لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘

   
۸ اگست ۱۹۹۸ء

’’المہاجرون‘‘ نے ۲۶ جولائی کو ٹریفالیگر اسکوائر لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ المہاجرون مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پرجوش نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کے سربراہ شیخ عمر بکری محمد ہیں۔ شیخ عمر کا تعلق شام سے ہے اور دینی حلقوں کے خلاف ریاستی جبر سے تنگ آکر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ شافعی المذہب سنی عالم ہیں، شریعہ کالج کے نام سے لندن میں ادارہ قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوانوں کو قرآن و سنت، فقہ اور اسلام کے اجتماعی نظام کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور مختلف حوالوں سے امریکہ، اسرائیل، روس اور دیگر غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ ساتھ ان مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی مظاہروں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جو ان کے خیال میں اسلامی نظام سے انحراف کر رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف لندن آئے اور انہوں نے ایک اجتماع سے خطاب کیا تو اس جلسہ میں بھی المہاجرون کے نوجوانوں نے نعرہ بازی کی اور میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے علاوہ مشرقی یورپ میں مسلم اکثریت رکھنے والی ریاست کوسووو کے مسلمانوں کے خلاف سرب افواج کی کارروائی کی مذمت میں بھی انہوں نے لندن میں مظاہروں کا اہتمام کیا۔

المہاجرون کی اس قسم کی پرجوش سرگرمیوں کے باعث انہیں یہاں کے روایتی دینی حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بہت سے علماء کا خیال ہے کہ شیخ عمر بکری محمد اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعے ان ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ لیکن وہ اس کے باوجود اپنی سرگرمیوں میں مگن ہیں اور جب بھی کسی حوالہ سے اپنی بات کہنے، مظاہرہ کرنے یا میڈیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ اسے پوری طرح استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ بعض اوقات میڈیا کے چابک دست ماہرین کی چالوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔

’’ریلی فار اسلام‘‘ ان کا سالانہ پروگرام ہوتا ہے جس میں مغرب کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے، اسلام کے مختلف پہلوؤں پر خطابات ہوتے ہیں اور متعدد حضرات اس موقع پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ راقم الحروف گزشتہ سال بھی اس ریلی میں شریک ہوا تھا اور اس بار بھی جب شیخ عمر بکری محمد نے ریلی میں شریک ہونے اور اس سے خطاب کرنے کی دعوت دی تو انکار کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی اس لیے شرکت کا وعدہ کر لیا اور شریک بھی ہوا۔ ٹریفالیگر اسکوائر وسطی لندن میں چیئرنگ کراس کے معروف ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ایک چھوٹا سا میدان ہے جس میں ایک طرف اسٹیج نما بلندی ہے جس کے دونوں طرز شیر کے بڑے بڑے دو مجسمے ہیں اور درمیان میں پانی کا ایک بڑا فوارہ اور تالاب ہے جہاں اکثر اوقات سیاحوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ یہ جگہ سیاحوں کے علاوہ مقامی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی تفریح گاہ کے طور پر بھی متعارف ہے۔ ریلی فار اسلام سے قبل شیخ عمر بکری محمد نے ملکہ برطانیہ اور برطانوی وزیراعظم کو خطوط ارسال کیے تھے جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ خطوط انہوں نے ریلی میں پڑھ کر سنائے اور برطانیہ کی عام آبادی کو دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کر لیں اور ذہنی بے سکونی اور معاشرتی انارکی سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسلام کی فطری تعلیمات کو اپنائیں۔

ریلی میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے خطاب کیا جن میں کئی خواتین بھی تھیں۔ انگریزی، اردو، عربی، فرنچ، اٹالین اور دیگر زبانوں میں خطابات ہوئے۔ متعدد مردوں اور خواتین نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ شیخ عمر بکری محمد نے جہاں عام لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی وہاں اس بات سے بھی خبردار کیا کہ اسلام کے نام پر کام کرنے والے گمراہ گروہوں سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے قادیانیوں اور امریکہ کے مدعی نبوت ایلیجاہ محمد کی تحریک ’’نیشن آف اسلام‘‘ کا بطور خاص ذکر کیا اور کہا کہ یہ گروہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے لوگ اسلام کے نام پر ان کی سرگرمیوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔

ریلی بارہ بجے سے شروع ہو کر شام چھ بجے تک رہی، ایک میلے کا سمان تھا، نوجوان مختلف کتبے لیے کھڑے تھے، مرد اور عورتیں کثیر تعداد میں موجود تھیں اور سینکڑوں افراد آجا رہے تھے۔ ظہر کی اذان اسٹیج سے لاؤڈ اسپیکر پر دی گئی اور میدان کے ایک طرف نماز کا اہتمام کیا گیا جہاں لوگ ٹولیوں کی صورت میں باری باری باجماعت نماز ادا کرتے رہے۔

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

راقم الحروف کو بھی ریلی میں کچھ دیر گفتگو کا موقع ملا اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے مغربی اقوام اور دنیا بھر کے غیرمسلم لوگوں کو دو باتوں پر غور و فکر کی دعوت دی:

  1. ایک یہ کہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیں کہ انسانی معاشرہ نے جن ادوار میں آسمانی تعلیمات کو دستور حیات بنایا ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کے احکامات پر عمل کیا ہے وہ ادوار انسانی سوسائٹی کے لیے امن، سلامتی اور ذہن و قلب کے سکون کا باعث بنے ہیں، یا جب انسانوں نے آسمانی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اپنی خواہشات اور سمجھ بوجھ کو حکم اور قانون کا درجہ دے لیا اس وقت انہیں ذہن و قلب کا سکون اور معاشرتی امن نصیب ہوا ہے؟
  2. دوسری بات یہ کہ جب انسانی سوسائٹی اپنی خواہشات اور سمجھ بوجھ کو حاکم بنا کر اس کے تلخ نتائج کا سامنا کر رہی ہے اور اس سے پیچھا چھڑانے اور آسمانی تعلیمات کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے تو اس امر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی آج اصلی اور محفوظ حالت میں کس کے پاس موجود ہے؟

راقم الحروف نے اس موقع پر یہ بھی یاد دلایا کہ قرآن کریم خود کو سابقہ انبیاء کرامؑ کی وحی و تعلیمات اور کتابوں کا تصدیق کرنے والا اور ان کا محافظ کہتا ہے اور یہ آسمانی تعلیمات کا مکمل ترین ایڈیشن ہے جو اصلی اور محفوظ حالت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس لیے نسل انسانی کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف رجوع کرے اور اسلام کے دامن رحمت میں آجائے۔

ریلی سے سعودی عرب کے جلاوطن راہنما ڈاکٹر محمد المسعری نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے اسلام کے بارے میں مغرب کی لابیوں اور میڈیا کے منفی پراپیگنڈا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرازم کا نظریہ ناکام ہو چکا ہے اور عالم اسلام میں بعض مسلم حکومتیں مغربی نظام اور سیکولرازم کو بچانے کی جو کوششیں کر رہی ہیں وہ بالآخر ناکام ہوں گی۔

ریلی فار اسلام میں شریک ہونے اور اس میں پرجوش نعرے لگانے والے نوجوانوں کی اکثریت ان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتل تھی جو اسی مغربی معاشرہ میں پلے بڑھے ہیں لیکن نوجوانوں کے چہروں پر ڈاڑھیاں اور خواتین کے حجاب میں مستور جسم اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ مغربی معاشرہ اسلامی کلچر کو اپنے اندر ضم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کی تمام تر چکاچوند مسلم نوجوانوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنا میں ناکام رہی ہے اور یہی بات مغرب میں اسلام کے شاندار مستقبل کا نکتہ آغاز ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter