور سوسائٹیاں اصولی طور پر اسے جرم تصور کرتی ہیں، اور آسمانی مذاہب تو سب کے سب اس کے جرم ہونے پر متفق ہیں، مگر اس پر قابو پانے کے انداز الگ الگ ہیں:

  1. کسی نے اس کا دائرہ محدود کر دیا کہ رضامندی کے بغیر ہو تو جرم ہے، اور دونوں کی رضامندی شامل ہو جائے تو وہ جرم نہیں رہتا۔
  2. پھر شادی شدہ عورت اگر بدکاری کی مرتکب ہوتی ہے تو اس کے خاوند کو اگر اعتراض ہے تو یہ جرم ہو گا، اور اگر اس نے چشم پوشی کر لی ہے تو قانون کی نظر میں وہ جرم نہیں رہتا۔
  3. اس کے علاوہ قانون کی طرف سے متعین عمر سے کم میں یہ عمل کر دیا جائے تو جرم ہے، اور اگر اس عمر کی حد عبور کرنے کے بعد زنا یا لواطت کا عمل کیا تو جرم نہیں ہے۔

یہ سب حد بندیاں اس لیے کرنا پڑی ہیں کہ زنا کے اسباب و دواعی بالکل آزاد ہیں، اور جو حرکات کسی شخص کو اس عملِ بد تک پہنچاتی ہیں ان پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ اس لیے جب اس جرم کی تمام صورتوں پر قابو پانا ممکن نہیں رہا تو قانون نے اپنی ذمہ داریاں کم کرنے کے لیے اس قبیح عمل کی بعض صورتوں کو جرم کے دائرے سے ہی باہر نکال دیا ہے۔ لیکن یہ نسخہ ناکام ثابت ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر چلنے والی سوسائیٹیوں میں بن بیاہی ماؤں کا تناسب دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، بغیر شادی کے اکٹھے رہنے کا رجحان ترقی پذیر ہے، پیدا ہونے والے اکثر بچوں کا باپ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ناموں کے ساتھ تعارف کے لیے باپ کی بجائے ماں کا نام لکھنے کا قانون رواج پا رہا ہے، اور اس سب کچھ کے نتیجے میں خاندانی سسٹم بکھر کر رہ گیا ہے۔

جبکہ اسلام نے اس جرم کو روکنے کے لیے اس کے اسباب پر ضرب لگائی ہے۔ مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کو ممنوع قرار دیا ہے، محرم اور غیر محرم کا رشتہ واضح کیا ہے، پردہ کی پابندی عائد کی ہے، خاندانی نظام میں عورت کے فرائض کو مرد کے فرائض سے الگ کر کے دونوں کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا ہے، اور باہمی تعلقات کار کی حدود میں تعیین کر دی ہے۔ حتیٰ کہ اس راستے کے سب سے پہلے قدم نگاہ بازی کو بھی شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا ہے تاکہ کوئی مرد یا عورت اس راستے پر چلے ہی نہیں جو بالآخر بدکاری کی منزل تک لے جاتا ہے، اور قرآن کریم نے اس عملِ بد کے ارتکاب سے منع کرنے کے بجائے اس کے قریب تک جانے سے بھی روک دیا ہے۔

یہ ایک مثال ہے اس بات کی کہ جرم کو روکنے کے لیے اس کے اسباب کی نشاندہی کیسے کی جاتی ہے اور اسباب و وجوہ کا ازالہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسلام نے اپنے سسٹم کی بنیاد اسی اصول پر رکھی ہے اور اسے معاشرتی امن اور خاندانی استحکام کا ضامن قرار دیا ہے جس کی کامیابی اور صداقت پر تاریخ شاہد ہے۔

میاں محمد شہباز شریف سے گزارش ہے کہ وہ واقعی معاشرہ کو جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کسی لمبے چوڑے تکلف کی ضرورت نہیں، بس چپکے سے اپنے سسٹم کو اسلام کے حوالے کر دیں، وہ خود ہی جرائم کے اسباب کا کھوج لگائے گا اور ان سے نمٹ بھی لے گا، اسے یہ طریقہ آتا ہے اور وہ کئی بار اس کامیاب تجربہ کو بھی دنیا کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ کیا میاں صاحب اس کے لیے تیار ہیں؟

   
2016ء سے
Flag Counter