(’’فتح مناظرۃ الکبریٰ سیمینار‘‘ سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے تو یہ پچھلے کام کی قبولیت کی علامت ہوتی ہے، ان کے ساتھ ان کے بیٹے مغیرہ اور اسامہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ وہ اپنے والد محترم کے کام کو سنبھال رہے ہیں۔ اس خوشی کے اظہار کے ساتھ، باتیں تو تقریباً ساری ہو چکی ہیں، وقت بھی اب کم ہے، اذان کا وقت ہو گیا ہے، اگر دس پندرہ منٹ کی گنجائش ہو تو حسبِ معمول دو باتیں کرنا چاہوں گا۔
پہلی بات یہ کہ ابھی حضرت مولانا سعد صدیقی صاحب اپنے انداز میں تثلیث اور توحید کی بات کر رہے تھے۔ میں ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہوں گا۔ سن ۱۹۹۰ء یا ۱۹۸۹ء کی بات ہے، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ اور میں شکاگو (امریکہ) گئے۔ ہمارے میزبان تھے ریاض وڑائچ صاحب، وہ بھی چنیوٹ کے تھے لیکن شکاگو میں کاروبار کرتے تھے۔ ہم وہاں گئے تو مجھے اطلاع ملی کہ شکاگو میں بہائیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ میری عادت ہے کہ جو کام بھی معلوم ہوتا ہے جہاں تک میری رسائی ہو خود پہنچ کر وہاں کے ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، سیکنڈری سورس پر میرا اعتماد کم ہوتا ہے۔ مندروں میں بھی جاتا ہوں، گوردواروں میں بھی جاتا ہوں۔
میں نے مولانا چنیوٹیؒ سے کہا کہ چلیں بہائیوں کا مرکز دیکھتے ہیں۔ بہائیوں کا وہ مرکز دنیا کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کون وڑن دیسی؟‘‘ (وہاں کون جانے دے گا؟) میں نے کہا حضرت، اندر نہیں جانے دیں گے تو واپس آجائیں گے۔ خیر، میں نے تیار کر لیا۔ مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ، میں اور ریاض وڑائچ صاحب، ہم تین آدمی گئے کہ وہ لوگ جو کام کرتے ہیں ان کے کام کا انداز دیکھتے ہیں۔ ہم گیٹ پر تھے کہ ریسپشن تک جانے سے پہلے وہ ہمیں پہچان گئے کہ کون کون ہیں۔ خیر، انہوں نے پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمیں ویلکم کہا۔ بہت بڑا ہال تھا اور ایک ہی چھت کے نیچے چھ عبادت خانے تھے۔
بہائیوں کا عقیدہ ہے یہ کہ سارے مذاہب ٹھیک ہیں، جیسے آج کل ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کا تصور ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے انہوں نے دیا ہے۔ انہوں نے چھ مذہبوں کے عبادت خانے ایک ہال کے اندر بنائے ہوئے ہیں۔ ایک اس کونے میں، ایک اس کونے میں۔ ایک کونے میں مسجد ہے، بالکل مسجد کی طرز پر، چٹائیاں ہیں، منبر ہے، محراب ہے، خطیب صاحب کا ڈنڈا سا کھڑا ہے، قرآن پاک کی الماری ہے۔ اسی طرح گرجا ہے، اس میں جیسے بت ہوتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے۔ ایک طرف سینیگاگ ہے یہودیوں کا، ایک طرف مندر ہے ہندوؤں کا، درمیان میں گوردوارہ ہے سکھوں کا، اور ایک طرف بدھوں کا اسٹوپا یا پگوڈا ہے۔ چھ عبادت خانے ایک چار دیواری میں اور ایک چھت کے نیچے۔ ہمیں انہوں نے بتایا کہ یہ ہم نے بنا رکھے ہیں اور سارے مذہب اکٹھے کر رکھے ہیں۔ ہم صرف سروس مہیا کرتے ہیں، کسی مسلمان کا جی چاہے تو مسجد میں آ کر عبادت کرے، ہندو مندر میں کرے، عیسائی گرجے میں کرے، یہودی سینیگاگ میں کرے، چوبیس گھنٹے کھلا ہے، کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہم صرف چائے پانی اور وقت پہ کھانا وانا یعنی سروس ہم مہیا کرتے ہیں۔ خیر، آدھ پون گھنٹہ ایک گھنٹہ ہم نے دیکھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے تاثر پوچھا کہ آپ نے کیا محسوس کیا ہے؟ انچارج جو تھے وہ انڈیا کے تھے۔ میں نے کہا، بات یہ ہے کہ آپ کی محنت کی داد تو دیتا ہوں کہ اتنا بڑا سلسلہ ہے، آپ کی محنت تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اُس کونے میں مسجد ہے مکہ کے رخ پر، دوسرے کونے میں گرجا ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہاں خدا ایک تھا، وہاں پہنچتے پہنچتے تین ہو گیا ہے، وہاں سے واپس آیا تو پھر ایک ہو گیا، درمیان میں ٹرننگ پوائنٹ کونسا ہے جہاں سے وہ عبور کرتا ہے تو ایک سے تین ہو جاتا ہے اور واپسی پر تین سے ایک ہو جاتا ہے؟ انہوں نے کہا مولوی صاحب، یہ فلسفے کے مسائل ہیں۔ میں نے کہا، نہیں۔ خدا کا ایک ہونا یا تین ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ نہیں ہے، عقیدے کا مسئلہ ہے، فلسفہ کہہ کر نہیں ٹالو۔
میں یہ عرض کروں گا کہ آج بھی یہی تناظر ہے، عقیدے کے مسائل کو فلسفے میں الجھایا جا رہا ہے۔ یہ الحاد کیا ہے، دہریت کیا ہے؟ بنیادی طور پر عقیدے کے مسائل کو وحی سے ہٹا کر فلسفے میں الجھا کر خراب کیا جا رہا ہے۔ ساری بات کے پیچھے یہی ہے۔ میں پھر دہرا کر اگلی بات کرتا ہوں کہ خدا کا ایک ہونا، دو ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ ہے یا عقیدے کا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا بھئی، فلسفے کے حوالے مت کرو ہمیں، یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور مجھے بتاؤ کہ کون سا ٹرننگ پوائنٹ ہے جہاں ایک سے تین ہو گئے تھے اور واپسی پر تین سے ایک ہو گئے، وہ جگہ مجھے نہیں مل رہی۔ خیر، یہ میرا واقعہ ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے واقعہ بیان کیا ہے تو میں نے کہا میں بھی عرض کر دوں۔
دوسری بات کہ اس سیمینار کے ذریعے حضرت مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب اور ان کے رفقاء آج کی دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ میں بھی ان کے رفقاء میں ہوں۔ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ذکر کر رہے ہیں، مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کا نام لے رہے ہیں، اور اُس دور کے اکابر کا نام لے رہے ہیں۔ میں اس میسج کو یوں تعبیر کروں گا کہ ہم آج کی دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مولانا قاسم نانوتویؒ تھے اور جہاں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ تھے۔ درمیان میں ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ تھوڑی سی تشریح کروں گا اور اس پر ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔
جس طرح ہم نے برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑی تھی، امریکہ نے بھی لڑی تھی۔ اُس دور کی کہاوتوں میں ایک کہاوت میں نے کہیں پڑھی۔ ان کی تحریکِ آزادی کے کوئی لیڈر تھے، کسی ہال میں خطاب کر رہے تھے تو ان کو تقریر کے دوران گرفتار کر لیا گیا، اسٹیج سے پکڑا اور جیل میں لے گئے۔ ایک سال جیل میں رہے یا دو سال رہے، جب جیل سے رہا ہوئے تو سیدھے اُس ہال میں گئے، اسٹیج پر چڑھے، روسٹرم پہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: حضرات! جیسا کہ میں عرض کر رہا تھا، میں اپنی بات پوری کر رہا ہوں۔
