بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت و عقیدت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا دین کا بنیادی تقاضہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ’’فان اٰمنوا بمثل مآ اٰمنتم بہ فقد اہتدوا‘‘ (البقرۃ ۱۳۷) فرما کر خود واضح کر دیا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات اور سیرت و کردار کے وہ صرف راوی نہیں بلکہ اس کا پرتَو ہیں اور انہی کے ارشادات و اعمال سے سیرت و سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کے سب بزرگ ہمارے لیے واجب الاحترام ہیں اور ان سے راہنمائی حاصل کرنا اور ان کا تذکرہ کرتے رہنا ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ اسی جذبہ کے تحت ایک طالب علم کے طور پر مجھے بھی اپنی تحریروں اور بیانات میں ان کا تذکرہ کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے جسے میں نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع شدہ میرے مضامین اور کالموں میں سے ایک انتخاب ہمارے عزیز ساتھی اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے استاذ مولانا محمد اسامہ قاسم نے بڑے ذوق اور محنت کے ساتھ ’’نقوشِ صحابہ و اہل بیتؓ‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں مرتب کیے ہیں جو اُن کے حسنِ ذوق کی علامت ہے۔
مولانا حافظ محمد اسامہ قاسم ہمارے انتہائی سرگرم رفیق اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متحرک راہ نما مولانا اللہ وسایا قاسم شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں جنہوں نے حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا سمیع الحق شہید اور حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی رحمہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ طویل عرصہ ایک انتھک رفیق کار اور متحرک کارکن کے طور پر شب و روز محنت کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں جمعیۃ علماء اسلام اور ہفت روزہ ترجمان اسلام کے نمائندہ کے طور پر سرگرم کردار ادا کیا ہے، جبکہ ان کے فرزند مولانا محمد حفیظ قاسم اور مولانا حافظ محمد اسامہ قاسم ان کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے اب ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک ان کی اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور ہم سب کے لیے ذخیرۂ آخرت بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

