مکاتیب
۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء
باسمہ تعالیٰ
محترمی حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب زیدت مکارمکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
۲۵ اپریل کے اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ حاضری ہو گی۔ قرطاسِ عمل میں نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں، کوئی بات قابلِ توجہ ہو تو اپنی گفتگو میں شامل فرما لیں:
- میرے خیال میں ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ خود ہی ایک تھنک ٹینک کی حیثیت رکھتی ہے، البتہ اسے تھنک ٹینک کے طور پر منظم اور متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ضروری مسائل کی نشاندہی، ان پر باہمی مشاورت، متعلقہ ماہرین سے استفادہ اور متفقہ رائے کی تشکیل اور اظہار کا کوئی نیٹ ورک بن سکے تو یہ کونسل باہمی تقسیم کار کے ذریعہ اس خدمت کو بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے۔
- مسلکی، علمی، فقہی اور فکری اختلافات کا مکمل خاتمہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری اور مفید ہے، البتہ اس میں بحث و مباحثہ اور اظہار کے دائرے، ضابطۂ اخلاق اور سطح کا طے کرنا مفید ہو گا، جس کے لیے ایک جامع ضابطۂ اخلاق کی تشکیل اور اس کے لیے متعلقہ حضرات کی درجہ بدرجہ بریفنگ کا اہتمام کرنا ہو گا۔
- مسالک کے لٹریچر کے تقابلی مطالعہ کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے پہلے تعارفی مطالعہ ضروری ہے۔ ہر مسلک کے قیام کا ماحول اور اس کا علمی و فکری پس منظر سامنے ہو تو بہت سے اختلافات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہر مسلک کا مثبت انداز میں تعارف اور مختصر تاریخ اس تعارف کا حصہ ہونا چاہیے۔ جبکہ تقابلی مطالعہ بھی مناظرانہ اسلوب میں نہیں بلکہ بریفنگ کے انداز میں ہی فائدہ مند ہو گا۔
- جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو نصاب میں مستقل مضمون کے طور پر شامل کرنا ضروری ہے اور سیرتِ طیبہ کے وہ حصے جو معاشرت، خاندانی نظام، ریاست و حکومت، دعوت و تبلیغ اور دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے ہیں ان کو زیادہ اہتمام کے ساتھ پڑھانا چاہیے۔
- ادب الاختلاف پر بہت سی کتابیں ممتاز اہلِ علم کی طرف سے سامنے آئی ہیں جو مضمون اور مقصد کے حوالہ سے کم و بیش یکساں ہیں۔ ہر وفاق کو ان میں سے کوئی ایک جامع کتاب نصاب میں شامل کرنے کے لیے کہا جائے۔
- نصاب میں اختلافی مواد کا خاتمہ ممکن نہیں ہے، البتہ اس مواد کی تعلیم کے حوالہ سے اساتذہ کی تربیت اور بریفنگ کا اہتمام ضروری ہے جس کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔
- دینی مدارس کے نصاب و نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے وزارتِ تعلیم، وزارتِ مذہبی امور اور قومی علماء و مشائخ کونسل کے درمیان باہمی مشاورت کا کوئی نظم قائم ہو جائے تو مفید ہو گا۔
- دینی مدارس کے وفاقوں اور قومی جامعات کے درمیان تعلیمی مسائل پر باہمی مشاورت اور تبادلۂ خیالات کا اہتمام انتہائی ضروری ہے، اس کے لیے وزارتِ تعلیم اور وزارتِ مذہبی امور کو مل کر کوئی نظم تشکیل دینا چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔
والسلام
ابوعمار زاہد الراشدی
نزیل دفتر ختم نبوت، ملتان
۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء

