متحدہ حزب اختلاف کا قیام اور افغان مجاہدین

   
۲ جون ۱۹۸۹ء

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کی قیادت میں متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور جناب جتوئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ متحدہ حزب اختلاف میں اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ارکان اسمبلی کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان، خان عبد الولی خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، جناب غلام مصطفیٰ کھر اور ان کی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔

متحدہ حزب اختلاف کے قیام کا اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں ان تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائد شریک ہوئے۔ اس موقع پر متحدہ حزب اختلاف کے ترجمان کی حیثیت سے نوابزادہ نصر اللہ خان نے مندرجہ ذیل الفاظ میں متحدہ اپوزیشن کے موقف اور پروگرام کی وضاحت کی کہ

’’ہم وفاقی پارلیمانی نظام، صوبائی خودمختاری، قوانین شریعت کے نفاذ، اقتصادی اور سماجی انصاف، امن و امان اور حکومتی پالیسیوں پر مثبت اور تعمیری تنقید جیسے بنیادی معاملات میں مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۵ جون ۱۹۸۹ء)

جہاں تک قومی اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اتحاد کا تعلق ہے ہم اس کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس سے قومی سیاست میں توازن پیدا ہوگا اور ایک مضبوط اور مستحکم متبادل قیادت ابھرے گی۔ ہمیں متحدہ حزب اختلاف کے مذکورہ بالا مقاصد سے بھی کلی اتفاق ہے بالخصوص ان مقاصد میں قوانین شریعت کے نفاذ کے نکتہ کی شمولیت ہمارے نزدیک ملک کے دینی حلقوں کی اصولی کامیابی ہے۔ لیکن ایک بات ہمیں شدت سے محسوس ہو رہی ہے کہ ان مقاصد میں ’’افغان مجاہدین کی عظیم جدوجہد کی حمایت‘‘ کا اہم مسئلہ غائب ہے جو متحدہ حزب اختلاف میں جہادِ افغانستان کے بعض مخالفین کی شمولیت کے پس منظر میں تکلیف دہ حد تک دینی حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام کے بنیادی مقاصد میں ’’جہادِ افغانستان کی مکمل پشت پناہی‘‘ شامل ہے لیکن اگر قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر متحدہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہوتے ہوئے بھی اسلامی جمہوری اتحاد کو اس اہم اور نازک دینی و قومی مسئلہ پر خاموشی اختیار کرنا پڑ رہی ہے تو یہ کوئی خوش آئند اور اطمینان بخش صورتحال نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی ہائی کمان مسئلہ کے اس پہلو کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے گی اور معاملہ کو اس حد تک نہیں بگڑنے دے گی کہ اس کی سیاسی حکمت عملی پر نظریات سے انحراف اور بے اصولی کا لیبل آسانی کے ساتھ چسپاں کیا جا سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter