روزنامہ اسلام، لاہور

جاہلیتِ قدیمہ اور جاہلیتِ جدیدہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم مسٹر ٹونی ایبٹ کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثقافتیں اور تہذیبیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور مغرب کو آج کی تہذیبی کشمکش میں اپنی برتری ثابت کرنا ہو گی۔ یہ دو جملے ہیں لیکن ان میں ایک طویل داستان ہے، اس حوالے سے میں آپ کے سامنے مجموعی تناظر میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اصولی فرق پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں تہذیبیں جو اس وقت آمنے سامنے ہیں اور جن کے درمیان انسانی معاشرے میں کشمکش جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

تحفظِ ناموسِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ کا قانون

ملک میں ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ کے تحفظ کے قانون پر بحث جاری ہے جو قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں نے پاس کر دیا ہے مگر ابھی صدر محترم کے دستخط ہونا باقی ہیں جس کے بعد یہ قانون کا درجہ حاصل کر جائے گا۔ یہ قانون ملک میں پہلے سے موجود ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی بزرگ کی توہین جرم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۲۳ء

سانحہ جڑانوالہ اور انصاف کے تقاضے

جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں چند روز قبل یہ سانحہ ہوا ہے کہ قرآن مقدس کے اوراق پھاڑ کر ان پر توہین آمیز جملے لکھ کر باہر پھینکے گئے جنہیں دیکھ کر لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا جو معاملات کو بروقت کنٹرول نہ کیے جانے کے باعث بڑھتے بڑھتے مسیحی آبادی کے بہت سے مکانات حتیٰ کہ عبادت گاہوں کے جلا دیے جانے تک جا پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۲۳ء

یومِ آزادی کیسا گزرا؟

یومِ آزادی کے حوالہ سے اگست کے آغاز سے ہی مختلف پروگراموں کا آغاز ہو گیا تھا اور گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد کی متعدد نشستوں میں گفتگو کا اتفاق ہوا جبکہ ۱۴ اگست بحمد اللہ تعالیٰ بہت مصروف گزرا اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی اس سلسلہ میں دلچسپی سے جی بہت خوش ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۳ء

اکبر بادشاہ کے ’’دینِ الٰہی‘‘ کے خلاف علماء و مشائخ کی جدوجہد

الشریعہ اکادمی ہاشمی کالونی گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ قبل تک فکری نشستوں کا سلسلہ چلتا رہا ہے، کرونا کے باعث تعطل ہوا تو وقفہ زیادہ ہو گیا۔ اس سال پھر سے ان کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ہر پیر کو مغرب کی نماز کے بعد ہفتہ وار فکری نشست ہوتی ہے، اس سال کا عنوان ’’برصغیر کی دینی و ملی تحریکات‘‘ طے پایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۲۳ء

مولانا قاری جمیل الرحمٰن اخترؒ اور مولانا محمد یوسف رشیدیؒ

مولانا محمد یوسف رشیدی کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر بھی داغِ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں دینی و تعلیمی جدوجہد کے سرگرم راہنما اور میرے انتہائی معتمد ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی گہرے دوست تھے جو یکے بعد دیگرے ہم سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۲۳ء

محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کی صورتحال

محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کا سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دینی مدارس کے وفاقوں کے ساتھ معاہدہ کے تحت شروع کیا گیا تھا اور اب تک پندرہ ہزار کے لگ بھگ مدارس رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ مگر جب بعض مدارس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اصل انتظامیہ کی موجودگی میں کسی قسم کی تحقیق کیے بغیر متوازی انتظامیہ رجسٹرڈ کر دی گئی ہے اور تنازعات پیدا ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۲۳ء

شادی کے بعد اولاد کا والدین سے تعلق

خاندانی نظام کے حوالے سے آج اس پہلو پر بات کرنا چاہوں گا کہ جب لڑکا لڑکی جوان ہو جائیں اور ان کی شادی ہو جائے تو کیا شادی شدہ ہو جانے کے بعد ماں باپ کا تعلق ان سے قائم رہتا ہے یا نہیں؟ یعنی اگر میاں بیوی کے معاملات میں کوئی گڑبڑ دیکھیں تو کیا وہ مداخلت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ آج کا جدید فلسفہ یہ کہتا ہے کہ اب ماں باپ کا تعلق ختم ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۲۳ء

ہمارا تعلیمی نظام و نصاب اور آج کے تقاضے

برصغیر پاک و ہند اوربنگلہ دیش و برما میں دینی مدارس کا موجودہ نظام اس تسلسل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کی شکست کے بعد ہوا تھا۔ انگریز حکمرانوں نے جنگِ آزادی کو کچلنے کے بعد پورے برصغیر پر تعلیمی و تہذیبی یلغار کر دی تھی، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تباہ برباد کر دیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۲۲ء

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کچھ عرصہ قبل کراچی حاضری کے دوران ان کی بیمارپرسی کا موقع ملا تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا آخری دور یا دآ گیا، انہوں نے بھی ضعف و علالت کا خاصا عرصہ بسترِ علالت پر گزارا تھا اور میں ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً‌ و شیبۃ‘‘ کا اظہار ہے کہ جس بزرگ کے ساتھ ان مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۲۲ء

مولانا مفتی محمودؒ کا یادگار قومی کردار

جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان ۱۵ اکتوبر ہفتہ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں قومی سطح کی ایک تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس پر جے ٹی آئی کی قیادت تبریک و تشکر کی مستحق ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے رخصت ہوئے چار عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کی نہ صرف یاد دلوں میں تازہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ـ۔ ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف

ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ“ خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ کچھ اوریجنل ہیں ، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کے ساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

فتنوں کے دور میں ہمارے کرنے کے کام

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف آوری سےپہلے کے حالات اور کائنات کے آغاز سے لے کر اپنی ذات گرامی تک کے اہم واقعات کا ذکر فرمایا ہے، اور قیامت تک آنے والے بہت سے واقعات ، خطرات اور خدشات کی نشاندہی بھی فرمائی ہے۔ یہ آپ کی جامعیت کا ایک پہلو ہےکہ آپؐ کی تعلیمات کائنات کے آغاز سے لے کر کائنات کی انتہاء تک پورے ماحول کا احاطہ کرتی ہیں، جوکہ تکوینیات کے حوالے سے بھی ہے اور تشریعیات میں بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۲ء

نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

قیامِ پاکستان کے وقت جو نظام ہمیں ورثے میں ملا تھا وہ قطعی طور پر ناکام ہو گیا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کی جائے۔ نظام کی تبدیلی کی بات ملک کے تمام سیاسی حلقے کر تے ہیں اور اس پر تمام حلقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۲۲ء

سلامتی کونسل اور امارتِ اسلامی افغانستان

ایک قومی اخبار نے ۲۶ مئی ۲۰۲۲ء کو یہ خبر شائع کی ہے: ’’اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان حکومت سے کہا ہے کہ وہ خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کو سلب نہ کرے۔ سلامتی کونسل نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، ملازمت، شخصی آزادی - - - مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے بارے میں عدالتی فیصلہ اور دینی جماعتوں کی سرگرمیاں

سودی نظام کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کے حوالے سے جوں جوں آگاہی بڑھ رہی ہے دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات بالخصوص ماہرینِ معیشت اور تاجر برادری میں بھی بیداری کا ماحول پیدا ہو رہا ہے اور دوسری جماعتوں کے ساتھ ساتھ تحریکِ انسداد سود اور پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں تسلسل کی فضا بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۲۲ء

عدالتی فیصلوں پر شرعی تحفظات کا اظہار

وراثت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی طرف ہم نے ملک کے اصحابِ علم کو ایک مراسلہ میں توجہ دلائی تھی جس پر علماء کرام کے ایک گروپ ’’لجنۃ العلماء للافتاء‘‘ نے فتوٰی کی صورت میں اظہار خیال کیا ہے ۔۔۔ ان دوستوں کی کاوش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم اس کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۲ء

کم عمری کا نکاح ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا متنازعہ فیصلہ

مغرب نے جب سے معاشرتی معاملات سے مذہب اور آسمانی تعلیمات کو بے دخل اور لاتعلق کیا ہے، خاندانی نظام مسلسل بحران کا شکار ہے۔ اور خود مغرب کے میخائل گورباچوف، جان میجر اور ہیلری کلنٹن جیسے سرکردہ دانشور اور سیاستدان شکوہ کناں ہیں کہ خاندانی نظام بکھر رہا ہے اور خاندانی رشتوں اور روایات کا معاملہ قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۲۲ء

افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم

پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا تھا جو دس جنوری کو مکمل ہو گیا ہے جبکہ امیر محترم مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے یہ سلسلہ جنوری کے آخر تک جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ اعلان درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۲۲ء

’’عشرہ یکجہتی افغانستان‘‘ کا لائحہ عمل

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے نئے عیسوی سن کا آغاز ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ کے عنوان کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے کونسل کا اعلامیہ درج ذیل ہے: دنیا کے تمام ممالک، بالخصوص مسلم حکومتیں اور حکومت پاکستان امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کا فوری اعلان کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۱ء

۲۴ دسمبر کو ’’یومِ افغانستان‘‘ منایا جائے

۲۲ دسمبر کے اجلاس کے حوالہ سے جمعیۃ علماء پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، ملک بھر کے دینی احباب سے گزارش ہے کہ اس تسلسل کو قائم رکھنے اور اس میں وسعت کے لیے سرگرمی کے ساتھ ہر سطح پر محنت کریں تاکہ ہم افغان بھائیوں کی بروقت اور مؤثر امداد و حمایت کے لیے اپنی ملی و دینی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کی صورتحال – سنجیدہ توجہ کی ضرورت

افغانستان کی صورتحال اور ہماری دینی و ملی ذمہ داریوں کے حوالہ سے دینی و سیاسی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی رابطہ مہم جاری ہے، اس سلسلہ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کےتین اجلاسوں کی کارگزاری پیش خدمت ہے۔ تفصیلی گذارشات ۲۲ دسمبرکے اجلاس کے بعد پیش کروں گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۲۱ء

محسنِ ملت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت

محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایٹمی سائنسدان کے طور پر انہوں نے وطن عزیز اور عالمِ اسلام کی جو خدمت کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس پر انہیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنا کہلانے والوں کی طرف سے کردارکشی اور حوصلہ شکنی کے جن کربناک مراحل سے گزرنا پڑا وہ بھی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات

آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

عرب اور ترک — خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد عربوں اور ترکوں کے کیمپ الگ الگ ہو گئے اور گزشتہ ایک صدی سے وہ اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ حالیہ تناظر میں عالمِ اسلام اور خاص طور پر بیت المقدس اور فلسطین کے حوالہ سے ترک قوم اور حکومت کے کردار نے پورے عالم اسلام کو پھر سے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، چنانچہ موجودہ صورتحال میں اس تبدیلی کے پس منظر اور اسباب پر بحث و تمحیص کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستیؒ

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے ہوتے ہوئے اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ملاقات کے بعد گوجرانوالہ روانگی کا پروگرام تھا، حضرت سے رات سونے سے قبل رابطہ ہوا تو فرمایا کہ کل ظہر آپ میرے ساتھ پڑھیں گے اور پھر کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ پروگرام طے کر کے ہم سو گئے مگر صبح اذان فجر سے قبل آنکھ کھلی تو موبائل نے صدمہ و رنج سے بھرپور اس خبر کے ساتھ ہمارے دن کا آغاز کیا کہ حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کا رات اسلام آباد میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۲۰ء

مجلس احرار اسلام ۔ تحریک خلافت کا تسلسل

بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے اور تیسرے عشرے کے دوران جب ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خلاف یورپی حکومتوں کی سازشیں صاف طور پر نظر آنے لگیں اور خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے آثار نمودار ہوئے تو برصغیر (پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش) کے مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ خلافت عثمانیہ نے کم و بیش پانچ سو سال تک عالم اسلام کی خدمت کی ہے اور حرمین شریفین مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کی پہرہ داری کا مقدس فریضہ سر انجام دیا ہے۔ مشرقی یورپ جہاں کچھ عرصہ قبل بوسنیا اور کوسووو کے مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا ہے اس خطہ میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۱۹ء

کوالالمپور کانفرنس اور امت مسلمہ کی صورتحال

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مسلم حکمرانوں کی سہ روزہ عالمی کانفرنس مختلف اہم اعلانات کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے جس سے مسلم دنیا کے معاملات ایک نیا رخ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور کچھ مسائل جن پر اب تک بعض حلقوں میں گفت و شنید کا ماحول پایا جاتا تھا ان پر اب قدرے وسیع دائرے میں بحث و مباحثہ کا سلسلہ چل نکلا ہے، جو وقت کی ضرورت بھی ہے کہ مسلم امہ کی موجودہ صورتحال اور اس کے بیشتر مسائل و مشکلات کے حل نہ ہو سکنے کی وجوہ و اسباب پر بحث و تمحیص بہرحال دن بدن ناگزیر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۱۹ء

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم جناب جسٹس دوست محمد خان نے لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۱۷ء

سوشل میڈیا میں زیر بحث چند سوالات کا مختصر جائزہ

رمضان المبارک کے دوران مختلف سوالات سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے جن میں سے بعض کے بارے میں راقم الحروف سے بھی کچھ دوستوں نے پوچھا، ان کے حوالہ سے جو گزارشات پیش کی گئیں ان کا ضروری خلاصہ نظر ثانی کے بعد قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۱۷ء

امریکہ بنام امریکہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف تین امریکی ریاستوں کے جذبات اور اپیل کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی عوام بالخصوص وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو وہ تبدیلیاں ہضم نہیں ہو رہیں جو امریکہ کے موجودہ عالمی کردار کے تسلسل کی وجہ سے سامنے آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت کرنے والے جنرل واشنگٹن نے آزادی کےبعد امریکہ کے صدر کی حیثیت سے امریکی حکومت کو تلقین کی تھی کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور خود کو امریکہ کے قومی معاملات تک محدود رکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۷ء

انقلابِ ایران اور مریم رجاوی

ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے طور پر ہم بھی انقلابِ ایران کا خیرمقدم کرنے والوں میں شامل تھے اور ہم نے یہ توقع وابستہ کر لی تھی کہ ایران کا کامیاب اور بھرپور مذہبی انقلاب عالم اسلام کی ان مذہبی قوتوں اور تحریکوں کا معاون بنے گا جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی حتیٰ کہ خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلامی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے ’’فقہ جعفریہ‘‘ کے نفاذ کی تحریک کے عنوان سے پریشان کن مسائل کھڑے کر دیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۱۷ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم اور لفظوں کی میناکاری

لفظوں کی میناکاری کے ذریعے قرآنی اصطلاحات کے اجماعی مفہوم کو مشکوک کرنے کی مہم کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ ان دنوں خود مجھے اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نے ایک میسج میں بتایا کہ وزیرآباد کے کوئی بزرگ ’’ربوٰا‘‘ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں، میں نے انہیں آپ کا فون نمبر دے دیا ہے وہ آپ سے اس سلسلہ میں ملیں گے۔ ایک روز کے بعد ان صاحب کا فون آگیا، وہ ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۱۷ء

فرزندِ جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام

مولانا مسرور نواز جھنگوی کی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان دونوں اچھی اور حوصلہ افزا خبریں ہیں جن پر دینی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جھنگ کی صورتحال میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ ہمارے جذبات بھی اس حوالہ سے یہی ہیں اور ہم اپنے عزیز محترم مولانا مسرور نواز کو مبارک باد دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ موصوف کے ساتھ کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کے والد محترم حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ ایک عرصہ تک ملاقاتیں اور دینی جدوجہد میں رفاقت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ دسمبر ۲۰۱۶ء

برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ جس آزادی کا اعلان 14 اگست 1947ء کو کیا گیا تھا وہ آج کے دور میں کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اس لیے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۶ء

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا خواب ۔ قومی تعلیمی کمیشن کا سوالنامہ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘ یہ پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ و ۲۱ مارچ ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

بعض حالیہ اقدامات پر دینی حلقوں کی فکرمندی

اس بات پر فکرمندی اور تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ ملک میں دینی اقدار و روایات کو کمزور کرنے، نافذ شدہ چند اسلامی قوانین و ضوابط کو غیر مؤثر بنانے، اور لادینی فلسفہ و ثقافت کو ترویج دینے کی کوششوں میں جو تیزی اور وسعت دیکھنے میں آرہی ہے، دینی حلقوں میں بے توجہی، بے حسی اور ہر قسم کے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لینے کا رجحان اس سے کہیں زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بالخصوص قومی سیاست میں دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والی قیادت کی قناعت پسندی ایک طرح کا روگ سا بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۶ء

’’لا الٰہ‘‘ کے ساتھ ’’الا اللہ‘‘ کی ضرورت

سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے اور ان خوارج کی ہی ایک شکل ہے جنہوں نے قرن اول میں اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر کے ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔ شیخ محترم نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد داعش کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے یا نہیں یہ ایک بحث طلب بات ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ داعش نے طور طریقے وہی اختیار کر رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۵ء

رائے ونڈ کا سالانہ تبلیغی اجتماع

گزشتہ روز جمعرات کو رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے سالانہ عالمی اجتماع کے دوسرے مرحلہ کے آغاز میں کچھ دیر کے لیے حاضری کا اتفاق ہوا۔ یہ میرا کم و بیش ہر سال کا معمول ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے حاضر ہوتا ہوں، ایک دو نمازوں میں شریک ہوتا ہوں اور ایک دو بزرگوں کے بیانات سن کر واپسی کر لیتا ہوں جس سے اس خیر کے کام میں تھوڑی سی شرکت ہو جاتی ہے، کچھ دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور دعوت و اصلاح کا اجتماعی عمل دیکھ کر ایمان کو تازگی میسر آجاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء

نومسلموں کے مسائل

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں اچھی خاصی تعداد میں رہتی ہیں اور انہیں دستور کے مطابق شہری حقوق حاصل ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے اندر تبلیغ کرنے اور انہیں غیر مسلم بنانے کے مواقع بھی انہیں میسر ہیں جن سے مسیحی اقلیت کے مشنری ادارے اور قادیانی مبلغین سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ مسیحی مشنریوں کی طرح غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے کوئی منظم کام قومی سطح پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر اس قسم کی کوئی تحریک پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۱۵ء

جنرل حمید گل مرحوم

جنرل حمید گل مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تاریخی جدوجہد اور تگ و دو کے اثرات ایک عرصہ تک تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔ ان کا تعلق پاک فوج سے تھا اور ان کا نام جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور جنرل اختر عبد الرحمن مرحوم کے ساتھ جہادِ افغانستان کے منصوبہ سازوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ جہاد افغانستان جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور جس کے مثبت و منفی دونوں قسم کے اثرات سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے یا انہیں بھگت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۱۵ء

فضلائے مدارس کے بارے میں حضرت مدنیؒ کی تجاویز

عید الفطر کی تعطیلات ختم ہوتے ہی دینی مدارس میں تعلیمی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز تک داخلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات نئے سال کی تعلیمی ترجیحات طے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ سال فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے لیے نئی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے روزگار اور مختلف قومی شعبوں میں دینی خدمات کے حوالہ سے ذہن سازی اور منصوبہ بندی ہماری ترجیحات میں عمومی طور پر شامل نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء

پرویز رشید صاحب کی فکری پسماندگی

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب نے کسی محفل میں مساجد و مدارس کے حوالہ سے گزشتہ دنوں جو گفتگو کی ہے اور اس کے جو حصے منظر عام پر آئے ہیں، ان سے ان کی فکری برادری کے بارے میں کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے کہ وہ دانش وروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کا کام دینی حلقوں، اداروں اور مراکز کے بارے میں تخیلات و تصورات کی دنیا میں قائم ہونے والے مفروضوں کی جگالی کرتے رہنا ہے۔ اس جگالی کا منظر تقریباً نصف صدی سے ہم بھی مسلسل دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۲۰۱۵ء

اندرونِ سندھ کا سفر

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۱۵ء

شاہ عبد اللہ مرحوم

شاہ عبد اللہؒ کم و بیش نصف صدی سے سعودی عرب کے حکومتی نظام کا اہم حصہ چلے آرہے تھے اور شاہ فہدؒ کی وفات کے بعد انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کے طور پر منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے عالم اسلام کی وحدت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دینی حلقوں کی معاونت کے لیے اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خصوصی محنت کی ہے اور بہت سے حوالوں سے انہیں ایک بیدار مغز اور ترقی پسند حکمران کے طور پر عالمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۱۵ء

جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے مینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں منعقدہ جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں سودی نظام کے خلاف جنگ، جاگیرداری نظام کے خاتمے اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کے لیے جدوجہد کو اپنی آئندہ حکمت عملی اور جماعتی کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ باتیں ملک کی اکثر دینی اور محب وطن سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں میں شامل چلی آ رہی ہیں۔ اگر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر پیش کیے جانے والے انتخابی منشوروں کا جائزہ لیا جائے تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۱۴ء

حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۱۴ء

مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار

مغربی دنیا کی مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبرداری کو دو صدیاں بیت گئی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی مذہب وہاں کے اعلیٰ حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کا احساس ابھی تک دلوں اور دماغوں سے کھرچا نہیں جا سکا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سپریم کورٹ میں یہ کیس آیا کہ دعا مذہب کی علامت ہے اس لیے ریاستی اداروں کے اجلاسوں کا آغاز یا اختتام دعا پر نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۱۴ء

مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

اہل السنۃ والجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے انتخابی معرکہ بالآخر جیت لیا ہے اور انتخابی عذر داری میں ان کے مخالف امیدوار کو نا اہل قرار دے کر مجاز اتھارٹی نے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔ جھنگ کا ضلع دینی راہ نماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے ایک اہم میدان رہا ہے۔ مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، مولانا حق نواز جھنگویؒ ، مولانا بشیر احمد خاکیؒ ، مولانا ایثار القاسمیؒ ، مولانا محمد اعظم طارقؒ اسی ضلع سے الیکشن لڑتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء

اجتماعاتِ مدارس

گزشتہ دنوں مختلف شہروں میں دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے پوتے مولانا عبید اللہ ازہر نے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ کے نام سے روحانی مرکز آباد کر رکھا ہے جہاں حضرت بہلویؒ کے معتقدین اور منتسبین کی آمد و رفت کی رونق قائم رہتی ہے اور ذکر و اذکار کے معمولات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مولانا موصوف کے ارشاد پر 20 مارچ کو خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں حاضری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ فروری ۲۰۱۴ء

اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس

جب حالات بہتر ہوئے اور بیت المال میں مختلف انواع کے اموال جمع ہونے شروع ہوگئے تو آنحضرتؐ نے ایک ایسا نظام بنا دیا کہ اگر کسی کو ضرورت کی کوئی چیز درکار ہوتی جسے وہ خود مہیا نہ کر پاتا تو حضورؐ سے درخواست کرتا، اور اس کی ضرورت پوری کر دی جاتی۔ جناب نبی اکرمؐ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی ضرورت مند آتا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو اگر اپنے پاس کچھ موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ کسی ساتھی سے کہہ کر دلوا دیتے، اور بسا اوقات قرض لے کر بھی اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۱۴ء

ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کی محافل کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس حوالہ سے جلسوں میں حاضری کے مسلسل تقاضے رہتے ہیں۔ مگر اسباق کی وجہ سے سب دوستوں کی فرمائش پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۱۴ء

شیخ الہند عالمی امن کانفرنس دہلی کا متفقہ اعلامیہ

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند ایجوکیشنل ٹرسٹ کے عنوان سے ۱۳ تا ۱۵ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند اور دہلی میں ’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی زیر قیادت برطانوی استعمار کے خلاف منظم کی جانے والی عظیم جدوجہد ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کو ایک صدی مکمل ہو جانے پر صد سالہ تقریبات کے حوالہ سے منعقد کی گئی اور اس میں بھارت کے طول و عرض سے شریک ہونے والے سرکردہ علماء کرام اور عوامی قافلوں کے علاوہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۱۳ء

لدھیانہ اور چندی گڑھ میں

دیوبند اور دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے 11 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم واہگہ بارڈر کراس کر کے بارہ بجے کے لگ بھگ انڈیا میں داخل ہوئے تو پروگرام یہ بنا کہ ظہر کی نماز امرتسر کی مسجد خیر دین میں ادا کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی راہ نماؤں نے جو دہلی اور دیوبند سے تشریف لائے ہوئے تھے اور امرتسر کے بس ٹرمینل پر پاکستان کے قافلہ کا انتظار کر رہے تھے، استقبال اور خیر مقدم کے مرحلہ سے فارغ ہوتے ہی تقاضہ کیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا سعد صاحب کا فکر انگیز بیان

مولانا سعد صاحب تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس دہلویؒ کے پڑپوتے ہیں اور چند سال قبل یہیں رائے ونڈ میں ان سے ملاقات ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہندوستان میں تعلیم کے دوران صرف ’’فضائل اعمال‘‘ نہیں پڑھی جاتی بلکہ اس کے ساتھ ’’منتخب احادیث‘‘ بھی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ امیر التبلیغ مولانا محمد یوسف دہلویؒ کا مرتب کردہ یہ مجموعہ ایمان، اعمال صالحہ، عبادات، معاملات، حلال و حرام، اخلاقیات اور باہمی حقوق کے بارے میں رسالت مآب ﷺ کے گراں قدر فرمودات پر مشتمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۱۳ء

تحریک انسداد سود پاکستان

مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانشوروں نے پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل فورم قائم کر لیا ہے اور نومبر کے تیسرے عشرہ سے عوامی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت میں بینک انٹرسٹ کو ربا (سود) قرار دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے کیس کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس کیس میں جو حضرات یا ادارے دینی حلقوں کی طرف سے فریق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۱۳ء

سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا سوالنامہ

وفاقی شرعی عدالت نے اب سے دس برس قبل بینک انٹرسٹ کو رِبٰوا (سود) قرار دے کر ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو ختم کرنے اور متبادل نظام و قوانین تجویز کر کے انہیں نافذ کرنے کا حکومت کو آرڈر جاری کیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ میں اپیل دائر کی گئی تو اس نے بھی چند جزوی ترامیم کے ساتھ اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ مگر جب اس کے بارے میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی تو فیصلہ صادر کرنے والے جج صاحبان فارغ ہو چکے تھے اور نئے ججوں پر مشتمل شریعت اپلیٹ بینچ نے فیصلے کی سماعت میں چند فنی کمزوریوں کا حوالہ دے کر اس کی از سرِ نو سماعت کا حکم صادر فرما دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء

انتخابی سیاست اور نفاذِ اسلام

نفاذ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے۔ البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک، اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ اس سے ہٹ کر صرف انتخابات اور نارمل سیاسی جدوجہد پر اکتفاء کرتے چلے جانا محض خوش فہمی بلکہ خود فریبی کہلائے گا اور اس فریب کے دائرے سے ہماری دینی جماعتیں جس قدر جلد باہر نکل آئیں وہ ان کے لیے اور ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مصر، آل سعود اور ائمہ حرمین

مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی حکمرانوں کی سیاسی و اخلاقی تائید کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی صورت میں ان کی مالی امداد کر کے سعودی حکومت نے اپنے بارے میں بہت سے سوالات کھڑے کر لیے ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن آج کی نسل کے لیے ضرور نئے ہیں اور اپنے ماضی سے بے خبری کے باعث علم و دانش کا سطحی اور معروضی ماحول حیرت اورشش و پنج کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۱۳ء

لباس و ستر پوشی اور اسلامی تعلیمات

اے پی پی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ میں 6 اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لندن کے علاقے ورسسٹر شائر کے ایک مڈل سکول نے 9 سال تک کی عمر کی طالبات پر اسکرٹ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق واک ورڈ چرچ آف انگلینڈ مڈل سکول کا موقف ہے کہ طالبات نے بہت ہی چھوٹے اسکرٹ پہننا شروع کر دیے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوری میں پابندی لگائی ہے۔ سکول انتظامیہ نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ ستمبر سے ٹراؤزر اور واجبی سا بلاؤز پہننے کی بجائے یونیفارم کا ٹاپ زیب تن کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۱۳ء

افغان طالبان کی سرگرمیاں

افغان طالبان اور امریکہ کے مجوزہ مذاکرات اس وقت تعطل کی حالت میں ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ جناب سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے اور ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار سرِدست صرف اتنا ہے کہ وہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے حالیہ دورۂ کابل کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال کرانے میں مدد دے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۱۳ء

مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

عام انتخابات کے نتائج ہماری خواہشات کے خلاف ضرور ہیں مگر توقعات کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی قوتیں متحد ہو کر الیکشن لڑیں اور پارلیمنٹ میں اتنی قوت ضرور حاصل کر لیں کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی اور بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکہ صرف اس لیے کہ دینی قوتیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۱۳ء

انتخابات اور توقعات

مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں گھوم پھر کر ان امیدواروں کے درمیان مفاہمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہم مسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے تین بزرگوں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کی طرف سے اس سلسلہ میں مشترکہ دردمندانہ اپیل مسلسل شائع ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۱۳ء

انتخابات ۲۰۱۳ء ۔ دینی جماعتوں کے قائدین سے اپیل

ملک کے دیگر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی پاکستان شریعت کونسل کے فورم پر قومی سیاست میں شریک مذہبی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ متحدہ محاذ بنا کر اس الیکشن میں مشترکہ طور پر شریک ہوں یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ مذہبی ووٹ کے تقسیم ہو جانے کے امکانات کو کم سے کم کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کریں مگر یہ گزارش لائق التفات نہیں سمجھی گئی اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے انتخابی راستے جدا جدا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۱۳ء

حضورؐ کی مجلسی زندگی

جناب نبی اکرم ﷺ کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۱۳ء

قاضی حسین احمدؒ

قاضی صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا، ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا، یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی ﷺ کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جنوری ۲۰۱۳ء

چند دن متحدہ عرب امارات میں

متحدہ عرب امارات میں پانچ دن گزار کر گزشتہ روز (جمعۃ المبارک) جدہ پہنچ گیا ہوں۔ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں کیں اور آرام اور سیر و سیاحت میں زیادہ وقت گزرا۔ شارجہ میں پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ کے پاس رہا جو گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جمعیۃ طلباء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے ایک دور میں صدر رہے ہیں۔ ۱۹۷۵ء کے دوران چند روز کے لیے میرے جیل کے رفیق بھی تھے، کم و بیش چھبیس سال سے شارجہ کی ایک کمپنی میں ملازم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحقؒ کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۲۰۱۲ء

مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے اہتمام وتدریس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف عوامی محاذ کی عملی قیادت کررہے ہیں جس میں انہیں ملک کے طول وعرض میں مسلسل عوامی جلسوں اور دوروں کا سامنا ہے، جبکہ قلمی محاذ پر رائے عامہ کی راہ نمائی اور دینی جدوجہد کی تاریخ کو نئی نسل کے لیے محفوظ کرنے میں بھی وہ اسی درجہ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ اور خود اپنے نام مشاہیر کے خطوط کو آٹھ ضخیم جلدوں میں جمع کرکے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۲۰۱۲ء

اسلامی خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکمرانی

تا ۴ جنوری کو جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کی مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام فضلائے درس نظامی کے ایک تربیتی کورس میں مسلسل تین روز تک ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کا موقع ملا۔ یہ کورس ایک تعلیمی سال کے دورانیے پر مشتمل ہوتا ہے اور کئی سالوں سے جاری ہے، مختلف اصحاب فکر و دانش اپنے اپنے پسندیدہ موضوعات پر اس میں گفتگو کرتے ہیں، مجھے بھی ہر سال دو تین روز کے لیے حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور منتظمین کے ساتھ ساتھ فضلائے درس نظامی کا ذوق اور طلب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری تا یکم فروری ۲۰۱۲ء

شیطان کا پچھتاوا

حافظ ابن حجر المکی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابلیس نے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ملاقات کے موقع پر گزارش کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں، آپ اس کی قبولیت کی سفارش کر دیجیے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابلیس سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ آدمؑ کی قبر کو سجدہ کر دے تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ابلیس کو یہ بات بتائی تو وہ غصے میں آگیا اور کہا کہ میں نے زندہ آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا تو اب اس کی قبر کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتا ہوں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷نومبر ۲۰۱۱ء

خطبائے کرام سے چند گزارشات

چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

ہجرت و پناہ گزینی، کل اور آج

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نیویارک نے جون ۲۰۱۱ء کے آخری شمارے میں پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت ایک کروڑ پچپن لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے ۸۰ فیصد کے میزبان غریب ممالک ہیں۔ جبکہ ۲۰۱۰ء کے دوران پونے تین کروڑ افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

دین کے مختلف شعبوں میں تقسیم کار کی اہمیت

دین کے کاموں کی، مختلف شعبوں میں تقسیم فطری ہے اور حضرات صحابہ کرامؓ کے دور سے چلی آرہی ہے۔ حدیث کی روایت کا اہتمام کرنے والے صحابہ کرام اپنا الگ امتیاز رکھتے تھے، قرآن کریم کی تفسیر و تاویل میں امتیازی شخصیات الگ نظر آتی ہیں، فقہ و استنباط کا ذوق رکھنے والی شخصیات دوسروں سے ممتاز دکھائی دیتی ہیں، کچھ صحابہ کرام فتنوں سے آگاہی اور ان کی نشاندہی کے میدان میں جداگانہ ذوق کے حامل رہے ہیں، بعض ممتاز صحابہ کرام کا قرآن کریم کے حفظ و قرأت میں الگ سے نام لیا جاتا ہے، جرنیل صحابہ کرام کا امتیاز بھی موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اپریل ۲۰۱۱ء

افکار مفتی محمودؒ اور عصر حاضر

بنیادی طور پر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جو قریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں، ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں، اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۰ء

لاہور کا اجتماع اور علماء دیوبند کا مشترکہ موقف

ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماء کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۱۰ء

مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

مطالعۂ مذاہب کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ ہم جس ماحول اور تناظر میں بات کر رہے ہیں اس میں مذہب اور دین کے بارے میں کیا سمجھا جا رہا ہے اور اس کے حوالہ سے لوگوں کے نظریات و افکار کیا ہیں؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا اولین خطاب چونکہ عرب سوسائٹی سے تھا اور ان مذاہب و ادیان کے ساتھ ان کا مکالمہ تھا جس سے اسے سابقہ درپیش تھا اس لیے قرآن کریم نے عام طور پر یہود و نصاریٰ، مشرکین اور صابئین وغیرہ کو سامنے رکھ کر عقائد میں مجادلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۱۰ء

سہ ماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

صفر کے پہلے پیر کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا سہ ماہی امتحان ہوتا ہے، یہ ایک دن کا تقریری امتحان ہوتا ہے اور اس سے قبل طلبہ کا دو دن کا تیاری کے لیے تقاضا ہوتا ہے جبکہ امتحان کے بعد تین چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح مجھے اس ہفتہ کے دوران چند روز گھومنے پھرنے کے لیے مل جاتے ہیں اور میں ان سے بھرپور استفادے کی کوشش کرتا ہوں۔ انہی دنوں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا کراچی میں اجلاس تھا جس کے لیے دعوت نامہ موصول ہو چکا تھا اور برادرم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے فون پر بھی تاکید کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۱۰ء

پاکستان کا مقصدِ وجود اور صورتِ حال: مقتدرہ سے چند گزارشات

دینی جماعتوں کے اتحاد کے سلسلے میں راقم الحروف کی گزارشات کے حوالے سے حضرت مولانا مجاہد الحسینی، مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا محمد احمد حافظ، مولانا محمد شفیع چترالی ، مولانا عبد القدوس محمدی اور دیگر حضرات نے مختلف مضامین میں مفید اور معلوماتی گفتگو فرمائی ہے، ان کی روشنی میں کچھ معروضات چند روز میں تفصیل کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۱۰ء

ماہِ محرم کا سبق

پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی تعلیمی شعبہ کے باذوق حضرات میں سے ہیں، میرے پرانے مقتدی اور حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے خصوصی عقیدت مند ہیں، اس لحاظ سے ’’وسیع المشرب‘‘ ہیں کہ استفادے کا تعلق تمام مکاتبِ فکر کے سنجیدہ علماء کرام سے رکھتے ہیں۔ ’’مشرق سائنس کالج‘‘ کے نام سے قائم کردہ ان کے تعلیمی نیٹ ورک میں سات ہزار کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ دسمبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں درس قرآن کی چند محافل

حسب سابق اس سال بھی رمضان المبارک کا پہلا جمعہ دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا میں پڑھایا اور دو تین روز تک تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصہ کے طور پر کچھ معروضات پیش کیں۔ اس کے علاوہ بالٹی مور، نیوجرسی، برونکس اور لانگ آئی لینڈ کی متعدد مساجد میں قرآن کریم کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے اعجاز کے بیسیوں پہلو مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۹ء

امامِ اہلِ سنتؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا کہ وہ دور طالب علمی میں سالہا سال تک مجلس احرار اسلام کے رضاکار رہے اور تحریک آزادی میں اس پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے۔ ان کی اس دور کی دو یادگاریں ہمارے گھر میں ایک عرصہ تک موجود رہی ہیں، ایک لوہے کا سرخ ٹوپ جو وہ پریڈ کے وقت پہنا کرتے تھے اور دوسری کلہاڑی۔ لوہے کا سرخ ٹوپ تو اب موجود نہیں ہے لیکن ان کی کلہاڑی اب بھی موجود ہے اور ان کے احراری ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اسی دوران وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارکن بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۰۹ء

رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع ۲۰۰۸ء

رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے حوالہ سے میرا معمول یہ چلا آرہا ہے کہ اجتماع کے دوسرے روز یعنی ہفتہ کے دن حاضری دیتا ہوں اس طور پر کہ صبح گوجرانوالہ سے روانہ ہوتا ہوں اور مغرب رائے ونڈ میں پڑھ کر واپسی کرتا ہوں۔ مگر اس سال یہ معمول تبدیل کرنا پڑا اس لیے کہ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام سے قدیمی تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں اس روز ایک نوجوان کی شادی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ نکاح بہرحال میں ہی پڑھاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۸ء

افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات

افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار کرنا ہوگی۔ ادھر عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریوس نے بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۰۸ء

علم الکلام اور اس کے جدید مباحث

علم العقائد اور علم الکلام کے حوالے سے اس وقت جو مواد ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے، وہ اس بحث و مباحثہ کی ایک ارتقائی صورت ہے جس کا صحابہ کرامؓ کے ہاں عمومی طور پر کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام کا دائرہ مختلف جہات میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایرانی، یونانی، قبطی اور ہندی فلسفوں سے مسلمانوں کا تعارف شروع ہوا اور ان فلسفوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و سوالات نے مسلمان علماء کو معقولات کی طرف متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ و ۲۲ مئی ۲۰۰۸ء

موجودہ معروضی حالات اور دینی جدوجہد کا مستقبل

گزشتہ منگل (۱۲ فروری) کو کافی عرصہ کے بعد پشاور جانے کا اتفاق ہوا، جامعہ عثمانیہ میں وفاق المدارس کے زیراہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے چار روزہ ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کچھ موضوعات پر مجھے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شورٰی نے گزشتہ سال جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا مجھے اور مانسہرہ کے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو بھی رکن بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۰۸ء

پاکستان میں علماء کرام کا کردار

گزشتہ ہفتے معروف ماہنامہ جریدہ ”قومی ڈائجسٹ“ کے مدیر محترم نے دو نشستوں میں میرا تفصیلی انٹرویو لیا، ماضی کی یادیں کریدیں، بہت سے نازک مسائل پر دکھتی رگوں کو چھیڑا، خاندانی پس منظر اور تعلیمی مراحل کے بارے میں سوالات کیے اور موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کے لیے متعدد نکتے اٹھائے۔ تفصیلی انٹرویو تو ”قومی ڈائجسٹ“ میں ہی شائع ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۰۷ء

مغرب کا علمی جائزہ لینے کی ضرورت ہے

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکریٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ، جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ کے آغاز میں پاکستان آئے تھے، گزشتہ روز واپس لندن چلے گئے ہیں۔ مفتی برکت اللہ صاحب کا تعلق بھارت میں ممبئی کے علاقہ بھیونڈی سے ہے، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء میں سے ہیں، ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں اور مختلف حوالوں سے دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

امریکا میں اسلامی ادارے اور سرگرمیاں

امریکا میں حاضری کے دوران مختلف دینی اداروں میں جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ تمام تر مشکلات اور خدشات کے باوجود دینی مراکز اور اداروں کا کام جاری ہے۔ جس روز نیویارک پہنچا، کوئینز میں دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات جاری تھے، دو تین روز وہیں قیام رہا اور مختلف درجات کے طلبہ کا امتحان بھی لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ ستمبر ۲۰۰۷ء

امریکا کے چند اردو اخبارات اور کچھ خبریں

آج کے کالم میں امریکا کے مختلف شہروں میں شائع ہونے والے اردو اخبارات کا مختصر تعارف اور اس کے ساتھ ان کی شائع کردہ چند اہم خبریں قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہیں۔ امریکا میں میری معلومات کے مطابق ایک درجن کے لگ بھگ اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں، جو اخبارات سے زیادہ اشتہارات کا مجموعہ کہلانے کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۷ء

مدینہ منورہ میں تین دن

میں ۱۳ اگست کو جدہ پہنچا تھا اور آج ۲۲ اگست کو نیویارک کے لیے روانگی کی تیاری کر رہا ہوں۔ اس دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری اور عمرہ کی سعادت کے ساتھ ساتھ ان دو مقدس شہروں اور جدہ میں متعدد دینی و علمی محافل میں شرکت کا موقع ملا اور مختلف اصحابِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ میرے چھوٹے بھائی اور پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبد الحق خان بشیر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۷ء

دینی مدارس کو درپیش آزمائش اور اسوۂ حسنہ

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ تا ۲۵ جولائی ۲۰۰۷ء

ٹونی بلیئر: فکری و نظریاتی محاذ کا تازہ دم پہلوان

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ستائیس جون کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ مسٹر گورڈن براؤن پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ حکمران لیبر پارٹی کی قیادت میں یہ تبدیلی برطانوی رائے عامہ کے اس شدید دباؤ کا نتیجہ ہے جو مسٹر ٹونی بلیئر کی حکومت کی طرف سے عراق کی جنگ میں اختیار کی جانے والی پالیسی کے خلاف سامنے آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۰۷ء

امامِ حرم شیخ عبد الرحمٰن السدیس کا علماء سے خطاب

برطانیہ کے دورہ کے تاثرات کے بعض حصے باقی ہیں، لیکن ان سے پہلے امام حرمِ مکہ سماحۃ الشیخ عبد الرحمٰن السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری کا تذکرہ ضروری ہے۔ امام موصوف کا شمار عالمِ اسلام کے ممتاز اصحابِ علم میں ہوتا ہے اور وہ صرف قرآن کریم کو اچھا پڑھنے میں ہی ممتاز نہیں ہیں، بلکہ علومِ قرآن کریم اور سنت نبویہ علی صاحبہا التحیۃ و السلام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۰۷ء

دورہ برطانیہ: تاثرات و مشاہدات

اس دفعہ برطانیہ میں ۵ مئی سے ۲۳ مئی تک قیام رہا اور حسب معمول مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کے علاوہ احباب سے ملاقاتیں کیں، تعلیمی اداروں کے مشاورتی اجلاسوں میں حاضری ہوئی اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں آئندہ تین سال کے لیے فورم کے نئے عہدہ داروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۷ء

برطانیہ میں چند روز

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کے موقع پر دو ہفتوں کی گنجائش تھی، اس میں چند روز اور شامل کر کے میں اٹھارہ بیس روز کے لیے ۵ مئی کو لندن آ گیا ہوں۔ اسی روز چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور کے لیے سفر کا آغاز کیا، میں صبح نمازِ فجر کے فوراً بعد گھر سے لاہور ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ و ۱۲ مئی ۲۰۰۷ء

یومِ نسواں اور فری سوسائٹی کا منطقی انجام

آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا اہتمام کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ۸ مارچ ۱۸۵۷ء کو نیویارک کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین نے اپنی کم تنخواہوں پر احتجاج کیا تھا اور اس کے بعد ایک لیبر یونین بنا لی تھی، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ عورتوں کی پہلی لیبر یونین تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۷ء

ایک اور بل

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں حقوق نسواں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اور بل پیش کر دیا ہے، جس میں عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے، ان کی جبری شادی، قرآن کریم کے ساتھ شادی کے نام سے انہیں نکاح کے حق سے محروم کرنے اور ونی جیسی معاشرتی رسموں اور رواجوں کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۰۷ء

’’غیر قانونی‘‘ مساجد کو مسمار کرنے کا مسئلہ

اسلام آباد میں مبینہ طور پر غیر قانونی مساجد میں سے چند مساجد کو مسمار کرنے اور دیگر مساجد کو گرانے کا نوٹس دیے جانے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہ ایک نئے بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور دینی جماعتوں کا احتجاج اس سلسلے میں منظم ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مساجد اور کچھ مدارس اجازت کے بغیر تعمیر ہوئے ہیں جو غیر قانونی ہیں اور قانون کے مطابق انھیں مسمار کرنا ضروری ہے۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تمام مساجد اور مدارس کو شہید کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۷ء

مکالمہ بین المذاہب: ضرورت، اہمیت اور تقاضے

جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ میں قائم مطالعہ مذاہب کا مرکز اپنے اہداف کی طرف سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح وہ دینی مدارس کے ماحول میں وقت کی ایک اہم ضرورت کا احساس اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جامعہ کے سربراہ مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اس مقصد کے لیے ایک ماہوار جریدہ ”مکالمہ بین المذاہب“ کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۷ء

منافق کون ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ جو لوگ ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں، حالانکہ اس بل کی، جو اب ایکٹ بن چکا ہے، مخالفت کرنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں عورتوں کے ان حقوق کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں جو پاکستانی معاشرے میں عورت کو درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

ایک نام اور نسبت کی تین علمی شخصیات

سلمان ندوی کے نام سے تین بزرگ ہمارے حلقہ میں معروف ہیں اور میری تینوں سے نیاز مندی ہے۔ ان میں سب سے سینئر ڈاکٹر سید سلمان ندوی ہیں، جو تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کے فرزند گرامی ہیں، قدیم و جدید علوم دونوں پر دسترس رکھتے ہیں، ایک عرصہ تک جنوبی افریقہ کی ڈربن یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۶ء غالباً

انسانی معاشرہ اور مسلم سوسائٹی پر ”مولوی“ کے احسانات

میں ان دنوں چند روز کے لیے دوبئی آیا ہوا ہوں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ صاحب کے ہاں شارجہ میں قیام پذیر ہوں۔ خیال ہے کہ ۱۳ نومبر کو رات گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا اور ۱۴ نومبر منگل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ”دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے“ کے عنوان پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۶ء

باجوڑ مدرسہ پر بمباری اور حدود بل سے متعلق چند معروضات

باجوڑ میں دینی مدرسے پر وحشیانہ بمباری اور اسی سے زائد افراد کی شہادت کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے بین الاقوامی حلقے بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ کارروائی فی الواقع دہشت گردوں کے خلاف کی گئی ہے۔ جو تین افراد اس بمباری میں زخمی ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

ایک تعزیتی سفر اور علماء سے ملاقاتیں

عید الفطر سے ایک روز قبل ہمارے ایک پرانے بزرگ مولانا روشن دین صاحب ٹیکسلا میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے دور میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل اور پھر امیر رہے۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا ۔۔۔۔ اس سے دو روز قبل ستائیسویں شب کو ہمارے ایک اور پرانے جماعتی ساتھی مولوی عبد الکریم کا مریدکے میں انتقال ہوا مگر بے حد خواہش کے باوجود ان کے جنازہ میں بھی حاضری نہ ہو سکی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جمعیۃ علمائے اسلام کے پرانے کارکنوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۶ء

الرشید ٹرسٹ کی فلاحی و رفاہی خدمات

گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ کے ایک ہال میں ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ الرشید ٹرسٹ رفاہی شعبہ میں اپنی خدمات کا تسلسل نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں پیشرفت بھی ہو رہی ہے۔ اس پروگرام میں گوجرانوالہ کے کم و بیش دو سو خاندانوں کو رمضان المبارک پیکج کے عنوان سے اشیائے خورد و نوش کی صورت میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس طرح کی امدادی سرگرمیاں ملک کے مختلف حصوں میں جاری ہیں اور ہزاروں خاندانوں تک امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۶ء

شرعی سزائیں اور موجودہ بائبل

حدود آرڈیننس کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ (۱) موت کی سزا (۲) سنگسار کرنا (۳) کوڑوں کی سزا (۴) جسمانی اعضا کاٹنے کی سزا اور (۵) کھلے بندوں سزا دینے کا طریقہ، آج کے دور میں ان سزاؤں کو تشدد، اذیت اور تذلیل کی سزائیں قرار دے کر انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ صرف قرآن کریم کی طے کردہ سزائیں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس پر اعتراضات اور ان کا پس منظر

گزشتہ دنوں مختلف محافل میں حدود آرڈیننس اور ان کے حوالہ سے اٹھائے جانے والے سوالات پر کچھ عرض کرنے کا موقع ملا۔ ان گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ”حدود“ کا لفظ قرآن کریم میں طلاق، وراثت اور دیگر بہت سے حوالوں سے استعمال ہوا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ قرآنی ضابطے اور قوانین حدود اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۰۶ء

پوپ کا بیان ۔ وضاحتیں یا لیپاپوتی؟

پاپائے روم نے اس بات پر افسوس اور صدمہ کا اظہار کیا ہے کہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ان کی تقریر کے بعض حصوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ویٹی کن سٹی کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کارڈینل، ٹارسیسیو برٹون کے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ مسلمان ان کی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم نے یہ بھی کہا ہے کہ جن الفاظ کے حوالے سے مسلمان اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۲۰۰۶ء

یومِ آزادی ۱۴ اگست یا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب

حکیم محمد سعید شہید رحمہ اللہ کی بات میرے ذہن سے اتر چکی تھی، مگر مولانا عبد المجید لدھیانوی نے پھر یاد دلا دی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر ہم نے اس حوالے سے کچھ پروگرام بنانا چاہے اور اس عنوان سے کچھ فکری اور نظریاتی پروگراموں کی ترتیب کرنا چاہی تو اس سلسلے میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے مختلف ارباب دانش کو خطوط لکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور ہمارا سیکولر طبقہ

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے بائیس جون کو معاصر قومی اخبار ”ایکسپریس“ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ”مذہب کو چھوڑ کر پاکستان میں سیکولر ازم نافذ کیا جائے۔“ انہوں نے اس گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ ”مسلمانوں کا سب سے بڑا مجرم مُلا ہے۔“ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۰۶ء

دینی تعلیم کے مختصر کورسز ۔ ضرورت و اہمیت

گزشتہ روز تھوڑی دیر کے لیے فیصل آباد جانا ہوا، ملت ٹاؤن میں واقع جامعہ دارالارشاد والاصلاح میں ’’فہم دین کورس‘‘ کے آغاز کی تقریب تھی۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی کا شمار ایک دور میں ملک کے معروف خطباء میں رہا ہے۔ جس دور میں وہ گوجرانوالہ کی جامع مسجد پل لکڑ والا میں خطیب تھے، میرا طالب علمی کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد وہ جناح کالونی فیصل آباد کی مرکزی جامع مسجد میں خاصا عرصہ خطیب رہے اور اب ملت ٹاؤن فیصل آباد میں مذکورہ بالا عنوان سے ادارہ قائم کر کے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۶ء

برطانیہ میں چند روز

۲۴ مئی کو برطانیہ پہنچا ہوں اور ۷ جون کو واپسی کی فلائیٹ ہے۔ اس دوران ساؤتھال براڈوے کی ابوبکر مسجد میں جمعۃ المبارک کے بیان کے بعد شام کو نوٹنگھم پہنچ گیا جبکہ جمعرات کو ورلڈ اسلامک فورم کے چیئر مین مولانا محمد عیسیٰ منصوری سے ملاقات ہوئی جو اسی روز انڈیا اور بنگلہ دیش کے سفر سے واپس پہنچے تھے۔ دن کا بیشتر حصہ ابراہیم کمیونٹی کالج میں گزرا اور میرے لیے یہ بات نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی کہ اسی روز مدینہ منورہ سے تشریف لانے والے ایک محترم بزرگ حضرت قاری بشیر احمد صاحب نے کالج میں آنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۶ء

نظامِ عدل، سیرت طیبہ کی روشنی میں

وزیر آباد بار ایسوسی ایشن نے سترہ مئی کو سیرت النبیؐ کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا جو بار کے صدر چودھری اعجاز احمد چیمہ ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوئی اور ایڈیشنل سیشن جج میاں فرید حسین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مجھے ”نظامِ عدل سیرت طیبہ کی روشنی میں“ کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۰۶ء

عامر چیمہ کی شہادت

عامر چیمہ کی شہادت نے وہ زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں جو یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمانانِ عالم کے دلوں پر لگ گئے تھے اور مسلمانوں نے احتجاج اور جذبات کے پرجوش اظہار کے ساتھ ان زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھ لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۲۰۰۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

علامہ صاحب کے ساتھ میری جماعتی اور تحریکی رفاقت کا دورانیہ کم و بیش اڑتیس سال کے عرصہ کو محیط ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ضلع گوجرانوالہ کی دینی اور قومی سیاست میں علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا احمد سعید ہزاروی، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، مولانا علی احمد جامیؒ اور راقم الحروف جمعیۃ علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ہم مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی ٹیم شمار ہوتے تھے اور یہ ٹیم ان کی سرپرستی اور قیادت میں دینی و قومی سیاست میں ضلع کی سطح پر ایک بھرپور کردار کی حامل رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۰۶ء

مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے

ماہ رواں کے آغاز میں کراچی حاضری کے موقع پر جامعۃ الرشید میں اساتذہ کرام کی ایک نشست میں ”مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے“ کے عنوان سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، اس کے علاوہ جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ، کراچی میں درجہ تخصص کے طلبہ کے سامنے دو نشستوں میں اس عنوان پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ و ۲۸ مارچ ۲۰۰۶ء

جناب بش! ایک نظر ادھر بھی

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر جارج بش تین مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں اور پاکستانی قوم ملک گیر ہڑتال کے ساتھ ان کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ تین مارچ کی یہ ہڑتال اگرچہ ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں سے بعض اخبارات میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ان کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۶ء غالباً

برداشت اور عدمِ برداشت

ڈنمارک کے اخبار ”جیلنڈز پوسٹن“ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کے رد عمل کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلم ممالک میں عوام اور ان کی حکومتوں کے درمیان اس حوالے سے فاصلہ بھی بڑھنے لگا ہے۔ مسلم حکومتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج تو ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۶ء

مطالعہ مذاہب: مسلم سکھ تعلقات کا ایک جائزہ

۱۲، ۱۳، ۱۴ فروری ۲۰۰۶ء کو جامعہ اسلامیہ کامونکی میں مطالعہ مذاہب کے سلسلے میں بدھ مت اور سکھ مذہب کے بارے میں سیمینار تھا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی کے تعاون سے جامعہ اسلامیہ کامونکی نے یہ روایت رکھی ہوئی ہے کہ تین چار ماہ کے وقفہ سے کسی مذہب کے حوالے سے ایک مطالعاتی اور معلوماتی سیمینار کا اہتمام ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۶ء

مغرب کو اپنا گستاخانہ و معاندانہ طرز عمل ترک کرنا ہو گا

سابق وزیر خارجہ جناب آغا شاہی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں بتایا ہے کہ ڈنمارک کے جس اخبار نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شائع کر کے دنیائے اسلام کے غیظ و غضب کو دعوت دی ہے، اس اخبار کے مالکان نے مسلمانوں کے اس غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۶ء

مولانا سید اسعد مدنیؒ

شیخ الاسلا م حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے جانشین اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ حضر ت مولا نا سید اسعدؒ مدنی گزشتہ رو ز انتقال کر گئے ہیں، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے کومہ میں تھے اور کافی عرصہ بستر علالت پر رہنے کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں۔ حضرت مولا نا سید حسین احمدؒ مدنی برصغیر پاک وہند بنگلہ دیش کی ممتاز شخصیات میں سے تھے جنہیں برطانوی استعمار کے خلاف اس خطہ کے عوا م کی تحریک حریت میں علامت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کے تذکرہ کے بغیر جدوجہد آزادی کا کوئی باب مکمل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۶ء

قرآن کریم سے وفاداری: مسلم حکمرانوں کے لیے اسوۂ فاروقیؓ

یکم فروری ۲۰۰۶ء کو پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے محمود شیرانی ہال میں محکمہ اوقاف پنجاب اور اورینٹل کالج کے اشتراک سے سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سینئر استاذ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے کی، جبکہ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف صاحبزادہ سید سعید الحسن مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۶ء

شراب نوشی کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کا مستحسن اقدام، لیکن۔۔۔

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۶ جنوری ۲۰۰۶ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے شراب پینے کی بنیاد پر برطرف ہونے والے پولیس کانسٹیبل کی اپیل نمٹاتے ہوئے اس کی برطرفی کے حکم کو اس کی جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ کسی شرابی کو محکمہ پولیس میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۶ء

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۰۶ء

ظہورِ امام مہدی کا عقیدہ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا اور قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہونا ہمارے معتقدات میں سے ہے اور اس کے ساتھ حضرت امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دنیا میں دوبارہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی راہ ہموار کرنا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۰۵ء

ہندو مذہب حقیقت کے آئینے میں

جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ان کے رفقاء ہدیہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں کہ دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے تعاون سے ”مطالعہ مذاہب“ کے پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور اس طرح ایک اہم ترین دینی ضرورت کسی حد تک پوری ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ کے آثار

میں دس رمضان المبارک کو بیرون ملک سفر سے واپس پہنچا تو پہلے سے طے شدہ مصروفیات نے کسی اور طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ گکھڑ میں معارف اسلامیہ اکادمی نے چند سالوں سے شعبان المعظم اور رمضان المبارک کی تعطیلات میں دورہ تفسیر قرآن کریم کا اہتمام کر رکھا ہے۔ ہمارے فاضل ساتھی مولانا داؤد احمد، جو مدرسہ مظاہر العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۲۰۰۵ء

بڑی آزمائش: علماء کرام سے چند گزارشات

میں اس وقت آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہوں۔ گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمٰن اور آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الحی کے ہمراہ یہاں پہنچا ہوں۔ ہم نے حکومت آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر امور دینیہ مولانا مفتی محمد ابراہیم اور باغ کے ضلع مفتی مولانا مفتی عبد الشکور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۰۵ء

قدیم جاہلانہ اقدار اور تہذیبِ نو: ایک ہی سکے کے دو رخ

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی معجزات پر بھی ہمارا ایمان ہے، البتہ ہم نے ان کا مشاہدہ نہیں کیا اور دیکھے بغیر خبرِ صحیح کی بنیاد پر ان پر ایمان رکھتے ہیں، مگر قرآن کریم وہ معجزہ ہے جس پر ہمارا ایمان بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۰۵ء

تحریک واگزاریٔ مسجد نور گوجرانوالہ اور نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم

نوید انور نوید مرحوم اس تحریک میں ہمارے سربراہ تھے۔ ان کا دماغ، زبان، قلم اور جسم اس تحریک کے لیے مسلسل حرکت میں رہے اور ان کے جنون نے ہمیں بھی مسلسل حرکت میں رکھا۔ نوید انور نوید مرحوم کے ساتھ ہمارا بہت اچھا وقت گزرا۔ وہ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے کھرے دشمن تھے۔ انہوں نے ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک میں بھی بطور کارکن اور پھر بطور وکیل ہمیشہ سرگرم کردار ادا کیا اور بے لوث خدمات سرانجام دیں۔ ان کی جدوجہد اور تگ و تاز کی بہت سی یادیں ذہن کے گوشوں میں محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۰۵ء

سونامی، قطرینا اور اب زلزلہ: پوری نسل انسانی کے لیے ایک اشارہ

زلزلہ کی خبر میں نے واشنگٹن میں سنی۔ دارالہدیٰ سپرنگ فیلڈ میں حسب معمول درس حدیث کی مصروفیات میں تھا کہ ایک نمازی نے خبر دی کہ پاکستان میں زلزلہ آیا ہے اور اسلام آباد میں خاصا نقصان ہوا ہے۔ دارالہدیٰ کے دفتر میں انٹرنیٹ پر بعض پاکستانی اخبارات دیکھے تو پتہ چلا کہ نقصانات کا دائرہ صرف اسلام آباد تک ہی محدود نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ باہمی تنازعات کو جنگ کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ ستمبر ۲۰۰۵ء

جامعۃ الرشید کی فکری نشستوں میں حاضری

جامعۃ الرشید نے عصر حاضر کے تقاضوں اور ضروریات کی طرف علمائے کرام کو متوجہ کرنے اور ان کی روشنی میں نئی کھیپ تیار کرنے کے لیے جو کام شروع کر رکھا ہے، وہ یقیناً دلی خوشی کا باعث بنتا ہے اور بے ساختہ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو اپنے مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار کریں۔ آمین یا رب العالمین۔ جامعہ کے اساتذہ کے ساتھ فجر کی نماز کے بعد طویل نشست ہوئی جس میں ملک کی عمومی صورتحال اور دینی جدوجہد کے علاوہ نوجوان علماء کی ذہنی، فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کے حوالے سے بہت سے امور زیر بحث آئے اور باہمی تبادلہ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی مخالفت کرنے والوں کا شکریہ

گزشتہ بدھ اور جمعرات دو دن خاصے مصروف گزرے۔ ان دنوں دارالعلوم تعلیم القرآن باغ آزاد کشمیر سے ملحق جامعہ عائشہ للبنات میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی اور اسی روز وہیں جمعیت طلبہ اسلام آزاد کشمیر کے دو روزہ تربیتی کنونشن کا آغاز تھا۔ میں نے حسب معمول آتے جاتے تین چار پروگرام اور بھی ساتھ شامل کر لیے اور آزاد کشمیر کا سن کر میرے دو نواسے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۲۰۰۵ء

الحاج سید امین گیلانی ؒ

مجھے آج ان بھولے بھالے دانشوروں اور قلمکاروں پر ہنسی آتی ہے جو بڑی آسانی کے ساتھ یہ لکھ اور کہہ دیتے ہیں کہ برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے لیے ایک قرارداد منظور ہوئی اور اس پر چھ سات سال کی بیان بازی، خط و کتابت، عوامی اجتماعات اور مظاہروں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آگیا۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس کے پیچھے ان جانبازوں اور سر فروشوں کے مقدس خون اور قربانیوں کی کتنی قوت کارفرما تھی جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنے جسموں کو چھلنی کروا لیا، پھانسی کے پھندوں کو چوما، جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۰۵ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

ماڈل ٹاؤن لاہور میں اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی کی نگرانی میں ایک علمی و تحقیقی ادارہ ”مرکز التحقیق الاسلامی“ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ حافظ صاحب کا تعلق روپڑی خاندان سے ہے اور اچھے علمی و تحقیقی ذوق سے بہرہ ور ہیں۔ ماہنامہ ”محدث“ کے عنوان سے ایک ماہوار جریدہ بھی شائع کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۰۵ء

حسبہ ایکٹ اسلامی تاریخ کے تناظر میں

صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت نے بالآخر ”حسبہ ایکٹ“ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے اور جس انداز سے اپوزیشن پارٹیوں نے ہنگامہ آرائی کے ساتھ اس بل پر احتجاج کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بل نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سیاست میں بھی خاصی ہلچل کا باعث بنے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۵ء

خواتین کی دینی تعلیم اور اسلامی معاشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

چند روز سے برطانیہ میں ہوں اور مزید چند روز رہنے کا پروگرام ہے، ارادہ ہے کہ ۲۴ جون تک گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ دو روز قبل اتوار کو جامعہ الہدٰی نو ٹنگھم میں ایک خصوصی نشست تھی جس میں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے والدین کو بلایا گیا تھا اور جامعہ کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے مجھے طالبات کے والدین سے گفتگو کے لیے کہا۔ میں نے اس موقع پر دو امور کی طرف بطور خاص توجہ دلائی: ایک یہ کہ دینی ذمہ داریوں میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شریک ہیں اور فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سزا و جزا میں بھی ان کا برابر کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس کا کامیاب کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا اور وفاق کی قیادت نہ صرف اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اس نے اپنی دوٹوک پالیسی اور موقف کا ایک بار پھر کھلم کھلا اظہار کر کے دنیا کو یہ پیغام دینے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے کہ دینی تعلیم اور اس کے آزادانہ نظام کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے اور کردارکشی کی مسلسل مہم نے دینی مدارس کے اعصاب پر اثر انداز ہونے کے بجائے ان کے لیے مہمیز کا کام دیا اور وہ پہلے سے زیادہ حوصلہ و عزم اور جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے مشن پر کار بند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس العربیہ کا کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام ۱۵ مئی ۲۰۰۵ء کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دینی مدارس کنونشن اس حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاس کے بعد دینی مدارس کے بارے میں حکومت کی نئی پالیسی اور حکمت عملی سامنے آگئی ہے۔ چنانچہ ۱۵ مئی کے مذکورہ کنونشن کی کارروائی اس لیے بھی ملک بھر کے عوام کی توجہ کا مرکز ہوگی کہ نئی حکومتی پالیسی کا ردعمل دینی مدارس کے اس سب سے قدیمی اور سب سے بڑے وفاق کی طرف سے کیا سامنے آتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۵ء

معاصر ادیان و مذاہب کا مطالعہ اور دینی مدارس

میں ایک عرصہ سے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد پر زور دے رہا ہوں کہ علماء کرام اور طلبہ کو دیگر معاصر مذاہب و ادیان کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے معاملات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ آج کے عالمی ماحول میں اپنے اردگرد تمام معاملات و ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے اسلام کی زیادہ بہتر طور پر ترجمانی کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۲۰۰۵ء

معارف اسلامیہ اکادمی کا افتتاح: چند گزارشات

گکھڑ میرا آبائی شہر ہے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعد ۱۹۴۳ء میں گکھڑ آ گئے تھے۔ میری ولادت ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو وہیں ہوئی۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا قیام ۱۹۵۲ء کے دوران عمل میں لایا گیا، اس سے قبل حضرت والد صاحب گکھڑ کی مرکزی جامع مسجد میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء

دنیا پر ’’جبری آزادی‘‘ مسلط کرنے کا امریکی اعلان

صدر جارج ڈبلیو بش نے دوسری مدت صدارت کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر روایتی تقریب کا اہتمام کیا گیا اور ہزاروں محافظوں کے جلو میں امریکہ کے صدر نے اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جن خیالات اور جذبات کا اظہار کیا، اس کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی گئی اور ان کے عزائم پر مختلف اطراف سے رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۵ء

دو مسیحی رہنماؤں کی قابل توجہ باتیں

اس وقت دو مسیحی جریدوں کے دسمبر کے شمارے میرے سامنے ہیں۔ لاہور سے پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کا ۱۶ دسمبر تا ۳۱ دسمبر ۲۰۰۴ء کا شمارہ اور گوجرانوالہ سے ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ کا دسمبر ۲۰۰۴ء کا شمارہ۔ ان میں کرسمس کے حوالے سے روایتی مضامین اور دیگر متعلقہ امور کے علاوہ دو باتیں بطور خاص قابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۰۴ء

قرآن بورڈ کا قیام اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک مستحسن اقدام

چند روز قبل وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے فون پر بتایا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ان کی سربراہی میں ’’پنجاب قرآن بورڈ‘‘ قائم کیا ہے جس میں مجھے بھی ممبر نامزد کیا گیا ہے۔ اس بورڈ کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیا کہ مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۰۴ء

سالانہ تبلیغی اجتماع ۲۰۰۴ء

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات سے رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق جمعرات کو شام کے بعد اجتماع کا آغاز ہوا اور اتوار کو صبح دس گیارہ بجے کے لگ بھگ اختتامی دعا کے بعد اجتماع میں تشکیل پانے والی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ اس دوران بیانات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ امریکہ میں بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں یا برطانیہ میں ہوتا ہے۔ میں ۱۱ کتوبر کو امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا) میں ہوں۔ دارالہدٰی کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر بہت محبت کرتے ہیں اور احترام سے نوازتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ اصرار بھی ہوتاہے کہ جتنے دن امریکہ میں رہوں دارالہدٰی ہی میں رہوں۔ اس سال ۱۱ اکتوبر سے ۲۲ اکتوبر تک امریکہ میں رہنے کا پروگرام تھا، میں نے لندن سے نیویارک کے لیے ٹکٹ کروا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مدینے کا ایک اور سفر

چھ سال کے وقفہ کے بعد آج پھر مدینہ منورہ میں ہوں اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری کی سعادت حاصل کر چکاہوں۔پہلی بار ۱۹۸۴ء میں یہاں حاضری ہوئی تھی اس کے بعد وقتاً فوقتاً اس شرف باریابی سے بہرہ ور ہوتا رہا مگر گزشتہ چند سالوں میں سعودی حکومت کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے بریک لگ گئی۔ اور اصل بات تو بلاوے کی ہے، اﷲ تعالیٰ اور ان کے آخری رسولؐ کی بارگاہ میں یہ حاضری بلاوے پر ہی ہوتی ہے اور بحمد اﷲ یہ بلاوا آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ ستمبر ۲۰۰۴ء

حضرت امام بخاریؒ کی مجتہدانہ شان

دو ستمبر کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں اختتام بخاری شریف کی سالانہ تقریب میں حاضری کے لیے حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے وعدہ تھا اور حاضری کا ارادہ بھی تھا، بلکہ اس بابرکت محفل میں پیش کرنے کے لیے کچھ معروضات قلمبند بھی کر لی تھیں، مگر ایک اچانک گھریلو مصروفیت کی وجہ سے ملتان کا سفر نہ کر سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۴ء غالباً

خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یاد میں ایک سیمینار

۹ اگست ۲۰۰۴ء کو محکمہ اوقاف پنجاب نے الحمراء ہال لاہور میں خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی یاد میں سیمینار کا اہتمام کیا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے حضرت ابوبکرؓ کے فضائل و مناقب اور دینی خدمات پر گفتگو کی۔ سیدنا صدیق اکبرؓ سیمینار کی صدارت مذہبی امور اور اوقاف کے صوبائی سیکرٹری جناب محمد جاوید اقبال اعوان نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۴ء

قرآن پاک کی حق تلفی کے سدباب کا مستحسن فیصلہ، مگر ۔ ۔ ۔

”آن لائن“ کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے ارکان جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبد المالک خان، عبد الاکبر چترالی اور جناب اسد اللہ بھٹو کے ”توجہ دلاؤ نوٹس“ پر کہا ہے کہ قرآن کریم کی طباعت اور اشاعت میں غلطیوں کا معاملہ ہمارے نوٹس میں ہے اور صوبائی حکومتوں کو اس سلسلہ میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۴ء

چناب نگر مسجد کا تنازع: پس منظر اور حقائق

چناب نگر میں پولیس چوکی کی مسجد کا تنازع کافی دنوں سے چل رہا ہے اور اس پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظار تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان یا کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کوئی اجلاس اس حوالہ سے بلایا جائے گا اور باہمی مشورہ سے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں تحقیق و صحافت: موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل

۲۱ جولائی ۲۰۰۴ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں مندرجہ بالا عنوان پر ایک سیمینار میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ اس راؤنڈ ٹیبل سیمینار کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد نے شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے کیا۔ اس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۰۴ء

امریکہ سے وطن واپسی اور مولانا نذیر احمدؒ کا سانحۂ ارتحال

۴ جولائی کو رات ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ گھر پہنچا تو یہ غمناک خبر ملی کی شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد کا فیصل آباد میں انتقال ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے، چند ماہ قبل احوال پرسی کے لیے ان کے ہاں حاضری ہوئی تھی، اس وقت طبیعت کچھ بہتر تھی مگر تقدیر الٰہی کے فیصلوں میں ہر شخص کا وقت مقرر ہے اور ہر ایک نے اپنے مقررہ وقت پر دنیا سے رخصت ہو جانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی، باون برس کی عمر میں عروس شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر اس مختصر عمر میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں اور علمی و دینی حلقوں میں جو مقام حاصل کیا وہ بلاشبہ قابل رشک ہے۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے کہ وقت تھوڑا اور کام زیادہ تھا اور جسے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے اس کی رفتار یہی ہوتی ہے۔ مفتی صاحبؒ سے پہلی ملاقات مجھے یاد نہیں کہ کب ہوئی تھی مگر آخری ملاقات تبلیغی اجتماع کے رائے ونڈ کے گزشتہ سال کے سالانہ اجتماع میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۴ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا نیا محاذ

مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں ایک اور محاذ کے لیے مورچہ بندی میں مصروف ہیں اور ہوم ورک کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ تحریک ختم نبوت کے سرگرم اور متحرک راہنما ہیں، اس محاذ پر اجتماعی جدوجہد اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں میں پورا حصہ ڈالتے میں، مگر اپنا جداگانہ مورچہ بھی قائم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۴ء

کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں ہے؟

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ و ۳۱ مئی ۲۰۰۴ء

خدمات علماء دیوبند کانفرنس کا ملت کے نام پیغام

گزشتہ روز آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد نذیر فاروقی جو میرے جیل کے ساتھی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں جمعیت کے ایک اور سرگرم رہنما مولانا عبد الحی آف دھیر کوٹ کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور یکم و دو مئی کو باغ میں جمعیت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۴ء

تمیزِ آقا و بندہ کا اصل سبب استحصالی نظام ہے

مزدوروں کا عالمی دن اس سال بھی آیا اور روایتی سرگرمیوں کے ساتھ گزر گیا۔ یہ دن ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس دن شکاگو کے مظلوم مزدور استحصال پسندوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا تھا۔ انہی کی یاد میں اس دن کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۴ء

محبت کی شادی اور طلاق کا بڑھتا رجحان

ایک خبر کے مطابق عدالت عالیہ لاہور نے اوکاڑہ کی لو میرج کرنے والی لڑکی عائشہ تبسم کی مسعود خان سے شادی کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے دونوں میاں بیوی کے خلاف تھانہ اے ڈویژن اوکاڑہ میں درج حدود کا مقدمہ جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی خاتون اپنی شرعی شادی کا اعتراف کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء

الرشید ٹرسٹ کے نقش قدم پر

حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی امتیازی خوبیوں سے نوازا تھا اور ان کی حیات و جدوجہد متعدد حوالوں سے علماء کرام اور اہل دین کے لیے آئیڈیل اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سے ایک بڑا حوالہ ”الرشید ٹرسٹ“ کا ہے جس کے ذریعہ حضرت مفتی صاحبؒ نے رفاہی خدمات کی طرف دینی حلقوں اور علماء کرام کو متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۰۴ء

خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین

گزشتہ دنوں خواتین کے حقوق کا دن عالمی سطح پر منایا گیا۔ پاکستان میں بھی مختلف تقریبات ہوئیں، بعض مقامات پر خواتین نے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے مظاہرے کیے اور خواتین کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹیں سامنے آئیں۔ ان رپورٹوں اور مطالبات میں بطور خاص جس بات پر زور دیا گیا وہ خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۲۰۰۴ء

اسلام اور عورتوں کے حقوق

اخباری اطلاعات کے مطابق ۸ مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے جو ہر سال منایا جاتا ہے اور عورتوں کے حقوق و مسائل کے بارے میں سیمینارز، اخباری بیانات خصوصی رپورٹوں اور دیگر ذرائع سے مختلف امور سامنے آتے ہیں۔ عورت آج کے دور میں مغرب اور عالم اسلام کے درمیان فکری و تہذیبی کشمکش کا ایک اہم موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۴ء

جہاد ۔ چند غلط فہمیوں کا ازالہ

جہاد کے حوالے سے اس پہلو پر کچھ گزارشات گزشتہ کالم میں پیش کی جا چکی ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی پر کافروں کا تسلط ہو جائے اور مسلمان اقتدار اعلیٰ سے محروم ہو جائیں تو اس تسلط سے نجات کے لیے کی جانے والی جدوجہد یا جہاد کسی حکومت کی اجازت کا محتاج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں میں تحریک ختم نبوت کے حوالہ سے سرگرمیوں میں کچھ عرصہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کے لٹریچر کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ قادیانی امت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے دینی حلقوں کی جدوجہد جاری ہے، عوامی جلسے اور مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۴ء

اراکان کے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر میں چاٹگام جانے اور دو تین روز رہنے کا اتفاق ہوا تو ہمیں یہ بات معلوم تھی کہ چاٹگام سے تھوڑے فاصلے پر کاکس بازار ہے، جہاں برما کے صوبہ اراکان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں اور کاکس بازار بنگلہ دیش کو اراکان سے ملانے والے راستے پر واقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ فروری ۲۰۰۴ء

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان آمد

مولانا محمد عیسیٰ منصوری ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ مولانا منصوری کا تعلق گجرات انڈیا سے ہے، پرانے فضلاء میں سے ہیں، عمر ساٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ ۱۹۶۸ء میں راندھیر کے معروف مدرسہ جامعہ حسینیہ سے دورہ حدیث کیا اور اس کے بعد تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۴ء

ائمہ مساجد اور علماء کرام کی معاشرتی ذمہ داریاں

علماء کرام کے بارے میں ایک حدیث نبویؐ کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں، جبکہ ائمہ جس مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور جس منبر پر خطبہ دیتے ہیں اسے منبر رسولؐ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ اس حوالے سے علماء اور ائمہ اس معاشرہ میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت اور نمائندگی کے منصب پر فائز ہیں اور ہمیں اس منصب کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کر رہے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں شریعت کونسل کی سرگرمیاں

مولانا محی الدین خان ڈھاکہ کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں۔ متحدہ پاکستان کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنما تھے، مشرقی پاکستان میں جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے میں انہوں نے بھرپور کام کیا۔ یہ صدر محمد ایوب خان کے دور کی بات ہے۔ وہ جمعیۃ کے اجلاسوں کے لیے لاہور بھی تشریف لاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۴ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک اہم علمی خدمت

اس سے قبل نیویارک میں گزرنے والے چار ایام کا تذکرہ گذشتہ کالم میں کر چکا ہوں البتہ ایک دو باتوں کا تذکرہ باقی ہے۔ ایک پاکستانی دوست نے جن کا نام لینا شاید مناسب نہ ہو، مجھے اپنا ایک دلچسپ قصہ سنایا جو امریکی معاشرت کے ایک رخ کی عکاسی کرتا ہے اور جسے دیکھ کر بہت سے مسلم خاندان پریشان ہو کر وطن واپسی کی باتیں سوچنے لگ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۰۴ء

وفاق المدارس کے ایک فیصلہ پر چند گزارشات

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کی کارروائی کی رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے جو وفاق کے سہ ماہی مجلہ میں شائع ہوئی ہے۔ مدارس دینیہ کے حوالہ سے قومی اور عالمی سطح پر اس وقت جو سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں، ان کے پیش نظر وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کے ان فیصلوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جن کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ وفاق المدارس کے فیصلوں میں پالیسی کے حوالہ سے سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ دینی مدارس کسی قسم کی سرکاری امداد قبول نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۳ء

تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع اور دعوتِ اسلام کے تقاضے

اسلام یہودیت اور ہندومت کی طرح نسلی دین نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اعلانِ نبوت کے بعد سے قیامت تک کا ہر انسان اسلام کی دعوت اور پیغام کا مخاطب ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیازات اور خصوصیات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۳ء

دو دن امریکی دانشور نوم چومسکی کے ساتھ

میں نے عید الفطر کے دو دن امریکہ کے نامور یہودی دانشور نوم چومسکی کے ساتھ گزارے۔ عید کی تعطیلات میں معمول کا کوئی کام نہیں ہو پاتا، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کا بیشتر عملہ چھٹی پر ہوتا ہے اور نمازیں پڑھانے کے لیے مجھے موجود رہنا پڑتا ہے۔ جبکہ بچے بھی عید کی اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ و ۵ دسمبر ۲۰۰۳ء

عوام کی حالت زار پر بھی توجہ دیں!

گزشتہ دن کے ایک اخبار میں دو خبروں نے توجہ کو اپنی طرف ایسا مبذول کیا کہ انہیں کئی بار پڑھنا پڑا۔ ایک صفحہ اول پر ہے اور دوسری آخری صفحہ پر۔ پہلے صفحہ کی خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن کیبنٹ ڈویژن جاری کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۰۳ء

ترقی یافتہ دور میں بھی انسانی دماغ حرفِ آخر نہیں

ہم نے گزشتہ شب دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکا کے دارالحکومت کے ایک علاقہ میں موم بتیوں کی روشنی میں نماز تراویح کا آغاز کیا۔ سپرنگ فیلڈ کے علاقہ میں مغرب سے تھوڑی دیر بعد بجلی منقطع ہوئی اور تراویح اور اس کے بعد بیان وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اس کے بعد بجلی کا سلسلہ بحال ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

امریکہ کی آمش قوم

آمشوں کے بارے میں پڑھ سن تو رکھا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی آباد ہیں جو بجلی استعمال نہیں کرتے، خچروں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور باقی دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزارتے ہیں، مگر دیکھنے کا اتفاق ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ہوا۔ میرا خیال تھا کہ ایسے لوگ اگر ہیں بھی تو کسی جزیرے میں ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

ملائیشیا میں اسلامی سربراہ کانفرنس جاری ہے جو ان سطور کی اشاعت تک اختتام پذیر ہو چکی ہوگی۔ اس کانفرنس کا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مدت سے انتظار تھا اور ملت اسلامیہ منتظر تھی کہ مسلم ممالک کے حکمران عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ طور پر کیا رائے قائم کرتے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے حوالہ سے تو ہم اگلے کالم میں کچھ عرض کر سکیں گے البتہ کانفرنس کے میزبان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مغرب اور اسلام میں تہذیبی بالادستی کی جنگ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف نے جہاں اپنی پالیسیوں کی وضاحت کی ہے، وہاں عالمِ اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش پر بھی تبصرہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کشمکش کو روکنے کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ ستمبر ۲۰۰۳ء

حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ ۔ لمحہ فکریہ

گزشتہ روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تیس کے لگ بھگ این جی اوز سے تعلق رکھنے والی خواتین نے حدود آرڈیننس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مظاہرہ کی قیادت کرنے والیوں میں دیگر سرکردہ خواتین کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی محترمہ حنا جیلانی بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۲۰۰۳ء

اٹھارہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس

برمنگھم (برطانیہ) کی مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہونے والی اٹھارہویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ مجھے گزشتہ روز کی ڈاک میں موصول ہوئی۔ یہ کانفرنس تین اگست اتوار کو صبح دس بجے تا شام چھ بجے منعقد ہوئی، جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۳ء

طبقاتی تقسیم

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش گزشتہ دنوں بعض قومی اخبارات میں نظر سے گزری ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں درجہ بندی کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور حکومت کو مختلف درجات کے لیے ضرورت کی حد بندی کر کے زائد از ضرورت بلڈنگ کی تعمیر پر پابندی لگا دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۳ء

یومِ آزادی اور اس کا پیغام

۱۴ اگست کو پوری قوم نے یوم آزادی منایا۔ چھپن برس قبل ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے برٹش استعمار کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور اسی روز دنیا کے نقشے پر ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست نمودار ہوئی تھی۔ اس خوشی میں اس دن ہر سال یوم آزادی منایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۰۳ء

پاکستان شریعت کونسل کا موقف اور پروگرام

۲۳، ۲۴ جولائی ۲۰۰۳ء کو مدرسہ تعلیم القرآن لنگرکسی مری میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا دو روزہ سالانہ اجلاس امیر مرکزیہ حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کو ہر سطح پر ازسرنو متحرک کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جولائی ۲۰۰۳ء

نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۰۳ء

جرمن حکومت کی طرف سے صوبہ سرحد میں شیلٹر ہومز کی تعمیر

اخباری اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے گورنر سید افتخار حسین شاہ نے صوبائی اسمبلی کے منظور کردہ ’’شریعت ایکٹ‘‘ پر ابھی تک دستخط نہیں کیے۔ حالانکہ یہ ایکٹ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے ۷ جون کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس کے بعد صوبائی وزارت قانون کی طرف سے توثیق کے لیے گورنر سرحد کو بھجوا دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۰۳ء

’’خیمہ داؤد‘‘ کے دو اہم فیصلے

خیمہ داؤد (کیمپ ڈیوڈ) کے پروٹوکول اور مذاکرات کے بعد ہمارے صدر محترم کے لہجے میں مزید نکھار آ گیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ واضح اور دو ٹوک لہجے میں کچھ باتیں کہنے لگے ہیں۔ مثلاً انہوں نے وطن واپسی سے قبل امریکا میں بھی یہ بات کھلے لہجے میں کہہ دی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بات کا فیصلہ کریں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۳ء

تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نورااللہ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

’’برصغیرمیں مطالعۂ حدیث‘‘ پر ایک علمی سیمینار

’’برصغیر میں مطالعۂ حدیث‘‘ کے عنوان پر ادارہ تحقیقات اسلامی نے دو روزہ علمی سیمینار کا اہتمام کیا جس کی پانچ نشستیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہوئیں اور ان میں حدیث نبوی علیٰ صاحبھا التحیہ والسلام سے تعلق رکھنے والے بیسیوں عنوانات پر ممتاز اصحاب علم و دانش نے مقالات پیش کیے۔ برصغیر کے دینی مدارس میں حدیث نبویؐ کی تدریس و تعلیم، نامور محدثین کی علی و دینی خدمات کا جائزہ، اور حدیث نبویؐ کے مطالعہ کے حوالہ سے حال و مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی بطور خاص ان موضوعات کا حصہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۰۳ء

الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو باغبانپورہ لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر تحریک آزادی کے نامور شاعر الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا۔ قاری صاحب نے نیا مکان تعمیر کیا ہے جس میں وہ منتقل ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ مسجد کی رہائشگاہ میں رہتے تھے، یہ تقریب نئے مکان کی خوشی میں بھی تھی اور الحاج سید امین گیلانی کے اعزاز میں بھی تھی، جس میں لاہور کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

ہمیں ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے

ہماری شکایت ان سے نہیں ہے بلکہ ہم اپنی اس نا اہل، نا عاقبت اندیش اور مصلحت کوش سیاسی قیادت کا نوحہ پڑھ رہے ہیں جو اسلام کا نام لیتی ہے، اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہے، اسلام کے نعرہ پر اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچ جاتی ہے، اسلام کے حوالے سے سیاسی عزت و وقار کے مقامات طے کرتی ہے، مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں کے تذکرے کرتی ہے، اور مسلم امہ کی رائے عامہ کی قیادت و رہنمائی کی بلا شرکت غیرے دعوے دار ہے، لیکن اقتدار یا اقتدار کے چانس کے لولی پاپ نے اسے اپنی اصل ذمہ داریوں سے بے پروا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۳ء

جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۳ء

اقوامِ متحدہ کی کارکردگی اور ظالم چودھری

کہا جاتا ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے مشترک اور مربوط عالمی سوسائٹی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ یہ بات اس حوالہ سے بالکل درست ہے کہ ساری دنیا ایک ایسے گاؤں کی طرح دکھائی دیتی ہے جس پر ایک طاقتور جاگیردار نے قبضہ جما لیا ہے اور قوت و طاقت کے بل پر اس نے گاؤں کی پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے، کسی کو اس کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہے، اس کے لٹھ بردار چاروں طرف گھوم رہے ہیں جن (کی نگرانی) سے کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی چار دیواری بچی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۰۳ء

حفاظتِ قرآن کا تکوینی نظام

کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

خدمتِ خلق اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے اور میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کو اپنی علمی ودینی جولان گاہ بنایا اور بہت جلد ملک کے بڑے مفتیان کرام میں ان کا شمار ہونے لگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء
2016ء سے
Flag Counter