طائف والوں کی شرطیں اور اہلِ پاکستان

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۱ جون ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

طائف والوں نے کہا کہ ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، زنا نہیں چھوڑیں گے اور سود نہیں چھوڑیں گے، اس لیے کہ شراب اور سود کا تعلق ہماری معیشت سے ہے اور زنا کا تعلق ہمارے کلچر سے ہے۔ ہمیں اسلام قبول ہے لیکن معیشت کی قیمت پر نہیں، کاروبار کی قیمت پر نہیں، کلچر کی قیمت پر نہیں۔ اس سے نیچے نیچے والا اسلام ہمیں دے دیں، اسے ہم قبول کرتے ہیں۔ طائف والوں نے تینوں شرطیں پیش کیں، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بھئی، اسلام کا ضابطہ یہ نہیں ہے۔ اسلام آدھا آدھا تقسیم نہیں ہوتا کہ مسجد میں اسلام قبول ہے، بینک میں قبول نہیں ہے۔ اسلام تقسیم نہیں ہوتا کہ مدرسے میں اسلام قبول ہے، پارلیمنٹ میں قبول نہیں ہے۔ قرآن کریم کے حصے نہیں ہوتے کہ قرآن کریم کی جس آیت کا تعلق نماز سے ہے وہ قبول ہے اور جس کا تعلق حلال و حرام سے، سود سے ہے، وہ قبول نہیں ہے۔ اسلام کا تو ایک ہی مطالبہ ہے: ’’ادخلوا فی السلم کافۃ‘‘ (البقرۃ ۲۰۸) اسلام میں داخل ہوتے ہو تو پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، ورنہ کافر ہی بھلے ہو۔ اِدھر آجاؤ یا اُدھر ہی رہو، درمیان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطالبات مسترد کر دیے۔ ایک دن نہیں گزرا تھا کہ وہ شام کو پھر آئے کہ جناب ہم اپنی شرطیں واپس لیتے ہیں، ہمیں کلمہ پڑھائیے، جو آپ فرمائیں گے ہم وہ ماننے کے لیے تیار ہیں۔

حضراتِ محترم! ہم سے تو وہ طائف والے ہی اچھے تھے۔ کیوں جی کیا خیال ہے؟ ہم سے تو طائف والے ہی غیرت مند تھے۔ انہوں نے شرطیں پیش کیں، اپنی مشکلات پیش کیں کہ جناب اسلامائزیشن سے ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی، کاروبار ختم ہو جائے گا، کلچر متاثر ہوگا، روایات متاثر ہوں گی۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بھئی، اسلام تو پورا قبول کرنا پڑے گا، تو اس پر طائف والے سرنڈر ہوگئے۔ لیکن ہم پاکستان والے بہت بے غیرت ہیں، اس میں ہم سب شامل ہیں۔ میں منبر پر بیٹھا ہوں، صحیح بات کہنے سے نہیں رکوں گا۔

جس وقت ریاست کا نمائندہ — سپریم کورٹ میں جو سرکاری وکیل کھڑا ہے، وہ ریاست کا نمائندہ ہے اور وہ پوری قوم کا نمائندہ ہے — جب پرسوں وہ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں اسلامائزیشن قبول ہے لیکن معیشت کی قیمت پر نہیں، آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، اس جملے کے بعد کیا ہم بحیثیت قوم ایک مسلمان قوم کہلانے کے مستحق ہیں؟ ارتداد کسے کہتے ہیں؟ کفر کس بلا کا نام ہے؟ یہ ارتداد ہے، کفر ہے۔ یہ جملہ کہنا کہ میں کاروبار کی قیمت پر اسلام نہیں مانتا، کاروبار مجھے اسلام سے مقدم ہے، ایسا کہنا کفر ہے، ارتداد ہے، اس سے بڑا کفر اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ اور اس کفر کے اعلان میں ہم سب درجہ بدرجہ شریک ہیں، نہ میں مستثنیٰ ہوں، نہ آپ مستثنیٰ ہیں، کسی کے حصے میں ایک فیصد ہوگا، کسی کے حصے میں نوے فیصد ہوگا۔ اس لیے کہ اس شخص نے یہ بات ذاتی حیثیت سے نہیں کہی بلکہ ریاست کے نمائندے کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر کہی ہے کہ ہمیں وہ اسلام قبول نہیں ہے جس سے ہمارا کاروبار متاثر ہوتا ہو۔

میں اور کچھ نہیں کہتا، قوم کو ایک فیصلہ کر لینا چاہیے، مسلمان رہنا ہے کہ کافر ہونا ہے۔ پرویز مشرف سے لے کر ایک عام آدمی تک، پاکستان کے پندرہ کروڑ عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس بات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مسلمان رہنا ہے یا کافر ہونا ہے۔ یا اُدھر ہو جاؤ یا اِدھر ہو جاؤ۔ یہ طائف والوں کی شرائط نہیں چلتیں، حضورؐ نے بھی نہیں مانی تھیں۔ یہ بے غیرتی اور دیوسی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

2016ء سے
Flag Counter