حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

   
جنوری ۲۰۰۱ء

حکومت نے آخر کار "حمود الرحمان کمیشن" کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ عوام کی معلومات کے لیے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں رکھ دیا ہے اور اس کے اقتباسات قومی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ملک سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے باقی ماندہ حصے میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے عوامی مطالبہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جس میں پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس انوار الحق مرحوم اور سندھ بلوچستان ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبد الرحمان مرحوم بھی شامل تھے۔ کمیشن کے ذمہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور اس کے ذمہ دار افراد کے تعین کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کے لیے سفارشات اور تجاویز پیش کرنا تھا۔

کمیشن نے دو سو سے زیادہ افراد کے بیانات اور ستر کے لگ بھگ شہادتیں قلمبند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی تھی جو "ٹاپ سیکرٹ" قرار دے دی گئی اور ملک کے عوام کو اس کی تفصیلات کا علم نہ ہو سکا۔ مختلف حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ کی اشاعت کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا۔ مگر اس رپورٹ کے بعد ملک میں قائم ہونے والی کسی حکومت نے بھی اس مطالبہ پر توجہ نہ دی حتی کہ اس رپورٹ کے کچھ حصے مبینہ طور پر چوری ہوئے اور بھارت کے بعض اخبارات نے گزشتہ دنوں انہیں شائع کر دیا جس پر اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ ایک بار پھر منظر عام پر آیا اور وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے رپورٹ کا از سر نو جائزہ لے کر اس کے ایک حصے کی اشاعت کی سفارش کر دی جس پر اسے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں عوام کے مطالعہ کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے آٹھ حصوں میں سے صرف دو حصے "اوپن" کیے گئے ہیں جبکہ باقی چھ حصے بدستور "صیغہ راز" میں ہیں اور اس کے مندرجات کو خارجہ تعلقات کے "حساس امور" قرار دے کر حسب سابق ناقابل اشاعت کے زمرے میں رکھا گیا ہے تاہم جو حصہ شائع ہوا ہے وہ بھی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے اور اس نے ان تمام شبہات ، خدشات اور الزامات کی تصدیق کر دی ہے جو اس عظیم سانحہ کے حوالہ سے اس وقت کی فوجی و سیاسی قیادت اور نوکر شاہی کے بارے میں عوامی حلقوں میں وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ لاہور ، نوائے وقت لاہور اور اوصاف اسلام آباد نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۰ء کے شماروں میں حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کی جو تفصیلات شائع کی ہیں ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔

  • جنرل یحییٰ خان، جنرل عبد الحمید خان، جنرل پیرزادہ، جنرل مٹھا اور ان کے رفقاء نے ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش کی جس پر ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
  • جنرل یحییٰ خان سمیت ۱۵ اعلیٰ فوجی افسران اپنی نااہلی، کرپشن، بدعنوانی اور بدکرداری کی وجہ سے تقسیم ملک کے ذمہ دار ہیں، ان کا کورٹ مارشل کیا جائے۔
  • ان فوجی افسران نے اپنے مشترکہ مفاد کی خاطر سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں دھمکانے کے علاوہ روپے پیسے کا لالچ دے کر انتخابات کے نتائج اپنے حق میں کرانے کی کوشش کی۔
  • پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے منتخب اسمبلی میں عوامی لیگ کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے ڈھاکہ میں ۳ مارچ کو بلائے جانے والے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جانے والے ارکان اسمبلی کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دے کر انتہائی غیر جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔
  • مسٹر بھٹو نے دو اکثریتی جماعتوں کی تھیوری اور "گرینڈ کولیشن" کی تجویز پاکستان کے وفاق کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنفیڈریشن کے لیے پیش کی۔
  • لیفٹیننٹ جنرل عمر نے سیاسی جماعتوں کو قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانے کی مخالفت کرنے پر اکسایا۔
  • ڈھاکہ میں بلایا جانے والا قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ عرصہ کے لیے ملتوی کرنے پر عوامی لیگ نے سول نافرمانی شروع کر دی جو اس قدر بھرپور تھی کہ جنرل ٹکا خان مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر ہو کر ڈھاکہ پہنچے تو انہیں حلف اٹھانے کے لیے کوئی جج میسر نہیں تھا۔
  • یحییٰ خان نے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان پر دباؤ ڈالا کہ وہ دستور سازی اور چھ نکات کو نظر انداز کر کے حکومت سازی میں پیپلز پارٹی سے تعاون کریں۔
  • شیخ مجیب الرحمان واجبی سطح کے لیڈر تھے، چھ نکات ان کے مرتب کردہ نہیں تھے اور نہ ہی ان میں اتنی اہلیت و صلاحیت تھی بلکہ یہ چھ نکات جو ملک کے سب سے بڑے سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنے مشرقی پاکستان کے ینگ سی ایس پی افسران کے ایک گروپ نے مرتب کیے تھے اور انہیں بیرونی عوامل کی پشت پناہی حاصل تھی جنہوں نے ان چھ نکات کی تشہیر اور مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے حق میں تیار اور متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
  • تین مارچ کو ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے احتجاجی جلسہ پر فوج کی فائرنگ سے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ۔
  • ۲۵ مارچ کو فوج نے ڈھاکہ میں آدھی رات کو پوزیشن سنبھال کر فوجی ایکشن شروع کیا جس کے نتیجے میں پچاس ہزار کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے۔
  • جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھی جرنیلوں کا اکثر وقت عورت اور شراب کے ساتھ مصروف گزرتا تھا اور اس مقصد کے لیے راولپنڈی صدر میں صدر یحییٰ خان کا ذاتی بنگلہ بدکاری کا اڈہ بن گیا تھا۔
  • رپورٹ میں ایک درجن سے زائد عورتوں کی فہرست اور کوائف دیے گئے ہیں جن کے شب و روز یحییٰ خان اور ان کے ساتھی جرنیلوں کے ساتھ گزرتے تھے اور وہ دوسری عورتیں بھی سپلائی کرتی تھیں۔
  • یحییٰ خان اکثر اوقات رات سات آٹھ بجے ڈنر کے بہانے ایوان صدر سے نکلتے اور صبح واپس آتے۔
  • صدر یحییٰ خان نے صدارتی آفس میں جانا بھی ترک کر رکھا تھا اور بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران جی ایچ کیو کے آپریشن روم میں وہ صرف دو تین بار گئے۔
  • نومبر ۱۹۷۱ء میں عین حالت جنگ کے دوران یحییٰ خان نے گورنر ہاؤس لاہور میں تین روز ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ بسر کیے۔
  • جنرل نیازی پان سمگل کرتے تھے، رشوت لیتے تھے اور رقاصاؤں کے گھروں میں جاتے تھے۔
  • بریگیڈیر حیات اللہ نے مقبول پور کے محاذ جنگ میں عورتیں بنکرز اور مورچوں میں طلب کر لیں۔
  • بریگیڈیر جہاں زیب ارباب نیشنل بینک کی سراج گنج شاخ سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے لوٹنے کی واردات میں اپنے دوسرے چھ فوجی افسر ساتھیوں سمیت ملوث ہیں۔
  • جی ایچ کیو نے جنرل نیازی کو بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ فیصلہ جنرل نیازی کا ذاتی تھا۔

یہ ہے وہ ایک ہلکا سا خاکہ اس پس منظر کا جو مملکت خداداد پاکستان کے دو حصوں میں بٹ جانے اور سقوط ڈھاکہ جیسے عظیم ملی سانحہ کا باعث بنا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سے کیا سبق حاصل کیا؟ اور ۱۹۷۱ء کے بعد ربع صدی سے زائد عرصہ میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے، اس طرح کے اسباب و عوامل کو روکنے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ ہم نے "جرم" اور "مجرم" دونوں پر پردہ ڈال کر خود کو اندرونی و بیرونی سازشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور حالات کی اصلاح کے لیے سقوط ڈھاکہ جیسے کسی اور سانحہ کا انتظار کر رہے ہیں؟

   
2016ء سے
Flag Counter