عالم اسلام پر طاری سکوتِ مرگ اور بائیں بازو کی بیداری

   
۲۵ فروری ۲۰۰۳ء

عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملے کے حوالہ سے عالم اسلام پر جو ’’سکوتِ مرگ‘‘ طاری ہے اس کے احساس میں گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں شہروں میں ہونے والے بھرپور مظاہروں نے اضافہ کر دیا ہے اور ہر باشعور مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ یہ کام جو ہمارے کرنے کا تھا وہ بھی کافروں نے ہی کر دکھایا ہے۔ محترم قاضی حسین احمد نے یہ فرما کر دل کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ مظاہرے مسلمانوں کے ردعمل کی سختی کو کم کرنے کے لیے بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر ہم پورا زور لگانے کے باوجود اپنے دل و دماغ کو ان کے ارشاد گرامی کے ساتھ اتفاق پر آمادہ نہیں کر سکے کیونکہ ہمارے سامنے عالمی صورتحال کا جو منظر ہے وہ کچھ اور سیاسی تبدیلیوں کی نشاندہی کر رہا ہے جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

ہمارے خیال میں عراق پر امریکی حملے کے پروگرام کے خلاف حالیہ مظاہروں کے پس منظر میں بائیں بازو کا عمل دخل زیادہ ہے جو سوویت یونین کے بکھرنے کے صدمے سے سنبھل رہا ہے اور اس نے ازسرنو عالمی سطح پر سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ سال افغانستان پر امریکی جارحیت کے خلاف لندن میں جو زبردست عوامی مظاہرہ ہوا تھا اس میں راقم الحروف بھی شریک تھا بلکہ میں نے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر مسلم علمائے کرام اور تنظیموں کو اس مظاہرے میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے کیمپین بھی کی تھی۔ اس مظاہرے میں بائیں بازو کے مختلف نظریاتی گروپ جس انداز سے متحرک تھے اور ان کے جو نعرے، بینرز اور پمفلٹس اس مظاہرہ میں کھلے بندوں دکھائی دے رہے تھے انہیں دیکھتے ہوئے مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ بایاں بازو ازسرنو منظم اور متحرک ہو رہا ہے اور امریکہ کے خلاف عالمی سیاسی مہم کی قیادت سنبھالنے میں عالم اسلام کی دینی تحریکات کو ایک مضبوط حریف کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، افغانستان میں امریکہ نے جو کچھ کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جو کچھ وہ کرنے جا رہا ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ عالم اسلام کی اسلامی تحریکات مل بیٹھیں، سر جوڑیں اور امریکہ مخالف سیاسی مہم کو منظم کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کی راہنمائی کا پرچم تھام لیں، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

پاکستان اور ترکی کی جن اسلامی تحریکات سے اس عالمی سیاسی مہم کی قیادت کی توقع کی جا سکتی تھی وہ دونوں ’’وزارتِ عظمیٰ‘‘ پر نظریں ٹکائے اس بات کا انتظار کرتی رہیں کہ کسی نہ کسی طرح لولا لنگڑا اقتدار حاصل ہو جائے تو وہ اقتدار کی قوت کو امریکی جارحیت کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرنے کی کوئی صورت نکال سکیں گی۔ ترکی میں وزارت عظمیٰ کی منزل حاصل ہو گئی اور پاکستان میں ’’دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا‘‘ کے مصداق وزارت عظمیٰ نے ہماری طرف ہاتھ بڑھاتے ہی ’’یوٹرن‘‘ لے لیا۔ مگر دونوں جگہ نتیجہ ’’وہی ڈھاک کے تین پات‘‘ نکلا۔ ترکی کی وزارت عظمیٰ امریکہ کو عراق پر حملے کی خاطر اڈے دینے کے لیے امداد میں خاطر خواہ اضافے کے نام پر نرخ بڑھانے کے لیے سودے بازی میں مصروف ہے اور پاکستان میں ’’وزارتِ عظمیٰ کا چانس‘‘ پاؤں کی زنجیر بن کر ہماری آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا کے دو بڑے ملکوں کی اسلامی تحریکات جو مضبوط سیاسی پس منظر اور بنیاد رکھتی ہیں، ان کا حال یہ ہے تو اور کسی اسلامی تحریک سے عالمی رائے عامہ کی فکری اور سیاسی رونمائی کے لیے متحرک ہونے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ لیکن تاریخ کا عمل تو کسی خلا کا روادار نہیں ہوتا اور نہ ہی تاریخ کی گاڑی کسی کا انتظار کرتی ہے۔ چنانچہ بائیں بازو نے اس خلا سے فائدہ اٹھایا ہے اور دنیا بھر میں محنت کر کے امریکہ مخالف جذبات کو اپنی رابطہ مہم کی بنیاد بنا لیا ہے۔

