خدمتِ خلق اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ

   
۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے اور میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کو اپنی علمی ودینی جولان گاہ بنایا اور بہت جلد ملک کے بڑے مفتیان کرام میں ان کا شمار ہونے لگا۔ وہ بلند پایہ مفتی تھے، اپنے معاصر مفتیان کرام سے بعض مسائل میں علمی بنیاد پر اختلاف بھی رکھتے تھے جیسا کہ ہر عالم اور مفتی کا حق ہے، ان کے کچھ تفردات بھی تھے جو علمی حلقوں میں موضوع بحث بنے رہتے تھے، لیکن ان کا علمی مقام اور ثقاہت ہمیشہ علمی حلقوں میں مسلم رہی اور ان کی علمی تحقیقات کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے اہل علم ان سے مسلسل استفادہ کرتے تھے۔ مگر مجھے ان کی جس ادا نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا ذوقِ تربیت تھا اور اس کے ساتھ خدمت خلق کے جذبے کو عام کرنے کا اسلوب جس نے انہیں اپنے معاصر علماءکرام میں ایک نمایاں اور امتیازی حیثیت عطا کر دی تھی۔

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے ساتھ میری عقیدت دو حوالوں سے ہے:

  • ایک حوالہ تو مشترک ہے کہ وہ ہمارے ملک کے نامو رمفتیان کرام میں سے تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے ساتھ ایک دور میں ایسے مفتیان کرام میں تیسرا بڑا نام مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کا سامنے آتا تھا، جن سے مسائل معلوم کرنے کے لیے عامۃ الناس کی ایک بڑی تعداد تو رجوع کرتی ہی تھی مگر ان بزرگوں کو ملک بھر کے علماءکرام میں بھی مراجع کی حیثیت حاصل تھی کہ علماءکرام او رمفتیان کرام اپنی الجھنوں اور علمی اشکالات کو دور کرنے کے لیے انہی سے رجوع کرتے اور رہنمائی حاصل کرتے تھے۔
  • جبکہ دوسرا حوالہ یہ ہے کہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ دورۂ حدیث کے ساتھی تھے اور دونوں نے غالباً سن ۱۹۴۱ء / ۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور دیگر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے اکٹھے سند فراغت حاصل کی تھی۔

حضرت مفتی صاحبؒ فقہ و افتاءکے شعبہ میں بلند پایہ استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر اور تجربہ کار روحانی مربی بھی تھے اور وہ اپنے تلامذہ کے تعلیمی معیار پر نظر رکھنے کے علاوہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا تربیت کا نظام بہت سخت تھا، وہ اپنے مرید کی دینی یا دنیاوی وجاہت کا لحاظ رکھے بغیر اور اس کی رعایت کرنے کی بجائے تربیت کے قواعد وضوابط کی پابندی پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اسی طرح کی جھلک حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے نظام تربیت میں بھی نظر آتی تھی۔

مفتی صاحب مرحوم نے جس جرأت و حوصلہ کے ساتھ جہاد افغانستان کو سپورٹ کیا، مجاہدین کی سرپرستی اور پشت پناہی کی، طالبان کی اسلامی حکومت کی حمایت و امداد کا اہتمام کیا اور علماء اور دینی حلقوں کو حق کی حمایت کی طرف متوجہ کرنے میں مسلسل محنت کی، اس نے خیر القرون کے مجاہد علماء کرام کی یاد تازہ کر دی۔ اور ان کے قائم کردہ ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ نے رفاہی میدان میں نمایاں کارنامے سرانجام دیے۔

سماجی خدمت اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو علم کے حصول کے بعد اسلام کا دوسرا بڑا سبق ہی سماجی خدمت ہے۔ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو اس میں پڑھنے اور تعلیم کی تلقین تھی اور جب اس پہلی وحی کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار گھر تشریف لائے تو ان کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور گھبراہٹ کے ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات تھیں۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب وحی کے پہلے تجربہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو ایک بالکل نئے تجربے کی وجہ سے کچھ گھبراہٹ تھی، اس پر ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، نادار افراد کی کفالت کرتے ہیں اور مشکلات میں لوگوں کے ساتھی بنتے ہیں۔ گویا ام المؤمنینؓ نے فرمایا کہ سوشل ورکر کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہونے دیتے، اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔

ہمارے دینی حلقوں میں دینی مدارس کی محنت اگرچہ خود ایک بہت بڑی سماجی اور تعلیمی خدمت کا درجہ رکھتی ہے، جس کا اعتراف صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی نشری تقریر میں ان الفاظ کے ساتھ کیا تھا کہ یہ دینی مدارس سب سے بڑی این جی اوز ہیں جو لاکھوں طلبہ کونہ صرف مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ لاکھوں نادار افراد کو رہائش، خوراک اور علاج معالجہ کی سہولتیں بھی مہیا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تعلیم سے ہٹ کر دوسرے شعبوں میں سماجی خدمات کا دینی حلقوں میں جو خلا نظر آتا تھا جو غیر ملکی این جی اوز کے سماجی خدمات کے نیٹ ورک اور خاص طور پر پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی سماجی سرگرمیوں کے پس منظر میں بہت زیادہ محسوس ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس خلا کو پر کرنے کی خدمت حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے لی اور مفتی صاحب نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے ذریعے سماجی خدمات کے ان تمام شعبوں کی طرف اصحاب خیر کی توجہ دلائی جن کا تذکرہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی خدمات کے حوالے سے بخاری شریف کی روایت میں کیا ہے۔

مجھے گزشتہ دنوں لندن جاتے ہوئے کراچی میں ایک دن رکنے کا موقع ملا اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں بخاری شریف کے اختتام کی سالانہ تقریب میں شرکت کے علاوہ حضر ت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے قائم کردہ اداروں میں حاضری کی سعادت بھی حاصل ہوئی،
دارالافتاء میں تو پہلے بھی حاضری ہو چکی ہے، مگر جامعۃ الرشید کے نام سے حیدرآباد جانے والے ہائی وے پر ایک بڑا اور معیاری دینی ادارہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ آٹھ ایکڑ زمین میں جدید طرز کی خوبصورت تعمیرات کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ کے لیے قیام و طعام کا معیاری انتظام دیکھا، جو آج کے دور کے کسی بھی جدید ترین تعلیمی ادارے کے معیار سے کم نہیں ہے۔ کھیل کے وسیع میدان اور خوبصورت سبزہ زاروں میں گھری ہوئی مسجد و مدرسہ کی عمارات کے علاوہ سوئمنگ پول میرے لیے حیرت اور خوشی کا باعث بنا، جو اساتذہ اور طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے دیکھ کر کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے سوئمنگ پول کا گمان گزرتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے تلمیذ خاص مفتی عبدالرحیم صاحب کی نگرانی و انتظام میں جدید طرز کا یہ دینی مدرسہ ان بین الاقوامی اداروں کی خاص توجہ کا مستحق ہے جو دنیا بھر میں دینی مدارس کے خلاف شب و روز کردار کشی کی مہم میں مصروف رہتے ہیں۔

اس موقع پر مجھے روزنامہ ”اسلام“ کراچی اور ہفت روزہ ”ضرب مومن“ کے دفاتر میں جانے کا موقع بھی ملا۔ خالص مولویوں کو فرشی نشستوں پر ڈیسک رکھے ایک معیاری روزنامے کے لیے کام کرتے دیکھ کر تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی کہ یہ تو خود میرے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے جو میں مدت سے دیکھ رہا ہوں۔ مگر سب سے زیادہ مسرت ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ سے متصل بلڈ بینک دیکھ کر ہوئی جس کا حال ہی میں افتتاح ہوا ہے اور جس میں خون کے حصول، ٹیسٹ، حفاظت اور نادار افراد کو اس کی صحیح حالت میں مفت فراہمی کا نظم ونسق دیکھ کر حضرت مفتی صاحبؒ کے لیے بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلیں۔ میں نے مغربی ممالک کے جدید ترین ہسپتال دیکھے ہیں لیکن جدید ترین مشینری، مہارت اور کارکردگی کے لحاظ سے مجھے ان کے مقابلہ میں اس بلڈ بینک میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ملک کے دیگر دینی اداروں اور شخصیات کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter