مسلمانانِ افغانستان و پاکستان کے لیے ایک کڑی آزمائش

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۶ جنوری ۲٠٠۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آج ان غریب طالبان کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کی ثقافتوں میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلچر کو قبول کرتے ہیں اور ابوجہل کے کلچر کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم ناچ گانے کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم سود اور شراب کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم جوے اور فحاشی کو تسلیم نہیں کرتے۔ آج جو کفر کی دنیا متحد ہو گئی ہے افغانستان کی ناکہ بندی پر، اقتصادی پابندیوں پر، ان کا گھیراؤ کرنے پر، انہیں بھوکا مارنے پر، اور صرف دنیائے کفر نہیں بلکہ دنیائے منافقت بھی متحد ہے۔ طالبان کا امتحان تو ہوگا ہی، اور ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اس امتحان میں سرخرو ہوں گے ’’فلیعلمن اللہ الذین صدقوا ولیعلمن الکاذبین‘‘ (العنکبوت ۳) یہ آزمائش صرف طالبان کی نہیں ہے بلکہ یہ آزمائش پوری دنیائے اسلام کی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ایک معرکے کا ذکر کیا ہے۔ جالوت اپنے زمانے کا بہت جابر حکمران تھا، اُس نے بہت بڑی قوت اکٹھی کر رکھی تھی۔ اہلِ ایمان مقابلے پر آئے، حضرت طالوتؑ مسلمانوں کے بادشاہ مقرر ہوئے۔ حضرت طالوتؑ کی فوج میں بھی بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ جو لڑ سکتے تھے وہ بھی، اور جو نہیں لڑ سکتے تھے وہ بھی۔ جن میں لڑنے کا حوصلہ تھا وہ بھی اور جن میں حوصلہ نہیں تھا وہ بھی۔ اور جنگ کا اصول یہ ہے کہ بے حوصلہ لوگ جنگ میں حوصلے والے لوگوں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے راستے میں ہی چھانٹی کا فیصلہ کر لیا کہ بندے وہ چاہئیں جو سامنا کر سکیں، جن میں مقابلے کا حوصلہ ہو، چیلنج قبول کرنے کا اور چیلنج دینے کا، زخم کھانے کا اور زخم دینے کا، باقی لوگ تو لشکر کو خراب کریں گے۔ ’’قال ان اللہ مبتلیکم بنھر‘‘۔

حضرت طالوتؑ کی کمان میں مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر جالوت سے لڑائی کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں ایک نہر آگئی۔ دوپہر کا وقت تھا، گرمی کا موسم اور پیدل سفر تھا۔ حکم ہوا کہ نہر سے گزرنا ہے لیکن پانی نہیں پینا۔ ’’فمن شرب منہ فلیس منی‘‘ اس دوپہر کی تپتی دھوپ میں اور پیاس کی شدت میں جو نہر کا پانی پیے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، ’’الا من اغترف غرفۃ بیدہ‘‘ ہاں البتہ ایک آدھ گھونٹ حلق تر کرنے کے لیے پی سکتے ہیں۔ اب ہزاروں کی تعداد میں لشکر نہر سے گزر رہا ہے اور جب نہر کے پار پہنچے تو صرف ۳۱۳ باقی بچے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالمو! جو پانی کے چار گھونٹوں سے صبر نہیں کر سکے، وہ میدانِ جنگ کی اذیتیں کیسے برداشت کر سکیں گے، اس لیے تم لوگ یہیں رہو، لڑنا تمہارا کام نہیں ہے۔ لڑنا ان کا کام ہے جو بھوک پیاس برداشت کر سکیں۔ جب لشکر آیا تھا تو ہزاروں کی تعداد میں تھا، جب نہر پار کی تو حضرت طالوتؑ کی قیادت میں صرف ۳۱۳ رہ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے طالوتؑ کے ان تین سو تیرہ لوگوں کو جالوت کے اسّی ہزار کے لشکر سے لڑوایا اور فتح عطا فرمائی۔ ’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ‘‘ (البقرۃ ۲۴۹)۔ اللہ چاہے تو چھوٹے سے گروہ کو بڑے بڑے لشکروں پر فتح عطا فرما دیتے ہیں۔

آج بھی افغانستان پر جو پابندیاں لگی ہیں، یہ طالبان کے لیے تو امتحان ہے ہی، وہ بھی بیچارے بھوکے پیاسے رہیں گے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھانٹی بھی ہوگی۔ اس پورے سلسلے میں تمام دنیائے اسلام میں چھانٹی ہو جائے گی، جو اس امتحان اور آزمائش میں پورا اترے گا، وہ اسلام کے اگلے لشکر کا سپاہی ہوگا۔ اور کون منافقت اور بے صبری کا شکار ہوتا ہے، وہ وہیں پڑا رہے گا۔ اب میرے اور آپ کے سوچنے کی بات یہ ہے کہ میرا اور آپ کا شمار وہیں پڑے لوگوں میں نہ ہو بلکہ طالوت کے ساتھ جانے والے لوگوں میں ہو۔ اللہ کے ہاں فتح تو طے شدہ بات ہے، دنیا یاد رکھے گی کہ آج کے فرعون کا حشر کیا ہوا ہے، ان شاء اللہ العزیز۔ اصل آزمائش تو ہماری ہے کہ ہم میں سے طالوت کے ساتھ کون لوگ جاتے ہیں اور پانی پی کر نہر کے کنارے کون پڑے رہتے ہیں۔

حضرات محترم! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کھلی اور اعلانیہ جنگ ہے، طالبان پر پابندیوں کی صورت میں امریکہ نے عالمِ اسلام کے خلاف، دین کے خلاف، دینی قوتوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ اس لیے ہماری غیرت کا تقاضا ایک تو یہ ہے کہ ہم ہر سطح پر طالبان کی حمایت کریں، اپنا ایمان مضبوط رکھیں، اپنے ذہن و فکر کا رخ صحیح رکھیں اور اپنا قبلہ صحیح رکھیں۔ آج الحمد للہ پورے ملک کی دینی قوتیں طالبان کی حمایت پر اور امریکہ کے سامراجی عزائم کے مقابلے پر متحد ہیں۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دینی قوتوں کو متحد رکھے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کی حمایت بھی کرتے ہیں، یہ بھی ایک محاذ ہے اور ہماری غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم اس محاذ پر بھی بھرپور مقابلہ کریں اور اپنے آپ کو ایسی مصنوعات کے استعمال سے روکیں جن کا مالی فائدہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو ہمارے دینی تشخص کی بربادی پر تلے ہوئے ہیں۔ جن چیزوں سے پیسے کما کر امریکہ عراق پر گولے برساتا ہے، جن چیزوں سے پیسے کما کر امریکہ افغانستان کے خلاف اقدامات کرتا ہے، جن چیزوں سے پیسے کما کر امریکہ ہمارے خلاف ہتھیار استعمال کرتا ہے، کیا ایسی اَشیا کو استعمال میں لا کر امریکہ کو فائدہ پہنچانا ہماری غیرت کا جنازہ نہیں ہے؟ میری آپ سے اپیل ہے کہ خود بھی اس مہم کا ساتھ دیں اور دوسرے دوستوں کو بھی تیار کریں اور دھیرے دھیرے اس مہم کو اتنا منظم کر دیں کہ امریکہ اس ملک سے اسی طرح بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہو جس طرح برطانیہ نے سمیٹا تھا اور جیسے روس نے افغانستان سے سمیٹا تھا، اور ان شاء اللہ العزیز ایسا ہوگا۔

2016ء سے
Flag Counter