سیکولرازم کو لادینیت نہ ماننے کی روش

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۵ جنوری ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آج کل اخبارات میں ایک بحث چل رہی ہے، ہمارے صدرِ مملکت نے ایک بات فرمائی تھی کہ ہم پاکستان کو سیکولر مسلم ریاست بنا رہے ہیں، بعد میں انہوں نے تردید بھی کر دی کہ سیکولر کا لفظ نہیں بولا تھا کوئی اور لفظ بولا تھا۔ لیکن اس پر بحث چل پڑی کہ اسلامی سیکولرازم — جس طرح کسی زمانے میں اسلامی سوشلزم ہوتا تھا — یہ مختلف نظاموں کو اسلام کے ساتھ ملا کر تجربات کرتے رہتے ہیں کہ مسلمان شاید کسی طرح دھوکہ کھا جائیں۔ اسلامی شراب، یعنی بوتل میں شراب ہے لیکن اوپر حلال کا لیبل ہے۔ یہ ان کی پرانی عادت ہے۔

امریکہ کے ہمارے ایک مہربان دانشور ہیں پروفیسر سٹیفن پی کوہن، انہوں نے ہمیں ایک بات سمجھانے کی کوشش کی ہے، فرماتے ہیں کہ سیکولرازم سے گھبراؤ نہیں، اس کا مطلب لادینیت نہیں ہے۔ آج ہمیں مغربی دانشوروں کی زبان سے یہ نئے نئے سبق پڑھائے جا رہے ہیں، اس خیال سے کہ ہم مرعوب ہو جائیں گے اور ان کی یہ تشریح ہمیں ہضم ہو جائے گی۔ جیسے ہم ان کے سامنے نورانی قاعدہ لے کر بیٹھے ہیں کہ ہمیں دنیا کے حروفِ تہجی پڑھاؤ۔

میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سیکولرازم کیا ہوتا ہے، سیکولر سٹیٹ کیا ہوتی ہے، یہ باتیں ہمیں دانشوروں سے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے عملاً‌ یہ سب کچھ دیکھ لیا ہوا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارا مسلمان بھائی ملک ترکی خلافت کو چھوڑ کر سیکولر بنا تھا۔ سیکولرازم نے ترکی کو کیا تبدیلیاں دی ہیں؟ ریاست کا نظریہ سیکولرازم بننے کے بعد ترکی میں کیا نتائج سامنے آئے؟

  1. خلافت کا نظام ختم ہوا۔
  2. عدالتوں سے شرعی قوانین ختم ہو کر اٹلی کے قوانین نافذ ہوئے۔
  3. نکاح، طلاق اور وراثت کے اسلامی قوانین ختم کر دیے گئے کہ آج ترکی میں نکاح، طلاق اور وراثت کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوتے، انگریزوں کے قوانین کے مطابق ہوتے ہیں۔
  4. دینی مدارس اور خانقاہیں بند کر دیے گئے۔
  5. عربی زبان پر پابندی لگا دی گئی اور عربی تعلیم ختم کر دی گئی۔
  6. ترکی کا رسم الخط عربی سے تبدیل کر کے رومن کر دیا گیا۔
  7. ایک دور میں تو قرآن کریم کا عربی زبان میں پڑھنا اور عربی زبان میں اذان دینا تک ممنوع قرار پایا۔
  8. وہاں پر ملکی نظام کے حوالے سے قرآن و سنت کا حوالہ دینا قانوناً‌ جرم قرار دیا گیا۔
  9. اور ابھی دو سال قبل کا واقعہ یہ ہے کہ ایک خاتون عوام کے ووٹ لے کر پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئی، پبلک ووٹ لے کر، جس کو یہ لوگ جمہوریت کہتے ہیں، وہ پارلیمنٹ میں سر پر دوپٹہ لے کر بیٹھی، تو صرف بال ڈھانپنے پر، اسکارف اوڑھنے پر، اور پارلیمنٹ میں ننگے سر نہ بیٹھنے پر اسے کیا سزا ملی؟ اسے یہ سزا ملی کہ نہ صرف اس کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوئی بلکہ ترکی کی شہریت ختم کر دی گئی۔
  10. ابھی دو مہینے پہلے ترکی کے وزیر اعظم بلند ایجوت نے یہ آرڈر جاری کیا ہے کہ جو خواتین سرکاری ملازم ہیں وہ پاجامہ یا شلوار پہن کر کام پر نہیں آسکتیں، انہیں اسکرٹ پہننا ہوگا۔ اس پر وہاں احتجاج ہو رہا ہے اور خواتین یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہمیں اپنی ٹانگیں ننگی رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

پروفیسر سٹیفن پی کوہن صاحب! ہم نے تو سیکولرازم کو عملاً‌ دیکھا ہے، ہمیں کیا سبق پڑھاتے ہو کہ سیکولرزم لادینیت نہیں ہوتا اور ایسی گبھرانے کی چیز نہیں ہے۔ ہم تو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور بھگت چکے ہیں کہ سیکولرازم اِس کا نام ہے۔ یہ فراڈ ہمارے ساتھ مت کرو۔ پاکستان اسلام کے نام پر لیا گیا تھا، قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ڈنکے کی چوٹ اور کھلے بندوں یہ کہا تھا کہ پاکستان کا دستور قرآن و سنت ہوگا۔ اس لیے ہم اس کے سوا کوئی بات قبول نہیں کریں گے، ان شاء اللہ العزیز۔

2016ء سے
Flag Counter