۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جامعہ دارالقرآن فیصل آباد میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام صوبہ پنجاب کے دینی مدارس کے ہزاروں مہتممین کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجھے معاشرہ پر مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالہ سے گفتگو کے لیے کہا گیا ہے اور چونکہ میں دینی مدارس کے فورم پر یہ گزارشات پیش کر رہا ہوں اس لیے سب سے پہلے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مغرب ہمارے ان دینی مدارس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے؟ گزشتہ صدی کی بات ہے، میں برمنگھم برطانیہ کی مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہونے والی سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس میں شریک تھا، اس موقع پر برطانیہ کے معروف اخبار ’’دی انڈیپنڈنٹ‘‘ نے جنوبی ایشیا کے دینی مدارس کے بارے میں ایک طویل رپورٹ شائع کی تھی جس میں ’’فنڈامینٹلزم‘‘ کے فروغ پر بحث کرتے ہوئے دینی مدارس کو اس کا سرچشمہ قرار دیا گیا تھا اور مضمون کی پیشانی پر دارالعلوم دیوبند کے دارالحدیث اور بستی نظام الدین دہلی کے تبلیغی مرکز کی دو تصویریں لگا کر انہیں اس کا مرکز بتایا گیا تھا۔
کانفرنس میں بعض مقررین نے اس رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج اور مذمت کا لہجہ اختیار کیا مگر میں نے اپنے خطاب کے دوران اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ آسمانی تعلیمات سے وابستگی اور معاشرہ میں مذہبی اقدار و روایات کی ترویج کو مغرب ’’فنڈامینٹلزم‘‘ یعنی بنیاد پرستی سمجھتا ہے اور دی انڈیپنڈنٹ کی اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی معاشرہ کو آسمانی تعلیمات اور مذہبی روایات و اقدار سے دور کرنے کے مغربی ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ہیں اور ان کے دو بڑے مرکز (۱) دارالعلوم دیوبند اور (۲) دہلی کا تبلیغی مرکز ہیں، میرے نزدیک یہ مضمون دینی مدارس کے اس عظیم کردار کے اعتراف کے مترادف ہے اور میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں، ان دو مراکز میں سے ایک مینوفیکچرر ہے اور دوسرا ڈسٹری بیوٹر ہے۔
اس پس منظر میں ہماری دینی جدوجہد بالخصوص دینی تعلیمات کے اس نظام کو مغرب اور مغربیت کے ساتھ جس مسلسل کشمکش کا سامنا ہے اس کی معروضی صورت حال پر دین دائروں میں مختصر بات کرنا چاہوں گا۔
(۱) ہمیں نظریاتی اور علمی محاذ پر مغرب کے ساتھ جس کشمکش کا سامنا ہے اس کا پہلا دائرہ مستشرقین کی وہ علمی، نظریاتی اور فکری کاوشیں ہیں جو صدیوں سے جاری ہیں اور مغرب کے مستشرقین نے اس پر بہت محنت کی ہے ۔ قرآن کریم، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور شریعتِ اسلامیہ کے احکام و قوانین پر ان کے اعتراضات صدیوں سے جاری ہیں جن کے جوابات دیے گئے ہیں اور علمی دنیا میں یہ کام اب بھی جاری ہے جس کے دو اہم پہلوؤں پر ہمیں سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
ایک یہ کہ آج کے روشن خیال دانش وروں اور متجددین نے مستشرقین کے انہی سوالات، اشکالات اور شکوک و شبہات کو نئے انداز میں دہرا کر اپنے علم و دانش کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ انہی سوالات کی جگالی کرنے میں مصروف ہیں جن کے جوابات بار بار دیے جا چکے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے علماء کرام بالخصوص دینی مدارس کے اساتذہ کی ان پر نظر ہو تاکہ وہ اپنا فریضہ سرانجام دے سکیں۔
دوسرے نمبر پر یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ بالخصوص پوش کلاس اور رولنگ کلاس کے مطالعہ کا ذریعہ عربی یا اردو نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ انگریزی میں پڑھتے ہیں، جبکہ انگریزی میں اسلام اور اسلامیات پر سب سے زیادہ کام مستشرقین کا ہے، جس سے ہمارے یہ جدید دانش ور خود شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی پڑھا لکھا شخص اسلامی تہذیب کو اس کے اوریجنل سورسز سے پڑھنے کی بجائے اس کا مطالعہ فلپ ہٹی کی کتاب ’’عرب اور اسلام‘‘ سے کرے گا تو اس کا ذہن بھی وہی بنے گا جو فلپ ہٹی بنا رہا ہے۔ اس مسئلہ کا حل بھی ہمیں سوچنا ہو گا اور اپنی نئی تعلیم یافتہ نسل بالخصوص رولنگ کلاس کو مستشرقین کے لٹریچر کی بجائے دینی علوم کے اصل سرچشمہ کی طرف واپس لانے کا کوئی راستہ نکالنا ہو گا۔
(۲) دوسرا دائرہ ان بین الاقوامی معاہدات کا ہے جن میں کم و بیش سب مسلم ممالک عملاً شریک ہیں۔ ان معاہدات میں جو امور معاشرتی اور ریاستی زندگی کے حوالہ سے شامل ہیں ان میں بیسیوں امور ایسے ہیں جو ہمارے دینی احکام و قوانین اور قرآن و سنت کی تصریحات کے منافی ہیں، اور جن کی پابندی کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مسلم حکومتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان میں دیگر امور کے علاوہ (۱) ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے قوانین (۲) تحفظِ عقیدہ ختم نبوت کے معاملات، اور (۳) حدود و قصاص کے شرعی احکام سرفہرست ہیں جن سے نمٹنا حکومتوں کا کام ہے مگر ان سے کم از کم ہمارے علماء کرام اور دینی کارکنوں کا واقف ہونا اور اس واقفیت کو نئی نسل تک منتقل کرنا بہرحال دینی مدارس اور علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی ان سے باخبر ہوں اور عام مسلمانوں بالخصوص علماء و طلبہ کو ان سے باخبر رکھنے کی کوئی صورت بنائیں۔
(۳) تیسرا دائرہ آج کی نئی نسل کے عمومی ماحول کا ہے جس میں انہیں دین کی اصل بنیادی معلومات سے بے خبری اور موبائل کے ذریعہ خلط ملط بلکہ گمراہ معلومات کا سامنا ہے۔ یہ بہت اہم اور نازک مسئلہ ہے جو ہماری فوری توجہ کا مستحق ہے اور اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ دینی مدارس کے اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اگر استاذ خود ان امور سے باخبر ہے اور ان کا شعور رکھتا ہے تو وہ اپنے شاگردوں کو ان سے آشنا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی تدبیر بنا لیتا ہے۔
میں نے امریکہ کے ایک سفر کے دوران یہ بات حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ تعالیٰ سے تفصیلاً کی تھی، اور ہمارے صدرِ اجلاس شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کو یاد ہوگا کہ ان سے بھی یہ عرض کیا تھا کہ ہم جو علمِ کلام پڑھاتے ہیں وہ بہت ضروری ہے مگر وہ یونانی فلسفہ کے پیداوار اشکالات اور مسائل کے پس منظر میں ہے جبکہ آج کی نسل کو نئے مغربی فلسفہ، ہیومنزم اور سوشیالوجی و سماجیات کے پیداکردہ مسائل کا سامنا ہے، اس کے تناظر میں علمِ کلام کے مباحث میں اضافہ ضروری ہے اور اس خلا کو پر کرنا بھی دینی مدارس کی ذمہ داری ہے۔
میرے خیال میں اگر ان تینوں امور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی مختلف سطحوں پر باہمی مشاورت، تبادلۂ خیالات اور مذاکروں کا اہتمام کیا جا سکے تو کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ بہرحال ہم سب کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور اپنے اکابر کی روایات و تعلیمات کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور عام مسلمانوں کو اس سے باخبر رکھنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالنا چاہیے، اللہ پاک ہم سب کو توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

