صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ۲۰۱۸ء کے دوران امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، انہی دنوں مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ایک نشست میں اس پر گفتگو کا موقع ملا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
بیت المقدس، جسے القدس بھی کہتے ہیں اور عبرانی زبان میں اسے یروشلم کہا جاتا ہے، فلسطین کا وہ تاریخی شہر ہے جس پر صدیوں سے بین الاقوامی تنازعہ جاری ہے اور آج بھی قائم ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت سے پہلے تقریباً دو ہزار سال کے لگ بھگ یہاں یہودیت کا غلبہ رہا۔ یہود پر تورات نازل ہوئی جو اُن کی دینی بنیاد یعنی شریعت بنی۔ قرآن کریم نے اس پورے نظام اور اس کی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’انآ انزلنا التوراۃ فیہا ہدی و نور یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا والربانیون والاحبار بما استحفظوا من کتاب اللہ‘‘ (المائدۃ ۴۴)۔
قرآن پاک میں بیت المقدس کا ذکر مختلف حوالوں سے آیا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کے محراب کا ذکر بھی اسی سرزمین سے متعلق ہے اور حضرت زکریا علیہ السلام کے محراب کا ذکر بھی۔ ’’کلما دخل علیہا زکریا المحراب‘‘ (آل عمران ۳۷)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بھی بیت المقدس کے قریب بیت اللحم میں ہوئی، جو چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ قرآن کریم نے اس واقعے کو یوں بیان فرمایا: ’’واذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذت من اہلہا مکانا شرقیا فاتخذت من دونہم حجاباً فارسلنآ الیہا روحنا‘‘ (مریم: ۱۶، ۱۷)۔
بعد میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا تو اس وقت کی تاریخ کا عمومی منظر یہ تھا کہ اکثر یہودیوں نے آپ کو تسلیم نہیں کیا تھا اور ان کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ چنانچہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے وہ مسیحی کہلائے اور جو انکار پر قائم رہے وہ یہودی رہے۔ اس معاملے میں یہودیوں اور عیسائیوں کا باہمی اتفاق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں سولی دی، جبکہ عیسائی کہتے ہیں کہ انہوں نے انسانیت کے گناہوں کا کفارہ دینے کے لیے سولی قبول کی۔
عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی کے بعد وفات پا گئے، تین دن قبر میں رہے، پھر دوبارہ زندہ کیے گئے اور اس کے بعد زندہ آسمانوں پر اٹھا لیے گئے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے، لیکن اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا آپ علیہ السلام سولی پر چڑھے تھے یا نہیں۔ عیسائی کہتے ہیں کہ سولی اور وفات کے بعد دوبارہ زندہ کیے گئے، جبکہ یہ مسلمان عقیدہ رکھتے ہیں ’’و ما قتلوہ و ما صلبوہ و لکن شبہ لہم‘‘ اور پھر ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ (النساء ۱۵۷، ۱۵۸) یعنی نہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تقریباً پانچ صدیاں بیت المقدس پر عیسائیوں کا کنٹرول رہا۔ اس دور میں یہودیوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں تھی اور اُن کی عبادت گاہ، جسے ہیکل سلیمانی یا بیت المقدس کہا جاتا تھا، مسمار کر دی گئی تھی بلکہ نفرت کے اظہار کے طور پر وہاں گندگی تک ڈال دی گئی تھی۔ بعد میں یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آیا۔ اُس وقت حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراح رضی اللہ عنہ شام کے علاقے میں جہاد کی قیادت کر رہے تھے۔ دمشق کی فتح میں تین عظیم جرنیل نمایاں تھے: حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت یزید بن ابی سفیانؓ۔ بعد میں حضرت عمرؓ نے حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ یہ یزیدؓ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی تھے، ان کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا گیا۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں اسرائیلی ریاست وجود میں آئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں اپنے عروج کو پہنچی۔ دونوں باپ بیٹا نہ صرف بادشاہ تھے بلکہ اللہ کے پیغمبر بھی تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وہ دعا قرآن میں مذکور ہے: ’’قال رب اغفر لی وہب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوہاب‘‘ (ص ۳۵) یعنی اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ واقعی حضرت سلیمان علیہ السلام جیسی حکومت کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس زمانے میں اسرائیلی سلطنت دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی تھی۔
اسرائیل کے نام سے آج کی جو ریاست ہے، اس کی بنیاد اسی تاریخی اسرائیلی ریاست کے تصور پر ہے۔ موجودہ یہودی فکر میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا جو منصوبہ ہے اس کی بنیاد اس دعویٰ پر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کی وہی وسیع سلطنت ان کا حق ہے۔ اس کے نقشہ میں مصر، شام، اردن اور عراق کے علاوہ جزیرۂ عرب کے علاقے بھی شامل ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں موجود یہودی قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو وہاں سے نکالا گیا تھا اور خیبر کا علاقہ بھی ان سے چھینا گیا تھا اس لیے وہ ان علاقوں کو بھی اپنی تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
بیت المقدس کے حوالے سے آج کے دور میں جو تنازعہ ہے اس میں صرف مسلمان اور یہودی ہی فریق نہیں بلکہ عیسائی بھی خود کو اس معاملے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ عیسائی بیت اللحم کو اپنے لیے مقدس مقام قرار دیتے ہیں، یہودی ہیکل سلیمانی کے حوالے سے دعویٰ رکھتے ہیں، جبکہ مسلمان مسجد اقصیٰ کی بنیاد پر بیت المقدس کو اپنا دینی مرکز سمجھتے ہیں۔ عالم اسلام اسرائیل کے بیت المقدس پر قبضے کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی بھی اسے قبول نہیں کرتے، جبکہ اقوام متحدہ کا سرکاری موقف ہے کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے۔ اصل جھگڑا یہی ہے کہ اسرائیل کہتا ہے کہ بیت المقدس مکمل طور پر ہمارا ہے، مسلمان کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اسے متنازعہ علاقہ قرار دیتی ہے۔ اس کو متنازعہ قرار دینے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عیسائی دنیا خود کو بھی اس تنازعہ کا فریق سمجھتی ہے۔
چنانچہ بین الاقوامی سطح پر ایک تجویز یہ زیر بحث رہی ہے کہ بیت المقدس کو ’’اوپن سٹی‘‘ یعنی آزاد شہر قرار دیا جائے، ویٹی کن سٹی کی طرز پر، اور اس کا انتظام تینوں مذاہب کے مشترکہ بورڈ یا اوقاف کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی سب شامل ہوں۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ بیت اللحم الگ مقام ہے، مسجد اقصی الگ دائرے میں واقع ہے، اور وہ مقام جہاں یہودی ہیکل سلیمانی کی تعمیر چاہتے ہیں وہ بھی الگ حصہ ہے، البتہ تنازعہ ایک ایسے گوشے پر ہے جہاں یہ حدود آپس میں ملتی ہیں اور یہی وہ حساس نقطہ ہے جس پر کشمکش جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں زیر بحث فارمولہ بھی اسی بنیاد پر ہے کہ اس شہر کو مشترکہ نگرانی میں دے دیا جائے۔
امریکہ طویل عرصے سے یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا جائے۔ ماضی میں جارج بش (جونیئر) کے دور میں بھی ایسی کوشش ہوئی اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی یہی معاملہ دوبارہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جو قرارداد آئی ہے اس میں ٹرمپ کے اس اعلان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی بات کی گئی ہے۔
یہ میں نے آپ کے سامنے خلاصہ عرض کیا ہے کہ بیت المقدس کا مسئلہ اور اس کا پس منظر کیا ہے، تنازعہ کن اقوام کے درمیان ہے ، اور اس وقت کی معروضی صورتحال کیا ہے۔

