(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
ہمارے یہ دینی مدارس آپ کے سامنے ہیں، آپ کے درمیان کام کرتے ہیں اور آپ کے تعاون سے چلتے ہیں۔ ان دینی مدارس کے بارے میں وقتاً فوقتاً شوشے چھوٹتے ہی رہتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ دینی مدارس جو کام کر رہے ہیں ان پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ابھی ہمارے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب کی طرف سے ایک بڑی خوبصورت سی بات سامنے آئی ہے کہ ہم دینی مدارس کو ملک کے نظامِ تعلیم کے اجتماعی دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ دیکھنے میں بہت خوبصورت بات ہے کہ جس طرح ملک کا باقی اجتماعی دھارا ہے، دینی مدارس اس سے الگ کیوں چلتے ہیں؟ انہیں بھی اجتماعی دھارے میں شامل ہونا چاہیے۔ میں اس پر صرف ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بھئی اگر دینی مدارس نے بھی اسی نظامِ تعلیم کے اجتماعی دھارے میں ہی شامل ہونا ہے تو پھر ان دینی مدارس کی ضرورت کیا ہے؟ اگر دینی مدارس نے بھی وہی کام کرنا ہے جو اسکولز اور کالجز کر رہے ہیں تو کیا ان کے الگ وجود کی کوئی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ ارے بھئی جن لوگوں نے یہ دینی مدارس کا سلسلہ شروع کیا تھا، اسی لیے کیا تھا کہ ان کا کام اسکولز اور کالجز سے الگ ہے۔ جن لوگوں نے چندے مانگ کر، محلے کے گھروں سے روٹیاں مانگ کر یہ الگ مدرسے اس لیے بنائے تھے کہ جو کام اسکولز اور کالجز نہیں کر رہے تھے، اس کام کے لیے الگ دینی مدارس کا قیام ضروری تھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ مدارس بھی وہی کچھ کرنے لگ گئے جو اسکولز اور کالجز کر رہے ہیں تو کیا معاشرے میں دین کی روایتی تعلیم کا کوئی نظم باقی رہ جائے گا؟ ہمیں اسکولز اور کالجز کے کام کی اہمیت سے انکار نہیں ہے لیکن پھر معاشرے میں قرآنی علوم، حدیث و سنت اور اسلامی کی روایتی تعلیم کا کوئی اہتمام کون کرے گا؟ ارے بھئی خدا کے لیے ہمیں اپنے حال پر رہنے دو اور ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ ہمیں ’’اجتماعی دھارے‘‘ میں شامل ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے، تمہارا اِجتماعی دھارا تمہیں مبارک ہو، تم اپنا کام اطمینان سے کرتے رہو۔ لیکن جو کام اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمے لگایا ہے، مسجد کی چٹائی پر بیٹھ کر، لوگوں سے چندے مانگ کر، قرآن پڑھانا، حدیث پڑھانا، ہمیں یہی کام سوٹ کرتا ہے۔ اللہ تعالی ٰ ہمارے لیے یہی کام مبارک کرے۔ آمین۔
میں نے یہ بات عرض کی ہے کہ دینی مدارس، جو یہاں گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے چل رہے ہیں، آخر کسی ضرورت کے تحت ہی چلے ہیں۔ اور پھر اگر یہ بھی وہی کام کرنے لگ جائیں گے تو ہماری مسلمان نسلوں کو دینی تعلیم کون دے گا؟ اس لیے یہ بات سمجھ جائیں کہ دینی مدارس کا نظام اسکولز اور کالجز کے سسٹم سے الگ ہے، لہٰذٰا مہربانی فرماتے ہوئے اسے الگ ہی رہنے دیجیے۔ ہم یہ بات سمجھ رہیں کہ آپ کو ہمدردی ہے کہ معاشرے میں مولوی صاحبان کا اسٹیٹس بلند نہیں ہوتا، ان کی ملازمتیں محفوظ نہیں ہوتیں وغیرہ۔
ادب کی کتابوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ کسی بادشاہ کا ایک باز تھا، وہ غلطی سے کسی کٹیا میں جا پڑا، ایک بڑھیا نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ عجیب سا پرندہ ہے، چھوٹا سا جسم ہے اور اس کے اتنے لمبے لمبے پَر ہیں۔ بڑھیا نے سوچا کہ یہ بیچارہ پرندہ اڑتا کیسے ہوگا؟ باز بہت چھوٹا سا پرندہ ہوتا ہے لیکن اس کے پَر اس کی جسامت کے لحاظ سے بہت لمبے ہوتے ہیں۔
- بڑھیا نے سوچا پرندے کے لیے تو بہت مشکل ہوتی ہو گی، اس نے قینچی پکڑی اور باز کے پَر کاٹ دیے تاکہ اسے اڑتے وقت پَروں کا اتنا زیادہ بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔
- پھر اس کا دھیان پڑ گیا باز کی چونچ پر۔ کہنے لگی، اتنی ٹیڑھی چونچ، یہ دانہ کیسے چگتا ہوگا؟ اس نے قینچی پکڑی اور چونچ بھی کاٹ دی۔
- پھر اس کی نظر پڑی اس کے پنجوں کی طرف پڑی۔ کہنے لگی اوہو اتنے لمبے لمبے ناخن، یہ بیچارا بیٹھتا کیسے ہوگا، اس نے باز کے ناخن بھی کاٹ دیے۔
بادشاہ کے کارندے باز تلاش کرتے کرتے وہاں پہنچ آئے، دیکھا کہ باز کے پَر بھی کٹے ہوئے ہیں، ناخن بھی اترے ہوئے ہیں اور چونچ بھی کٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے بڑھیا سے پوچھا، یہ کیا؟ بڑھیا نے کہا، خدا کے بندو! تم نے یہ معصوم جانور تو رکھا ہوا ہے لیکن اس کے دیکھ بھال تو کیا کرو۔ نہ تم لوگوں نے کبھی اس کے ناخن کاٹے، اس کے پَر بھی اتنے لمبے لمبے ہوگئے تھے اور چونچ بھی ٹیڑھی۔ اب یہ میرے پاس آیا ہے تو میں نے اس کی ساری چیزیں سیدھی کی ہیں۔ بادشاہ کے کارندوں نے کہا، بڑھیا! تم نے تو بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔
میں بھی چیف ایگزیکٹو صاحب سے بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ باز کو باز ہی رہنے دیں، اس کی دیکھ بھال کر کے اسے چڑیا نہ بنائیں۔ اس کا حسن اس کی ٹیڑھی چونچ میں ہی ہے، لمبے لمبے پَروں میں ہے اور لمبے لمبے ناخنوں میں ہے۔ اگر یہ چیزیں کٹ جائیں گی تو یہ باز نہیں رہے گا میمولہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے قومی لیڈروں کو سمجھ عطا فرمائیں۔ آمین۔

