(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج کل پورے صوبے میں، پورے علاقے میں ہم پر بسنت کا دورہ چڑھا ہوا ہے، ہم بسنت کے نشے میں مست ہیں۔ آج کے اخبارات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ ہائیکورٹ میں ہمارے حکمرانوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نہ ہمیں بسنت پر پابندی لگانے کا اختیار ہے، نہ عدالت کو۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے ہائیکورٹ میں ایک رٹ میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ ہم بھی کسی قانون کی تحت بسنت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے، اور عدالت کے پاس بھی کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ بسنت کو روک سکیں۔ یعنی ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور رکاوٹ کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اس کے ساتھ آپ لاہور شہر میں ایک ہی دن ہونے والے واقعات کی خبریں بھی پڑھ چکے ہوں گے جن میں سے ایک خبر یہ ہے کہ باپ کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تین سال کے معصوم بچے کی ڈور کے ساتھ گردن کٹی اور اس کا باپ اپنے بیٹے کی زندگی بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور بچہ اس کے ہاتھوں میں دم دے گیا۔ دوسری خبر میں ایک نوجوان مارکیٹ کی چھت پر چڑھ کر پتنگ لوٹنے کے چکر میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ اسی دن ایک نوجوان چھت پر کھڑا تھا، کہیں سے گولی آکر سر میں لگی جس سے وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اور ایڈووکیٹ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس بسنت پر پابندی لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ دو کتوں کو آپس میں مت لڑاؤ کہ جاندار کی جان ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دو مرغوں کو آپس میں مت لڑاؤ کہ اس میں جانداروں کی جان کو خطرہ ہے، بھیڑیے اور ریچھ کو آپس میں مت لڑاؤ کہ جان کا خطرہ ہے۔ جناب نبی کریمؐ تو کتے کی، مرغے کی، بھیڑیے کی، ریچھ کی جان کی بات کر رہے ہیں کہ اپنے شوق کی تسکین کے لیے ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالو، جبکہ ہمارے حکمرانوں کو تین سال کا معصوم بچہ، اٹھارہ سال کا نوجوان اس بسنت کے نشے کی بھینٹ چڑھتا ہوا نظر نہیں آتا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں بندھ گئی ہیں، انہیں انسانوں کی جانیں ضائع ہوتی نظر نہیں آتیں۔
اب بسنت کا یہ عذاب ہمارے شہر میں تئیس تاریخ کو آئے گا، اور اسی طرح باقی شہر بھی اپنے اپنے وقت میں اسے بھگتیں گے۔ بھئی یہ سراسر ناجائز ہے اور شرعاً ناجائز ہے۔ تمہارے پاس یہ قانون ہو یا نہ ہو، شریعت کا قانون یہ ہے کہ جس چیز سے کسی کی جان کو خطرہ ہو وہ حرام ہے۔ اس لیے اس قوم کے معصوم بچوں اور نوجوانوں پر ترس کھاؤ۔ اور ویسے بھی ہم جشن کس بات پر منا رہے ہیں؟ جشن تو کسی فتح پر ہوتا ہے، کسی کامیابی پر، کسی خوشی پر۔ کس بات پر ہم یہ جشن منا رہے ہیں؟
- کیا اس بات پر یہ جشن منایا جا رہا ہے کہ ہم امریکہ کے غلام ہیں؟
- یا ہم نے اپنی قوم کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ہوا ہے؟
- یا ہم آزادی کے پچاس سال گزرنے کے باوجود ہندؤوانہ رسوم سے آزادی حاصل نہیں کر سکے؟
میں آپ لوگوں کی وساطت سے یہ اپیل کروں گا کہ حکمرانو! خدا کا خوف کرو کہ تمہاری زبان سے کوئی انصاف کی بات بھی نکل آئے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس خرافات پر پابندی لگاؤ، یہ جان کے نقصان کا باعث ہے، مال کے نقصان کا باعث ہے، اس کی ہماری شریعت میں، ہمارے ملک میں، ہمارے ماحول میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