ہم بھی آج کی دنیا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ جیسا کہ ہم عرض کر رہے تھے، ہم وہیں سے بات شروع کرتے ہیں، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ اور میں دو تین مثالیں دوں گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
(۱)انگریز لوگ آئے تھے اور ہماری معیشت پر قبضہ کر لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کیا تھی؟ اُس وقت کی آئی ایم ایف تھی۔ آئی ایم ایف کیا ہے؟ آج کی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا، اشارہ کافی ہے۔ پھر تم نے ملک پر ہی قبضہ کر لیا تھا ۱۸۵۷ء میں۔ تم نے تین چار تبدیلیاں کرنا چاہی تھیں اور اپنی طرف سے کر دی تھیں۔ تم نے ہم سے آزادی سلب کر لی تھی اور فیصلوں کا اختیار سلب کر لیا تھا۔ آج دوست کہتے ہیں کہ ہم استعمار سے آزاد ہو گئے ہیں۔ ہم آزاد نہیں ہوئے۔ استعمار سے آزادی کا لیبل ہم پہ لگا دیا گیا جبکہ پون صدی سے زیادہ عرصے سے ہم ریموٹ کنٹرول غلامی میں ہیں۔ ہماری پالیسیاں پون صدی سے کون کنٹرول کر رہا ہے؟ کیا ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں؟ ہمیں کون کنٹرول کر رہا ہے؟ صرف تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ پہلے یہ غلامی ریموٹ کنٹرول تھی، آج یہ غلامی روبوٹ کنٹرول ہے۔ اور یہ تبدیلی نظر آ رہی ہے؟ پہلے غلامی ریموٹ کنٹرول ہوتی تھی کہ کسی کو نظر آتا تھا، کسی کو نہیں۔ آج کی تبدیلی اور آج کی غلامی ریڑھی والے کو بھی پتہ ہے، کسی بازار میں پھیری والے سے پوچھیں تو اس کو بھی پتہ ہے کہ کون چلا رہا ہے اور کون اس کے اشاروں پرچل رہا ہے۔
ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں اور اپنی آزادی بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں ۱۸۵۷ء میں ہمارے بزرگ کھڑے تھے۔
(۲) تم نے ایک تبدیلی اور کی تھی۔ ملک کے نظامِ تعلیم میں تبدیلی کر کے نئے نظامِ تعلیم سے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے تھے۔ یہ درسِ نظامی اورنگزیب عالمگیر کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے سوا سو سال یہی درسِ نظامی تھا۔ آج جو کالج کے مضامین ہیں وہ بھی، اور مدرسے کے مضامین بھی، ہم دونوں اکٹھے پڑھاتے تھے۔ اسی تپائی پہ مشکوٰۃ پڑھاتے تھے، اسی تپائی پہ اقلیدس پڑھاتے تھے۔ اسی کلاس روم میں ہدایہ پڑھاتے تھے، اسی کلاس روم میں طب پڑھاتے تھے، میڈیکل پڑھاتے تھے، ریاضی پڑھاتے تھے، معقولات پڑھاتے تھے، فلسفہ پڑھاتے تھے۔
انگریز آئے، انہوں نے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے۔ قرآن پاک کی تفسیر نکال دی، حدیث و سنت نکال دیے، فقہ و شریعت نکال دیے، عربی اور فارسی نکال دیں۔ ہم نے کیا کیا؟ جو مضامین تم نے نکال دیے تھے وہ ہمارے بزرگوں نے سنبھال لیے کہ تم نہیں پڑھاتے تو ہم پڑھائیں گے۔ یہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہیے کہ جو مضامین انہوں نے نکالے تھے ۱۸۵۷ء کے بعد، ہمارے بزرگوں نے یہ کہہ کر سنبھال لیے کہ ہم روکھی سوکھی کھائیں گے لیکن یہ مضامین باقی رکھیں گے۔
ہمارا مدرسہ کیا تھا؟ مسجد کی چٹائیاں، محلے کی روٹیاں، پڑھانے والا استاذ۔ ایک سو سال تک عام طور پر مدرسہ اس طرح رہا ہے، بلڈنگیں تو بعد میں بنی ہیں۔ میں نے وہ مدرسہ دیکھا بھی ہے، وہاں پڑھا بھی ہے اور روٹیاں بھی مانگی ہیں، الحمد للہ مجھے اس پر فخر ہے۔ مجھے آج بھی وہ گھر یاد ہیں جہاں سے روٹیاں لایا کرتا تھا۔ طلبہ مسجد میں سو جاتے تھے اور محلے سے روٹیاں مانگ کر لاتے تھے۔ اس پر ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔ نصرۃ العلوم میں سن ۱۹۵۸ء کی بات ہے، میں حضرت قاری محمد یاسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے قرآن پاک یاد کیا کرتا تھا۔ ہم محلے سے روٹیاں لاتے تھے۔ میں دس بارہ سال کا تھا۔ ہم پانچ چھ بچے تھے، ہمارے ذمے تھا محلے روٹیاں لاؤ۔ ضابطۂ اخلاق یہ تھا کہ ڈول میں سے اور روٹی میں سے کوئی شے نہیں نکالنی، سارا جمع کرانا ہے، یہاں سے ملے گا جو ملے گا۔ البتہ کسی گھر میں اگر کھانا نہیں پکا ہوتا تھا تو وہ دو آنے یا چار آنے دیا کرتے تھےکہ ’’درویش! روٹی نہیں پکی، یہ لو‘‘۔ اُس زمانے کے دو آنے چار آنے آج کل کے دو اڑھائی سو روپے تو ہوں گے۔ وہ ہمارے ہوتے تھے۔ ضابطۂ اخلاق کے مطابق روٹی سالن ہم نے پورا لا کر جمع کروانا ہے، اور اگر نقد چار پیسے مل گئے تو وہ ہمارے حق ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم کسی بڑے گھر میں روٹی لینے کے لیے جا رہے ہوتے تو دعا کرتے جاتے تھے، یا اللہ اس گھر میں روٹی نہ پکی ہو۔
خیر، یہ مدرسہ ہم نے سنبھالا ہے۔ اب بات ہو رہی ہے مضامین کو اکٹھا کرنے کی کہ دونوں کو اکٹھا کرو۔ ہم نے کہا، ٹھیک ہے کر لیتے ہیں۔ جو سبجیکٹ تم نے تعلیمی نصاب سے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو اکٹھا ہو جائے گا۔ تبدیلی ہم نے تو نہیں کی۔ مضامین ہم نے نکالے تھے یا تم نے نکالے تھے؟ ہم تو اکٹھا پڑھاتے تھے، ریاضی بھی پڑھاتے تھے، سائنس بھی پڑھاتے تھے۔ اصطلاح کا فرق ہے۔ ہم سائنس پڑھاتے تھے فلکیات کے نام سے، تم فلکیات پڑھاتے ہو سائنس کے نام سے۔ ہم میڈیکل پڑھاتے تھے طب کے نام سے، تم طب پڑھاتے ہو میڈیکل کے نام سے۔ جو مضامین تم نے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو بات ختم ہو جائے گی۔ وہ تو تم واپس نہیں لے رہے، تم تو ترجمہ قرآن پاک کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہو، ہم سے کیا مطالبے کر رہے ہو؟
میں نے اسلام آباد کے ایک سیمینار میں کہا کہ کیا کالج ترجمہ قرآن پاک پڑھنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے؟ اگر اکٹھا کرنا ہے تو درسِ نظامی پہ واپس آجاؤ۔ وہ درسِ نظامی جو ملا نظام الدین نے دیا تھا۔ تمہارا فارمولا ہم سمجھتے ہیں کہ کیا ہے، وہی جو ہم نے بہاولپور یونیورسٹی میں تجربہ کر لیا ہے۔ میں تفصیل نہیں دہراؤں گا۔ تمہارا فارمولا یہ ہے کہ ایک امریکی ریسٹورنٹ کے دروازے پہ لکھا تھا کہ یہاں گھوڑے اور خرگوش کا گوشت مکس پکایا جاتا ہے۔ لوگ آتے تھے اور کھاتے تھے۔ کوئی ہمارے جیسا سرپھرا بھی چلا گیا، کاؤنٹر پہ جا کر پوچھا، یہاں گھوڑا بھی پکتا ہے اور خرگوش بھی؟ کہا، جی۔ کیا فارمولا ہے آپ کا؟ جی، برابر برابر، ایک گھوڑا اور ایک خرگوش۔ اس نے کہا، یہ تو نہیں چلے گا۔
ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ فارمولا ان شاء اللہ نہیں چلے گا۔ برابر کرنا ہے تو ۱۸۵۷ء سے پہلے کی پوزیشن پر واپس آجاؤ، ہم حاضر ہیں۔ لیکن ایک گھوڑا اور ایک خرگوش کا فارمولا نہیں چلے گا اور نہیں چلنے دیں گے ان شاء اللہ۔
(۳) ایک بات تم نے اور کی تھی۔ قرآن پاک نے شیطان کی ایک صفت بیان کی ہے ’’یا بنی اٰدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما‘‘ (الاعراف ۲۷)۔ لباس اتروانا کس کا کام تھا؟ شیطان کا۔ تم نے ہمارا لباس تبدیل کرنا چاہا، ہم آج بھی شلوار قمیص میں کھڑے ہیں، پونے دو سو سال کے بعد ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں، تم ہمارا لباس نہیں اتروا سکے۔ یہ تہذیب کی جنگ ہے، ثقافت کی جنگ ہے۔ بڑی جنگ ہوئی ہے ثقافت کے نام پر، سولائزیشن کے نام پر۔ الحمد للہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ امریکہ بھی جاتا رہا ہوں، برطانیہ بھی جاتا رہا ہوں، ہانگ کانگ بھی گیا ہوں، اسی لباس میں گھوما پھرا ہوں۔ ہماری تہذیب نہیں بدل سکے، پورا زور لگا لیا تم نے لیکن ہماری ثقافت نہیں بدل سکے، ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں جس میں ۱۷۵۷ء میں تھے۔
(۴) ایک بات اور کہ تم نے ملک کا قانون تبدیل کر دیا تھا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے ملک کا قانون کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ تھی، فتاویٰ عالمگیری کی صورت میں۔ فتاویٰ عالمگیری کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ کی احناف کی تعبیر تھی۔ ملک میں قانون کس کا نافذ تھا؟ شریعت کا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بھی شریعت کا قانون نافذ تھا۔ تم وہ قانون منسوخ کر کے برٹش لاء لے کر آئے۔ ہم نے فیصلہ تو پاکستان بننے کے بعد ہی کر لیا تھا کہ یہ برٹش لاء نہیں چلے گا اور شریعت آئے گی۔ تم رکاوٹیں ڈال رہے ہو۔ ہم وہیں کھڑے ہیں شریعت پر اور قرآن و سنت پر۔ ہم نے برٹش لاء کو کل بھی نہیں مانا تھا، آج بھی نہیں مانیں گے۔
(۵) اور پانچواں، عقیدے کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔ ۱۸۵۴ء والے مناظرۃ الکبریٰ کے ماحول ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر رہا تھا، عقائد کے اعتبار سے اور عقائد کی تعبیرات کے حوالے سے۔ آج جدید فکر و فلسفہ کے نام سے بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن کیا امت نے قبول کیا ہے، عقائد بدلے ہیں، تعبیرات بدلی ہیں؟
یہ پانچ باتیں میں دہرا دیتا ہوں: (۱) معاشی آزادی اور سیاسی آزادی کے حوالے سے ہم ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۲) تعلیمی نظام کے حوالے سے بھی ہم ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۳) تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بھی ہم وہیں ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۴) نظام اور قانون کے حوالے سے بھی ۱۸۵۷ء میں کھڑے ہیں (۵) اور عقائد اور تعبیرات کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔
اِس سیمینار کا آج کی دنیا کو پیغام یہ ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، ہم وہیں کھڑے ہیں اور وہیں کھڑے رہیں گے، تمہیں واپس جانا ہو گا، ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

