حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

   
جنوری ۲۰۰۰ء

۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء کو برطانیہ کے شہر برنلے میں مولانا عزیز الحق ہزاروی کے ہاں تھا کہ جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے ٹیلی فون پر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے انتقال کی روح فرسا خبر دیتے ہوئے بتایا کہ حضرت مولانا ندویؒ آج صبح رائے بریلی (انڈیا) میں اپنا دنیا کا سفر مکمل کر کے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

حضرت مولانا ایک عرصہ سے علیل تھے مگر ضعف و علالت کے باوجود اپنے مشن کے حوالہ سے ان کی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں۔ الشریعہ کے گزشتہ شمارہ میں قارئین نے بمبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سالانہ اجلاس میں حضرت مولاناؒ کا خطبہ صدارت ملاحظہ کیا ہے جو وہ علالت کی وجہ سے خود وہاں تشریف لے جا کر نہیں پڑھ سکے تھے اور ان کی طرف سے مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے شرکائے کانفرنس کو سنایا تھا۔ اس خطبہ صدارت میں حضرت مولاناؒ نے پرسنل لاء کے مسئلہ پر مسلمانانِ ہند کی جس جرأت اور حوصلہ کے ساتھ ترجمانی کی ہے وہ اکابر علمائے حق اور اربابِ عزیمت کی روایات کی آئینہ دار ہے۔

حضرت ندویؒ کا تعلق امیر المجاہدین حضرت سید احمد شہیدؒ کے خاندان سے تھا، ان کی ولادت ۱۹۱۴ء میں ہوئی اور اس طرح انہوں نے عیسوی سن کے لحاظ سے پچاسی برس کی عمر پائی۔ انہوں نے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ماحول میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے اور اپنے استاذ محترم علامہ سید سلیمان ندویؒ کے جانشین کے طور پر ندوہ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے ندوہ کے اکابر مولانا سید علی مونگیریؒ، علامہ شبلیؒ نعمانی، مولانا عبد الحئی حسنیؒ، اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کی علمی روایات اور ملی خدمات کے پرچم کو نہ صرف بلند سے بلند تر کیا بلکہ ان کے دور میں ندوہ کے تعارف و خدمات کا دائرہ پورے عالم اسلام بالخصوص عالم عرب تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو ان کے گھر کی زبان تھی جبکہ عربی میں انہیں بے تکلف گفتگو اور تحریر کا ملکہ حاصل تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں فصاحت و سلاست کے جس کمال سے نوازا تھا اس نے خود عرب دانشوروں اور اربابِ علم میں انہیں نمایاں اور ممتاز مقام دے دیا تھا۔

حضرت مولانا علی میاںؒ خاندانی اعتبار سے حضرت سید احمد شہیدؒ کے خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے، تعلیم و تربیت اور تگ و تاز میں انہوں نے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ورثہ کو سنبھالا جبکہ روحانی طور پر انہیں حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، اور حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی جیسے عظیم اکابر سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ اس طرح وہ مختلف عظیم الشان نسبتوں کا مجمع البحار بن گئے تھے۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیدا کردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

راقم الحروف کو ایک عرصہ سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے نیاز حاصل تھے۔ ۱۹۸۴ء میں مکہ مکرمہ میں حضرت ندویؒ اور حضرت مولانا منظور احمدؒ نعمانی کی پہلی بار زیارت ہوئی اور اس کے بعد آکسفورڈ اور لاہور میں حضرت ندویؒ سے کئی بار ملاقات و استفادہ کا شرف حاصل ہوا۔ ایک دو بار کوشش کی کہ ان سے ان کی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت حاصل کی جائے مگر موقع نہ ملا۔ چند ماہ قبل حضرتؒ کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا کہ میرا بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے تھا، ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے آپ کے ساتھ طبیعت زیادہ مانوس ہے اس لیے بیعت کے تعلق اور روایت حدیث کی اجازت کی درخواست کر رہا ہوں۔ اس کے جواب میں ابھی دو ماہ قبل ان کا گرامی نامہ موصول ہوا جس میں دونوں گزارشات کی قبولیت کی اطلاع تھی۔

اس کے بعد میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ رمضان المبارک کے بعد کسی بہانے انڈیا جانے کا پروگرام بنا کر استاذ اور شیخ کی حیثیت سے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زیارت و ملاقات کا شرف ایک بار پھر حاصل کیا جائے مگر تقدیر کا فیصلہ غالب آگیا اور حضرت مرحوم میرے جیسے ہزاروں عقیدت مندوں کی امیدوں کو حسرتوں میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک کے حضور پیش ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور اہل خاندان، تلامذہ، منتسبین، احباب اور عقیدت مندوں کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter