جہاد وقتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون

   
جنوری ۲۰۰۹ء

(محمد مشتاق احمد کی تصنیف ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت: اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ جہاد آج کے دور میں نہ صرف مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات بلکہ گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول کے حوالے سے بھی غالباًٍ سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے جس پر مختلف حلقوں میں اور مختلف سطحوں پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بحث اگرچہ نئی نہیں ہے اور صدیوں سے اس کے متنوع پہلوؤں پر مثبت اور منفی طور پر گفتگو ہو رہی ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سے اقوام عالم نے مل کر اقوام متحدہ کے نام سے ایک بین الاقوامی فورم تشکیل دیا ہے اور سوسائٹی کے متعدد دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ جنگ و قتال کے معاملات کو بھی ایک بین الاقوامی نظام کے دائرے میں لانے کی طرف پیشرفت کی ہے، تب سے دنیا میں اسلام کے غلبہ، اسلامی ممالک میں شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین کے نفاذ، غیر مسلم ممالک و اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اور جہاد اسلامی کے اہداف اور حدود کار کے بارے میں بحث و مباحثہ نے بھی شدت اختیار کر لی ہے اور اس کے دائرے میں مزید تنوع اور وسعت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

ایک طرف ایک منظم عالمی نظام ہے جسے دنیا کے اکثر ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس بین الاقوامی چھتری کے نیچے بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدات اور معاملات کا ایک مربوط سسٹم موجود و متحرک ہے جسے مسلم دنیا کی کم و بیش سب حکومتیں تسلیم کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کے وہ دینی، فکری اور علمی حلقے ہیں جو دنیا پر اسلام کے غلبہ اور مسلم معاشروں میں اسلامی شریعت کے نفاذ و ترویج کے لیے کوشاں ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ اس کے لیے ہر نوع کی قربانی پیش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آج کی عالمی صورتحال کیا ہے؟ زمینی حقائق کا منظر کیا ہے؟ ان کی جنگ کس کس سے ہے؟ اور اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو چیلنج کرتے ہوئے یا کسی حد تک اس کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے پاس اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے عملی امکانات کیا ہیں؟ ان سب سوالات سے بے نیاز ہو کر وہ اپنی ایمانی قوت اور میسر وسائل کے سہارے اسلام کی بالادستی اور نظام شریعت کے نفاذ کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔

آج کے زمینی حقائق اور معروضی سوالات میں ایک بہت بڑا بلکہ شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ جہاد کی بات ہو یا نفاذ شریعت کا تقاضا ہو، مسلمانوں کے خلاف سب سے اہم حوالہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے تقاضوں کا پیش کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف سب سے بڑی چارج شیٹ یہی ہے کہ وہ ان تینوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، بین الاقوامی نظام و معاہدات میں شریک ہونے کے باوجود علمی طور پر ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس سے انحراف کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ان حالات میں اس بات کی ایک عرصہ سے شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ مروجہ بین الاقوامی نظام و قوانین کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا جائے، اسلامی احکام و قوانین کے ساتھ ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے، جہاں جہاں دونوں کا اتفاق ہے، ان جگہوں کی نشان دہی کی جائے، جن امور پر ٹکراؤ اور تضاد ہے، ان کا بھی تعین کیا جائے، پھر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ شرعی اصولوں کی روشنی میں انہیں قبول یا رد کرنے اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی تجویز کی جائے اور یہ بحث جذباتیت یا عمل اور ردعمل کی نفسیات سے ہٹ کر خالصتاً علمی اور فقہی بنیادوں پر ہو۔

میں خود اس مضمون کا قدیمی طالب علم ہوں، اس کے کسی بھی پہلو پا جو چیز مجھے اردو یا عربی میں میسر آتی ہے، اس کا مطالعہ کرتا ہوں، جہاں موقع ملے تحریری یا تقریری طور پر اس پر اظہار خیال بھی کرتا ہوں اور اب تک سینکڑوں مضامین اس حوالے سے سپرد قلم کر چکا ہوں، لیکن میری کچھ کمزوریاں ہیں جو ہر وقت میرے سامنے رہتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ میں انگریزی سے نابلد ہوں جو بین الاقوامی قوانین کے اصل مآخذ تک رسائی کے لیے ضروری ہے، میرا ذہن صرف اصولوں کے استنباط و تعین اور کسی حد تک ان کی تطبیق کے دائروں تک محدود رہتا ہے جبکہ جزئیات و تفصیلات تک رسائی اس کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور مطالعہ کا وہ تسلسل، تنوع اور وسعت مصروفیت اور مزاج دونوں حوالوں سے میرے بس کی بات نہیں جو اس کام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے ایک مدت سے یہ خواہش رہی ہے اور اس کے لیے دعاگو رہا ہوں کہ کوئی ایسا صاحب علم سامنے آئے جو اسلامی شریعت اور مروجہ بین الاقوامی نظام و قوانین پر یکساں دسترس رکھتا ہو، مغز کھپائی کر نے والا ہو، مطالعہ و تحقیق کے ذوق سے پوری طرح بہرہ ور ہو اور محنت و مشقت کے تقاضے بھی پورے کر سکے۔

محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب کے مضامین جب سے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونا شروع ہوئے ہیں، میری نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں اور میں اس موقع کی تلاش میں تھا کہ ان سے اس مقصد کے لیے گزارش کر سکوں کہ میرے وجدان کے مطابق شاید قدرت نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کر لیا ہے، اس لیے وہ تنہا یا دوستوں کی ٹیم کی صورت میں اس کام کا بیڑا اٹھائیں اور امت مسلمہ کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہم فقیروں کا دل بھی خوش کر دیں۔

’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے ان کے مضامین تو نظر سے گزرتے رہے ہیں، لیکن گزشتہ روز عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے محترم پروفیسر مشتاق احمد کی زیر نظر کتاب کے مسودہ کے بارے میں بتایا اور میں نے اس کے مقدمہ کے ساتھ ساتھ مضامین کی فہرست پر ایک نظر ڈالی تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً عرض کر رہا ہوں کہ دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا اور زبان ’’ذٰلک ما کُنا نبغ‘‘ کا ورد کرنے لگی۔

میں بحمد اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام اور نفاذ شریعت کے شعوری کارکنوں میں سے ہوں مگر دیکھ رہا ہوں کہ اس مقدس مشن کے کارکنوں کو جدوجہد اور تگ و تاز کے دوران موجودہ بین الاقوامی نظام و قوانین کے بنائے ہوئے بریکروں سے قدم قدم پر واسطہ پڑتا ہے بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے سے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اچانک بریکر سامنے آنے پر گاڑی اس زور سے اچھلتی ہے کہ انجن کے ساتھ ساتھ سواریوں کا انجرپنجر بھی ہل کر رہ جاتا ہے۔ محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری ایک دیرینہ خواہش اور امت مسلمہ کی ایک انتہائی اہم ضرورت کی تکمیل کی طرف قدم بڑھایا ہے اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں اس کاوش پر جزائے خیر سے نوازتے ہوئے اسے دینی جدوجہد کے راہ نماؤں اور کارکنوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں اور قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter