(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ اخبارات میں پڑھ رہے ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے نام سے، طالبان کے نام سے چھاپے پڑ رہے ہیں، اور شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار جو ہیں، انہوں نے تمام اخلاقیات، تمام قانون، تمام ضابطے ایک طرف کر کے صرف امریکہ کی خوشنودی کو اپنا دین بنا لیا ہے۔ ہم اجتماعی، ملی اور قومی بے غیرتی کی اس انتہا کو پہنچ چکے ہیں کہ خدا، رسول، دین، قوم، ملت، دین، سب ایک طرف پڑے رہیں، اب ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ امریکہ کس طرح ہم سے راضی ہوتا ہے، یہی ہمارا دین ہے، یہی ہمارا ایمان ہے۔
نیچے سے لے کر اوپر تک سب جانتے ہیں کہ امریکہ القاعدہ کے نام پر ڈرامہ رچا رہا ہے، القاعدہ کا نام لے کر دنیا بھر کی جہادی تحریکوں کو کچلنا چاہتا ہے۔ کیا امریکہ جس دروازے پر القاعدہ کا نام لکھ دے گا، ہم اس گھر کو اڑا دیں گے؟ کل امریکہ کہہ دے کہ پرویز مشرف کا القاعدہ سے تعلق ہے، کیا تم اسے بھی امریکہ کے حوالے کر دو گے؟ کوئی قانون، کوئی ضابطہ، کوئی طریقہ، کوئی اصول دنیا میں ہے یا نہیں؟
حکمرانو! خدا کے لیے کچھ انسانیت سے کام لو، پاکستان ایک ملک ہے، اس کی سرحدیں ہیں، اس کے اپنے قانون اور ضابطے ہیں، اس ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے بھی کچھ تقاضے ہیں، اس حد تک مت جاؤ۔ حالات ان شاء اللہ العزیز بدلیں گے، ان بدلے ہوئے حالات کو سامنے رکھ کر اپنے طرزِ عمل کا تعین کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے، اور امریکہ کی غلامی میں انتہا تک جانے والے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کو اللہ تعالیٰ صحیح راستہ دکھائے، اور اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور دین پر قائم رکھے۔

