مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

   
۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔

مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف درست نہیں بلکہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ خواتین سے متعلقہ مسائل میں خواتین سے رجوع کیا جائے اور ایسی خواتین ہر علاقہ میں موجود ہوں جو عورتوں کوا ن کے مسائل و معاملات میں دینی رہنمائی مہیا کر سکیں کیونکہ عورتیں اپنے مخصوص مسائل کے حوالہ سے عورتوں کے سامنے ہی تفصیل کے ساتھ وضاحت کر سکتی ہیں۔ اور یہ بات براہ راست ہو تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ درمیان میں کوئی واسطہ ہو تو نہ استفتاء کی صحیح طور پر وضاحت ہو پاتی ہے اور نہ ہی جواب زیادہ واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

جہاں تک اس سلسلہ میں پہلے کسی مثال کے پائے جانے کا تعلق ہے قرونِ اولیٰ میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں بلکہ خود حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں ایسی مفتی خواتین موجود تھیں جو باقاعدہ فتویٰ دیا کرتی تھیں اور ان کا فتویٰ نافذ بھی ہوتا تھا۔ حافظ ابن القیمؒ نے ایسی بائیس صحابیات کی فہرست لکھی ہے جو فتویٰ دیا کرتی تھیں اور ان کے اسماء گرامی فقہ و فتویٰ کے حوالہ سے اس دور میں مشہور تھے۔ اس میں ام المومنین حضرت عائشہؓ، ام المومنین حضرت ام سلمہؓ اور ام المومنین حضرت حفصہؓ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کا تو باقاعدہ دارالافتاء تھا جس میں صرف عورتوں سے متعلق مسائل ہی نہیں بلکہ دیگر شعبوں کے مسائل بھی آتے تھے اور وہ ان پر فتویٰ دیتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ کا شما رصحابہ کرامؓ کے ان سات بڑے مجتہدین میں ہوتا ہے جو اجتہاد و افتاء میں سب سے نمایاں تھے اور جن کے اجتہادات و فتاوٰی کو امت میں قبول عام حاصل ہوا۔ حضرت عائشہؓ اپنے معاصر مفتیوں کے فتوؤں پر نقد بھی کرتی تھیں اور ان سے اختلاف کر کے الگ اور مستقل فتویٰ دیتی تھیں۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے ’’عین الاصابۃ فیما استدرکت ام المومنین عائشہ علی الصحابۃ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں حضرت عائشہؓ کے ان فتاوٰی کا ذکر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے دوسرے صحابہ کرامؓ سے اختلاف کیا۔ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنی تصنیف ’’سیرت عائشہؓ‘‘ کے آخر میں امام سیوطیؒ کا یہ رسالہ پورا نقل کر دیا ہے۔

حضرت عائشہؓ کی شاگرد اور علمی جانشین حضرت عمرہ بنت عبد الرحمانؓ تھیں جو اپنے وقت کی بڑی محدثہ اور فقیہہ تھیں۔ ان کے بھتیجے قاضی ابوبکر بن قاسمؒ مدینہ منورہ کے قاضی تھے۔ امام مالکؒ نے مؤطا میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرہؓ اپنے بھتیجے کے فتوؤں اور اجتہادات کی نگرانی کرتی تھیں اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کیا کرتی تھیں۔ انہی قاضی ابوبکر بن قاسمؒ کے ذمہ امیر المومنین عمر بن عبد العزیزؒ نے یہ کام لگایا تھا کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو تحریر کر کے محفوظ رکھنے کا اہتمام کریں اور اپنی پھوپھی حضرت عمرہؓ کی احادیث کی طرف خاص توجہ دیں کیونکہ وہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے علوم و روایات کی وارث و امین ہیں۔

حضرت عائشہؓ کی ایک اور شاگرد ہیں جو حضرت طلحہؓ کی بیٹی حضرت صدیق اکبرؓ کی نواسی اور حضرت عائشہؓ کی بھانجی تھیں ان کا نام بھی عائشہؒ تھا، علم و فضل میں معروف تھیں، بڑے بڑے اہل علم مسائل میں رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ ایک دفعہ خلیفہ ہشام بن عبد الملکؒ نے اپنے دربار میں انہیں تشریف آوری کی زحمت دی۔ نامور علماء سے ان کی گفتگو مختلف علمی مسائل پر ہوئی اور ان کے علمی تبحر سے متاثر ہو کر خلیفہ نے ایک لاکھ درہم کا نذرانہ پیش کیا۔

امام محمد بن سیرینؒ کی ہمشیرہ حفصہ بنت سیرینؒ عالمہ فاضلہ خاتون تھیں، احادیث روایت کرتی تھیں اور تجوید و قراءت میں خصوصی مہارت رکھتی تھیں۔ خود امام محمد بن سیرینؒ کو قراءت کے حوالہ سے کسی مقام پر شبہ ہوتا تو اپنے شاگردوں سے فرماتے کہ ذرا ٹھہرو میں حفصہؒ سے دریافت کر کے آتا ہوں۔

قاضی عیاضؒ نے ترتیب المدارک میں نقل کیا ہے کہ حضرت امام مالکؒ کا مسجد نبویؐ میں درس حدیث کا حلقہ ہوتا تھا اور وہ سینکڑوں اہل علم کو حدیث نبویؐ کا درس دیا کرتے تھے۔ امام مالکؒ کا طریقہ درس یہ تھا کہ شاگرد حدیث کی قراءت کرتے تھے اور امام مالکؒ سنتے تھے، کہیں غلطی ہوتی تو اس کی اصلاح کر دیتے اور کسی جملے کی وضاحت کی ضرورت محسوس کرتے تو وضاحت فرما دیا کرتے تھے۔ ان کے پہلو میں پردے کے پیچھے ایک خاتون بیٹھی ہوتی تھیں جو احادیث کا سماع کرتی تھیں اور ان کا کام یہ ہوتا تھا کہ اگر شاگرد نے حدیث پڑھتے ہوئے کوئی غلطی کی ہے اور استاذ محترم کی توجہ نہیں ہوئی تو وہ تپائی پر زور سے ہاتھ مار کر خبردار کرتی تھیں جس پر امام مالکؒ اپنے شاگرد کو حدیث دوبارہ پڑھنے کے لیے فرماتے تھے اور غلطی کی اصلاح ہو جایا کرتی تھی۔ یہ خاتون امام مالکؒ کی اپنی بیٹی تھیں جو اس درجہ کی محدثہ تھیں کہ قراءت حدیث میں استاذ اور شاگرد دونوں کی نگرانی کیا کرتی تھیں۔

امام تاج الدین سبکیؒ نے طبقات الشافعیۃ میں واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ ایک مقدمہ میں گواہ کے طور پر قاضی کے سامنے پیش ہوئیں، ان کے ساتھ ایک خاتون اور بھی تھیں اور قرآن کریم کے بیان کردہ ضابطے کے مطابق ایک مرد اور دو عورتیں اس مقدمہ میں گواہ تھیں۔ قاضی صاحب نے دونوں خواتین کی گواہی سن کر یہ چاہا کہ دونوں سے الگ الگ بات سنیں اور ایک کو دوسری سے الگ کر کے ان سے واقعہ کے بارے میں دریافت کریں تاکہ اگر کوئی فرق ہو تو واضح ہو جائے۔ مگر حضرت امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ نے قاضی صاحب کو یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ قران کریم کی منشا کے خلاف ہے اس لیے کہ قرآن کریم نے جہاں ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی گواہی کا ذکر کیا ہے وہاں اس کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے ’’ان تضل احداھما فتذکر احداھما الاخرٰی‘‘ کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔ امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ کا کہنا تھا کہ ہم دونوں خواتین الگ الگ نہیں بلکہ اکٹھی گواہی دیں گی تاکہ قرآن کریم کی منشا کے مطابق ہم میں کسی کو واقعہ کا کوئی پہلو یاد نہ رہا ہو تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ امام سبکیؒ لکھتے ہیں کہ قاضی صاحب نے اس استدلال کو تسلیم کیا اور دونوں عورتوں سے الگ الگ گواہی لینے کا ارادہ ترک کر دیا۔

فقہ حنفی کے معروف امام، امام ابوجعفرؒ کی دختر کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ بڑی عالمہ اور فقیہہ تھیں اور علمی کاموں میں اپنے والد محترم کے ساتھ شریک ہوا کرتی تھیں۔ چھٹی صدی کے حنفی فقیہ شیخ علاؤ الدین سمرقندیؒ بڑے فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ان کی بیٹی فاطمہ فقیہہ بھی اپنے دور کی بڑی فقیہہ اور مفتیہ تھیں اور ان کے شوہر امام کاسانی ہیں جو فقہ حنفی کی معروف کتاب البدائع والصنائع کے مصنف تھے۔ فقیہہ فاطمہؒ فتویٰ دیا کرتی تھیں اور اہم نوعیت کے فتوؤں پر میاں بیوی اور ان کے والد تینوں مفتیوں کے دستخط ہوا کرتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی ہمشیرہ شہزادی ربعیہ کے بارے میں مؤرخین لکھے ہیں کہ بڑی عالمہ تھیں، انہوں نے شام میں ایک بڑا مدرسہ بھی بنایا تھا جس کے صحن میں وہ وفات کے بعد مدفون ہوئیں۔ آٹھویں صدی ہجری کی ایک خاتون ستّ الفقہاء کے نام سے معروف تھیں، محدثہ اور فقیہہ تھیں، اہل علم ان سے سنن ابن ماجہ کا بطور خاص درس لیا کرتے تھے، علم فقہ میں بھی پوری دسترس رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنا مدرسہ قائم کیا تھا جس سے ہزاروں افراد نے استفادہ کیا۔

بی بی حنیفہؒ کا شمار نویں صدی کی نامور محدثات میں ہوتا ہے اور امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنے شیوخ اور اساتذہ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ بی بی ملکہؒ آٹھویں صدی کی محدثات میں سے ہیں جن کی خدمت میں حاضر ہو کر حافظ ابن حجر عسقلانی نے روایت حدیث کی اجازت حاصل کی اور وہ انہیں اپنے شیوخ میں شمار کرتے ہیں۔ حضرت امام مالکؒ کے شاگردوں میں حضرت آمنہ رملیہؒ کا تذکرہ ہوتا ہے، انہوں نے امام مالکؒ کے علاوہ امام شافعیؒ کی شاگردی کا شرف حاصل کیا اور کوفہ کے بڑے علماء سےبھی استفادہ کیا۔ انہوں نے بھی اپنا علمی حلقہ قائم کیا تھا جس سے اس دور کے بڑے بڑے علماء کرام نے فیض حاصل کیا۔

یہ چند حوالے ہیں اور اس سلسلہ میں سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کہ امت مسلمہ میں ہر دور میں خواتین نے قرآن و حدیث اور فقہ و اجتہاد میں نمایاں مقام حاصل کیا اور وہ قرآن و سنت کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ دینی مسائل پر رائے اور فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ البتہ دو باتوں کا اہتمام ہر دور میں رہا ہے اور یہ دونوں باتیں آج بھی شرط کے درجہ میں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ خواتین نے یہ علمی خدمات ممتاز اور مستند اہل علم کی نگرانی اور رہنمائی میں سرانجام دیں اور دوسری یہ کہ پردہ کے جو شرعی آداب اور تقاضے ہیں ان کا ہر حال میں لحاظ رکھا گیا ہے۔اس سلسلہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ امت کی خواتین کے لیے کامل نمونہ اور اسوہ ہیں جو ماں ہونے کے باوجود پردے کے پیچھے بیٹھتی تھیں، لوگ آتے تھے، سلام و تعارف کے بعد پردے کی دوسری طرف بیٹھ جاتے تھے اور اپنا مسئلہ پیش کرتے تھے۔ ام المومنینؓ ان کی باتوں کا جواب دیتیں، مسئلہ کی وضاحت فرماتیں اور وہ مطمئن ہو کر واپس جاتے۔

ہر دور میں حدیث و فقہ کی تعلیم دینے والی محدثات اور فقیہات کا یہی معمول رہا ہے کہ وہ پردہ کے ضروری احکام کی پابندی بھی کرتی تھیں اور تعلیم و تدریس اور ارشاد و اصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ اس لیے اگر آج بھی عورتوں کے مسائل کے حوالہ سے دینی رہنمائی کے لیے عورتوں ہی کو تیار کیا جائے اور وہ ممتاز اہل علم کی نگرانی میں اس کام کو سنبھال لیں تو اس میں عورتوں کے لیے زیادہ سہولت اور منفعت کی بات ہوگی اور ہماری ایک اچھی روایت دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter