گوجرانوالہ، ہنر مندوں اور کاریگروں کا شہر

   
۱۴ مارچ ۲۰۰۱ء

گوجرانوالہ میں بننے والی اشیا اور مصنوعات کی نمائش ۱۵ فروری سے ۴ مارچ تک گلشن اقبال پارک میں ’’میڈ اِن گوجرانوالہ صنعتی نمائش‘‘ کے نام سے جاری رہی۔ مطبوعہ پروگرام میں ۵ مارچ کا دن بھی شامل تھا اور میں نے اسی کے مطابق آخری روز نمائش میں جانے کا پروگرام اپنے شیڈول میں شامل کر لیا تھا کہ نمائش دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی مجموعی سرگرمیوں سے بھی آگاہی ہو جائے گی اور اس کے بعد آسانی سے کچھ گزارشات اپنے قارئین کے لیے قلمبند کر سکوں گا۔ لیکن جب ۵ مارچ کو ساڑھے دس گیارہ بجے میاں فضل الرحمان چغتائی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑیاں کھیت چگ کر جا چکی ہیں اور منتظمین نے عید الاضحیٰ کی وجہ سے آخری دن کا پروگرام ایک روز پہلے نمٹا کر گزشتہ روز نمائش ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

میاں فضل الرحمان چغتائی ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں، جمعیۃ طلباء اسلام گوجرانوالہ کے صدر رہے ہیں، رنگ کا کاروبار ان کا خاندانی بزنس ہے اور گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے سرگرم عہدے داروں میں سے ہیں۔ چیمبر آف کامرس نے ہی اس نمائش کا اہتمام کیا تھا اس لیے میرا خیال تھا کہ انہیں ساتھ لے کر نمائش زیادہ اطمینان سے دیکھ سکوں گا مگر انہوں نے بتایا کہ نمائش کل ختم کر دی گئی تھی اور رات سامان سمیٹا جا چکا ہے اس لیے وہاں جانے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ ان سے اور بعض دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر نمائش کی کچھ تفصیلات سپرد قلم کر رہا ہوں۔

گوجرانوالہ کی مصنوعات کی نمائش اس سے قبل بھی کئی بار ہو چکی ہے لیکن پہلے اس نمائش کا اہتمام ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اور محدود سطح پر ہوتا تھا۔ جبکہ اس سال چیمبر آف کامرس نے انتظامات کی ذمہ داری سنبھالی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے اس نمائش کا دائرہ وسیع کر کے اس کی اہمیت و افادیت کو دوچند کر دیا۔ گوجرانوالہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر حاجی محمد عبد اللہ ہیں جو شہر کے مخیر اور دیندار صنعتکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ چیمبر کے سابق صدر شیخ محمد نسیم، رانا ناصر محمود، نواز باجوہ، قاسم الکریم، میاں فضل الرحمان اور دیگر سرگرم حضرات نے نمائش کو کامیاب بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جبکہ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن جناب خوشنود اختر لاشاری اور ڈپٹی کمشنر جناب بابر یعقوب فتح علی کا بھی مکمل تعاون انہیں حاصل رہا اور ان سب حضرات کی مشترکہ محنت نے نمائش کی بھرپور کامیابی اور صنعت و حرفت کے میدان میں گوجرانوالہ کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع تعارف کی راہ ہموار کی۔

نمائش میں پچھتر سے زائد اسٹال تھے جن میں گوجرانوالہ کی بنی ہوئی اشیا کو تعارف کے لیے پیش کیا گیا۔ ان اسٹالوں کی تزئین و آرائش میں بھی مختلف صنعتی اداروں نے حسن ذوق کا مظاہرہ کیا اور صنعتی اسٹالوں کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ کے شہریوں کے مخصوص ذوق کے مطابق ’’فوڈ میلہ‘‘ کا ایک بلاک بھی تھا جہاں سری پائے، تکہ کباب، دہی بھلے، فروٹ چاٹ، برگر شاپ، ہریسہ، جلیبیاں، ببل گم، چکن دابو، بیکری، مٹھائیاں، آئس کریم اور دوسرے ماکولات و مشروبات زندہ دل گوجرانوالیوں کے کام و دہن کے ذوق کی نمائندگی کے لیے موجود تھے۔ اس مختصر کالم میں گوجرانوالہ کی تمام مصنوعات کا تعارف کرانا تو ممکن نہیں ہے البتہ چند اہم چیزوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

این ایل سی کے بنائے ہوئے ٹائروں کی خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ پرانے ٹائروں کو جمع کر کے ان سے بنائے جاتے ہیں جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں اور پاک فوج یہی ٹائر استعمال کرتی ہے۔ لیدر انسٹیٹیوٹ گوجرانوالہ چمڑے کی مصنوعات کی تیاری اور ٹریننگ کا سب سے بڑا ملکی ادارہ ہے جہاں جیکٹ، جوتے، پرس اور بیلٹ وغیرہ بنتے ہیں اور کاریگروں کو اس کی باقاعدہ تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ سینٹری اور ٹائیل میں ماسٹر انڈسٹریز کا نام بین الاقوامی سطح پر متعارف ہے اور خاص طور پر ٹائیل میں اس کے معیار کا کوئی جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ فیصل انڈسٹریز اور میگنا انڈسٹریز بھی اپنے معیار کے لحاظ سے سینٹری کے شعبہ میں خاصی اہمیت کی حال ہیں۔ سرامکس کے سامان اور کموڈ و بیسن کی تیاری میں تھری سٹار کا ملک کی بڑی فرموں میں شمار ہوتا ہے۔ کوثر انڈسٹریز نے موٹر سائیکل میں گیس کی کٹ پیش کی ہے جس نے لوگوں کی خاصی توجہ حاصل کی۔ کچن کٹلری کے سامان اور چھری، چاقو، خنجر، تلوار وغیرہ کی تیاری میں وزیرآباد کا نام ایک عرصہ سے متعارف ہے اور نمائش میں بھی اس کے عمدہ نمونے پیش کیے گئے۔ اسی طرح فرشی اور بستر کی دریوں اور ٹاٹ وغیرہ میں گکھڑ کی شہرت پہلے سے موجود ہے اور اس شعبہ میں وہاں کی مصنوعات کو ملک گیر سطح پر پسند کیا جاتا ہے۔ بجلی کے ٹرانسفارمر اور دیگر متعلقہ سامان میں کلائمیکس عالمی شہرت کا حامل نام ہے اور اے سی اور پنکھوں کے شعبہ میں اسے معیاری اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے ٹرانسفارمر اور گیس سلنڈر بنانے میں اپل انجینئرنگ کا نام بھی خاصا متعارف ہے۔ واشنگ مشین، کولر، ایئرکولر، گیزر اور پنکھے بنانے میں سپر ایشیا نے خاصی شہرت پائی ہے اور اس کے ساتھ ایشیا فین اور فیکو بھی پنکھے کی صنعت میں بڑے نام گنے جاتے ہیں۔ چینی کے برتنوں، ٹی سیٹ، ڈنر سیٹ اور ڈیکوریشن پیسز میں پرے چائنا اور لون چائنا کے نام متعارف ہیں۔ جبکہ پلاسٹک کے فرنیچر میں سٹیزن اور برتنوں میں المعراج کے نام کو شہرت حاصل ہے۔ شنیل اور ویلوٹ کے جائے نماز اور کارپٹ میں بٹ سلک اور شاہین سلک کا نام اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ بیڈ شیٹ اور دستر خوان میں ہارون جبکہ رضائیوں اور سوٹنگ میں زینت کو امتیاز حاصل ہے۔ ٹیوب لائٹس اور اسٹریٹ لائٹس کی تیاری میں پاک لائٹ کا نام معروف ہے اور جوجو ببل گم کی ٹافیاں نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی اچھی مارکیٹ رکھتی ہیں۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سی اشیا ہیں جو گوجرانوالہ میں بنتی ہیں اور جن کی وجہ سے گوجرانوالہ کو اب پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر کہنے کی بجائے کاریگروں اور ہنرمندوں کا شہر سمجھا جاتا ہے۔ ’’میڈ اِن گوجرانوالہ صنعتی نمائش‘‘ کا افتتاح ۱۵ فروری کو گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد صفدر نے کیا جبکہ اس میں مختلف مواقع پر آنے والے مہمانوں میں سعودی عرب، اردن، ترکی اور نائجیریا کے معزز سفراء کے علاوہ وفاقی وزیر صنعت عبد الرزاق داؤد، وفاقی وزیر بلدیات عمر اصغر خان، صوبائی وزراء شاہد حامد اور شاہین عتیق الرحمان، کور کمانڈر لاہور جنرل عبد العزیز، کور کمانڈر گوجرانوالہ جنرل بلوچ، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی خان، پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور اسلام آباد میں جاپانی سفارتخانہ کے فرسٹ سیکرٹری بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مسلم ممالک کے سفراء نے نمائش میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اپنے اپنے ملکوں میں گوجرانوالہ کی مصنوعات کی نمائش لگانے کی دعوت دی۔ گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے صدر جناب محمد عبد اللہ کے اعلان کے مطابق سعودی عرب میں گوجرانوالہ کی مصنوعات کی نمائش کا جلد اہتمام کیا جا رہا ہے۔

الغرض گوجرانوالہ کے شہریوں نے اس اٹھارہ روزہ صنعتی نمائش کے ذریعے جہاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شہرت و تعارف کا کانٹا تبدیل کر کے صنعت و حرفت کی شاہراہ پر سفر کے لیے عزم کا اظہار کیا وہاں پوری قوم اور قوم کے ارباب حل و عقد کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اگر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کی راہ میں روڑے اٹکانے اور سرخ فیتے کے بریکر کھڑے کرنے کی بجائے انہیں صنعت و حرفت کے میدان میں حوصلہ و اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو زندہ دلوں کا یہ شہر قومی معیشت کے استحکام اور ملک کی اقتصادی خود کفالت و خودمختاری کی بحالی کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور آخر میں گوجرانوالہ کے صنعتی و تجارتی اداروں کے لیے یہ پیغام بھی اہمیت کا حامل ہوگا کہ کمپیوٹر کے دو اداروں نے گوجرانوالہ کی مصنوعات کے بین الاقوامی تعارف کے لیے مشترکہ طور پر گوجرانوالہ آن لائن کے نام سے انٹرنیٹ پر ویب سائٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter