(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
گزشتہ جمعہ سود کے متعلق جو عدالتی کشمکش چل رہی ہے، اس کے بارے کچھ گزارشات کی تھیں، آج آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم سے سود ختم نہیں ہوتا، ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون، آپ سب بھی پڑھ لیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
چیف جسٹس نے سرکاری وکیل کو کہا کہ یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہم نے سود ختم کرنا ہے۔ اس پر وکیل صاحب فرماتے ہیں کہ جناب آئین کے بارے میں پارلیمنٹ سے دوبارہ رجوع کریں۔ سیاسی زبان میں وکیل صاحب کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ سے کہیں کہ آئین سے اس شق کو ختم کر دیں جس میں لکھا ہوا کہ سود ختم کرنا ضروری ہے۔ یعنی آئین کو تبدیل کر دیں، ہم اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ یا اللہ! ہمارے حال پر رحم فرما۔ قرآن کریم اس عمل کو کن الفاظ سے تعبیر کر رہا ہے:
یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مومنین فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ۔
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم مومن ہو اور تم سود کھانا نہیں چھوڑتے تو اللہ اور اس کے رسول کا تمہارے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے، ہم پہلے ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے نتائج بھگت رہے ہیں، پچاس سال میں ہم نے جو بھگتا ہے یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا نتیجہ ہے، اور یہ سب کچھ بھگت کر بھی ہم اکڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، اس کے علاوہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔

