(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، ہمارے صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے فرمایا ہے کہ ہمارا دینی مدرسوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ غلط فہمی ہے، ہم مدرسوں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے، مدرسوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، البتہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مدرسے اجتماعی دھارے میں شامل ہوں اور مدرسوں میں جہاں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے وہاں سائنس بھی پڑھائی جائے۔
- پہلی بات تو یہ ہے کہ جناب اگر یہ غلط فہمی ہے تو اِن دینی مدارس کے خلاف ہمارے وزیر داخلہ جو اتنے عرصے سے چیخ و پکار کر رہے ہیں، وہ کیا ہے؟
- اور پھر جن کے احکام پر آپ چل رہے ہیں — امریکہ بہادر — وہ جو تیسرے چوتھے دن دینی مدارس کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتا رہتا ہے، وہ کیا ہے؟
- اور اس کے ساتھ یہ آپ کے تھانے جو ہر مسجد اور مدرسے کے کوائف اکٹھے کرتے پھر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے کے اندر ان سوالوں کا جواب دو، یہ کیا چیز ہے؟
جنابِ صدرِ مملکت! یہ غلط فہمی نہیں ہے، یہ واقعہ ہے۔ امریکہ نے آپ سے کہا ہے کہ مدرسوں کو کنٹرول کرو، آپ نے اندر بیٹھ کر پلاننگ کی ہے کہ مدرسوں کو کنٹرول کرنا ہے، آپ کے کارندے ملک بھر میں پھر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے کوائف جمع کر رہے ہیں، لیکن آپ بلاوجہ مدارس کے بارے میں اپنے اقدامات کے متعلق لوگوں کو دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے، اس معاملے کے پیچھے آپ کی واضح کارگزاری ہے۔
اگلی بات صدر صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ دینی مدارس اجتماعی دھارے میں شامل ہوں، جہاں قرآن پڑھایا جاتا ہے وہاں سائنس بھی پڑھائی جائے۔ یہ بظاہر بہت خوبصورت سی بات ہے لیکن دو منٹ کے لیے آپ کو اس پر غور کی دعوت دیتا ہوں۔ ’’اجتماعی دھارے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ملک میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں چل رہی ہیں، دینی مدارس بھی اسی نظم کے تحت چلیں۔ آپ ایمانداری سے بتائیں کہ اگر دینی مدارس بھی اسی نظم کے تحت چل رہے ہوتے تو آج ہمارے معاشرے میں قرآن و سنت کی تعلیم کا یہ انتظام ہوتا جو آج نظر آرہا ہے؟ آج بھی ان دینی مدارس کو کسی پرائمری سکول، کالج یا یونیورسٹی کے نظم پر لے جائیں، کیا دینی تعلیم کا یہ نظام باقی رہے گا؟ صدر صاحب! کیوں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں؟ دینی مدرسوں کا جو کردار ہے، ان کے انفرادی تشخص کی وجہ سے ہے۔ میری یہ باتیں نوٹ کر لیں کہ
- اس معاشرے میں اگر دینی تعلیم باقی ہے تو ان دینی مدارس کی وجہ سے ہے۔ عالمِ اسباب میں اگر دین باقی ہے، قرآن کی تعلیم باقی ہے، جناب نبی کریمؐ کی سنت کی تعلیم باقی ہے تو اس کا واحد ذریعہ یہی دینی مدارس ہیں۔ دینی مدرسہ اگر یہ کام کر سکا ہے تو عوام الناس کی مدد کے ساتھ اپنا نظم چلاتے ہوئے اپنی آزادی اور الگ تشخص وجہ سے کر سکا ہے۔ دینی مدارس کا نظم اگر حکومتی اداروں کے زیر نگرانی چلتا تو یہ کام نہ کر سکتا۔ اس لیے جس طرح ہم دینی مدرسوں کا وجود ضروری سمجھتے ہیں اسی طرح ہم ان کا آزادانہ تشخص بھی ضروری سمجھتے ہیں، ہم ’’اجتماعی دھارے‘‘ کے نام پر کسی دھوکہ اور فریب کا شکار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
- دوسری بات صدر صاحب نے بڑی خوبصورت کہی کہ مدارس میں قرآن پڑھایا جاتا ہے تو سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟ میرا سوال یہ ہے کہ لاء کالج میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟ آخر قانون کی تعلیم دینے والے کالج میں سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟ کیا انہیں سائنس کی ضرورت نہیں ہے، وہ اس ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھنا چاہتے، اور وہ آج کی جدید ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہونا چاہتے؟ اور پھر انجینئرنگ کالج میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی پڑھائی جاتی ہے۔ کیا وہاں قانون پڑھایا جاتا ہے؟ کیا انجینئرنگ کالج میں پڑھنے والوں کو قانون کی ضرورت نہیں ہے؟
- صدر صاحب! یا تو آپ یہ سادہ سی بات خود نہیں سمجھتے، یا پھر لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ارے بھئی جب انجینئرنگ کالج میں میڈیکل سائنس نہیں پڑھائی جاتی اور قانون نہیں پڑھایا جاتا تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اس لیے کہ ہر تعلیمی ادارے کا اپنا دائرہ کار ہے۔ یہ بات آپ یہاں کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ جن تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم دی جاتی ہے وہاں سائنس کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے، سائنس کی تعلیم کے لیے الگ ادارے موجود ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سائنس کی مخالفت کی ہے؟ بلکہ ہم تو سب سے زیادہ اس بات کے داعی ہیں کہ سائنس پڑھو اور ترقی کر کے دوسری قوموں کے برابر آؤ۔ لیکن خدا کے لیے مدارس کے نظام اور ان کے کردار کو خراب مت کرو۔
مدرسے کا نصاب وہی قرآن کریم، سنتِ رسول، فقہِ اسلامی، عربی اور دیگر فنون ہے۔ ان مدارس میں یہی نصاب رہے گا تو ایک عالم بنے گا، اگر آپ کھچڑی پکا دیں گے تو نہ مُلا بنے گا، نہ مسٹر اور نہ حکیم۔ اور آپ کے اقدامات سے نظر آتا ہے کہ آپ یہی چاہتے ہیں، اور ان شاء اللہ العزیز ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنے کردار کو بھی باقی رکھیں گے، اپنے تشخص کو بھی باقی رکھیں گے، اور اللہ کے فضل و کرم سے اپنی آزادی کو بھی باقی رکھیں گے۔

