(مدرسہ تعلیم القرآن، لنگرکسی، بھوربن، مری میں عالمی تحریکِ خدام الدین کے سالانہ اجتماع کی ایک نشست سے خطاب کا خلاصہ۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری کا شکرگزار ہوں کہ وہ مجھے میرے پرانے گھر میں کبھی کبھی یاد کر لیتے ہیں، حاضری ہو جاتی ہے، نسبت و تعلق میں تازگی آجاتی ہے اور بزرگوں اور احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے، اللہ پاک سب کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
آج میں ایک اہم موضوع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عالمِ کفر کے مختلف حلقوں کی طرف سے امت مسلمہ اور اس کی دینی و سیاسی قیادت سے جو مطالبات کیے جا رہے ہیں اور بہت سے بین الاقوامی ادارے اور فورم ان کے لیے امت مسلمہ کو تیار کرنے کی غرض سے لالچ اور دباؤ بلکہ جبر کے بہت سے حربے مسلسل استعمال کر رہے ہیں وہ کم و بیش وہی مطالبات ہیں آج جو خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حیات مبارکہ میں اس دور کے کافر حلقوں کی طرف سے کیے گئے تھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دوٹوک جوابات اس وقت دے دیے تھے جو قرآن کریم اور سنت و حدیث کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سے واقفیت حاصل کر کے ان مطالبات پر اسی موقف کا اعادہ کریں جو اللہ پاک کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زندگی میں پیش فرما دیا تھا۔ ان میں سے تین مطالبات کا اختصار کے ساتھ ذکر کروں گا۔
(۱) ایک مطالبہ قریش کے سرداروں کی طرف سے جناب ابوطالب کی موجودگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تھا جس کی تفصیل سیرت طیبہ کی کتابوں میں موجود ہے کہ قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب ابوطالب کے پاس بلا کر یہ پیشکش کی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا و صفات کا جتنا چاہیں ذکر کریں، ہم بھی اس آپ کے ساتھ شریک ہوں گے، مگر ہمارے معبودوں کی نفی نہ کریں اور ان کے خلاف بات نہ کریں۔ اسی طرح آپ اور آپ کے ساتھی حرم پاک میں عبادت کریں، ہم بھی شریک ہو جایا کریں گے، مگر کبھی کبھی آپ بھی ہمارے خداؤں کے پاس آ کر ہماری عبادت میں شریک ہو جایا کریں، ہم آپ کی مخالفت اور آپ کے ساتھیوں کو تنگ کرنا چھوڑ دیں گے۔
اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون میں دیا تھا جو قرآن کریم کا حصہ ہے اور قیامت تک پڑھا جاتا رہے گا کہ عقیدہ توحید اور شرک کے معاملہ میں کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ تم اپنے دین پر رہو اور میں اپنے دین پر‘‘۔ آج یہی مطالبہ اور تقاضہ وحدتِ ادیان، اتحاد بین المذاہب اور ابراہیمی اکارڈ کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے اور مسلم حکمرانوں سے اس پر دستخط کرنے کا پرزور تقاضہ کیا جا رہا ہے۔
(۲) دوسرا مطالبہ طائف کے بنو ثقیف کی طرف سے فتح مکہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تھا اور بنو ثقیف کے سرداروں نے مدینہ منورہ آ کر چند شرائط کے ساتھ ایمان قبول کرنے کی پیشکش کی تھی جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں بنو ثقیف کے وفد کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقات کے عنوان سے موجود ہے۔ ان کی شرائط یہ تھیں کہ (۱) آپ ہر جگہ بتوں کو توڑتے جا رہے ہیں، ہمارے بت ’’لات‘‘ کو آپ نہیں توڑیں گے اور وہ ہماری ثقافتی علامت کے طور پر موجود و قائم رہے گا۔ (۲) آپ پانچ نمازوں کی بات کرتے ہیں، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے اور ہم پانچ نمازیں ہی پڑھیں گے مگر دیگر مصروفیات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے اوقات خود طے کریں گے اور اس کے مطابق نمازیں پڑھیں گے۔ (۳) آپ شراب کو حرام کہتے ہیں، ہمارا طائف کا علاقہ انگور کی پیداوار کا علاقہ ہے اور انگور کی شراب ہی ہماری بڑی معیشت ہے، اس لیے شراب کی پابندی ہم پر لاگو نہیں ہو گی۔ (۴) آپ سود کو بھی ناجائز کہتے ہیں جبکہ دوسری قوموں کے ساتھ ہماری تجارت ہی سود کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس لیے سود نہیں چھوڑیں گے۔ (۵) آپ زنا کو حرام کہتے ہیں، ہمارے ہاں شادیاں بہت دیر سے کرنے کا رواج ہے، گزارہ نہیں ہوتا، اس لیے زنا بھی نہیں چھوڑ سکیں گے۔
سیرت کی کتابوں میں موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ساری شرائط مسترد کر دی تھیں اور فرمایا تھا کہ اسلام کو پورے کا پورا قبول کرنا ہو گا، کوئی شرط ہم نہیں مانیں گے، جس کا ترجمہ میں اپنی زبان میں یہ کیا کرتا ہوں کہ اسلام کوئی سپیئرپارٹس کی دکان نہیں ہے کہ جو پرزہ پسند آئے خرید لو اور جو مرضٌی کا نہ ہو وہ چھوڑ دو، یہ مکمل پیکج ہے جو پورے کا پورا قبول کرنا ہو گا۔ روایات میں ہے کہ بنو ثقیف کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے شرطیں واپس لے لی تھیں اور اگلے روز اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
(۳) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیسرا بڑا مطالبہ ایک اور بڑے عرب قبیلے بنو حنیفہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس قبیلہ کے سردار مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اپنے گرد جمِ غفیر جمع کر لیا تھا اور کہا تھا کہ ہم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مان کر ان پر ایمان رکھتے ہیں مگر ان کی پیروی میں مجھے بھی نبوت ملی ہے، انہیں مجھے اپنا شریک نبی ماننا ہو گا۔ اس کے لیے مسیلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد خط دے کر بھیجا تھا جس کی تفصیل بخاری شریف میں مذکور ہے۔ اس نے کہا کہ ’’اشرکت معک فی الامر‘‘ مجھے نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے، آپ اس کو تسلیم کریں اور میرے ساتھ تقسیم کار کر لیں۔ مجھے اپنے بعد اپنا جانشین نامزد کر دیں یا شہروں کو اپنی نبوت کے دائرے میں رکھتے ہوئے دیہات کا نبی مجھے تسلیم کر لیں۔ ایک موقع پر خود مسیلمہ بھی ایک بڑے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقات کر کے یہی پیشکش کی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشکش کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے دور میں مسیلمہ کے ساتھ باقاعدہ جنگ کر کے اس کے زور کو توڑا۔
آج یہی مطالبہ قادیانیوں اور نبوت کے دیگر دعویداروں کی طرف سے امت مسلمہ کے سامنے رکھا گیا ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتے ہیں اور ان کی پیروی میں نبی ہونے کی بات کرتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو بھی ہماری یہ حیثیت تسلیم کر لینی چاہیے۔ مگر امتِ مسلمہ نے متفقہ طور پر اس موقف اور مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے جبکہ عالمی قوتیں، بین الاقوامی ادارے اور اسلام دشمن عناصر قادیانیوں کو مسلسل سپورٹ کر رہے ہیں۔
ہمارا ان تینوں معاملات میں موقف وہی ہے جو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا تھا اور یہی موقف رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس موقف پر استقامت نصیب فرمائیں اور دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے محنت کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