یہ درست ہے کہ دنیا کے سینکڑوں شہروں میں امریکہ کے خلاف مظاہرے کرنے والے عوام اور کارکنوں کی اکثریت کا بائیں بازو سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن عوامی مظاہروں اور سیاسی مہم میں سڑک پر آنے والے ہجوم اور اسے لیڈ کرنے والوں کی اہمیت اتنی نہیں ہوتی جتنی اہمیت اسے آرگنائز کرنے والوں اور اپنے مقصد کے لیے انہیں استعمال کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ بائیں بازو نے اپنی اس سیاسی مہم سے قبل جو ’’منشور‘‘ جاری کیا ہے اور اس میں امریکی عزائم اور پروگرام کا جس محنت کے ساتھ پوسٹ مارٹم کر کے امریکی استعمار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس کے بہت سے پہلوؤں سے اختلاف کے باوجود اس محنت پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ ہمارے خیال میں بایاں بازو اس حوالے سے دو باتوں کو اجاگر کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے:

  1. پہلی بات یہ کہ دنیا بھر میں بایاں بازو فکری اور سیاسی محاذ پر بدستور موجود ہے اور دوبارہ متحرک ہو رہا ہے۔
  2. اور دوسری بات یہ کہ عالم اسلام کے دینی حلقوں کی طرف سے امریکی استعمار کی اس یلغار کو اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کے خلاف جنگ قرار دینے کی جو بات کہی جا رہی ہے وہ بائیں بازو کے خیال میں درست نہیں ہے۔ یہ صرف معاشی مفادات کی جنگ ہے، ظالم و مظلوم کی جنگ ہے، معاشی وسائل پر قبضہ کی جنگ ہے اور دنیا بھر کی معیشت پر استعماری قوتوں کے فیصلہ کن کنٹرول کی جنگ ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے بعض مسلم دانشوروں کی طرف سے بھی اس خیال کا اظہار شروع ہوگیا ہے کہ تہذیبوں میں تصادم کا تصور ناکام ہوگیا ہے، دنیا میں تہذیبی کشمکش کا کوئی وجود نہیں ہے اور اس جنگ کو صرف معاشی مفادات کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس سلسلہ میں اسلامی تحریکات کا موقف مختصرًا عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ صرف معاشی غلبے کی جنگ نہیں بلکہ امریکی استعمار کی جارحانہ یلغار کے ایجنڈے میں پانچ باتیں واضح طور پر شامل ہیں جو کھلی آنکھوں ہر شخص کے مشاہدہ میں ہیں:

  1. تمام معاشی وسائل پر قبضے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے دنیا بھر کی معیشت پر کنٹرول کی مہم۔
  2. مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی سرحدوں میں توسیع اور اس کا اس درجہ استحکام کہ عرب ممالک اسرائیل کے باجگزار بن کر رہ جائیں اور بیت المقدس پر مسلمانوں کی بجائے یہودیوں کا حق تسلیم کر کے اسرائیل کی مذہبی اور نفسیاتی بالادستی قائم کر دی جائے۔
  3. اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ذریعے پوری دنیا میں ایک ریموٹ کنٹرول ’’عالمی حکومت‘‘ کا قیام جس کی تشکیل و تنفیذ کا بہت سا کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی ماندہ کام کی تکمیل کی طرف تیزی کے ساتھ پیشرفت جاری ہے۔
  4. اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے نام پر اسلامی احکام و قوانین کی مخالفت اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روک تھام یا کم از کم اس کا دائرہ محدود کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مسلسل دباؤ۔
  5. اسلام کی تہذیبی اقدار، مسلمانوں کے خاندانی نظام اور ثقافتی روایات کی حوصلہ شکنی اور کردار کشی کر کے مسلم تہذیب کو عالمی تہذیب کے نام پر مغربی کلچر و تہذیب میں ضم کر دینے کی مسلسل جدوجہد۔

یہ پانچ امور وہ ہیں جو کسی قیاس آرائی کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی استعمار کی مہم کا باقاعدہ حصہ اور آن دی ریکارڈ امور ہیں۔ اس لیے ان باتوں کی موجودگی میں ہم امریکی استعمار کی جنگ جویانہ مہم کو معاشی وسائل پر مکمل قبضے کے ساتھ ساتھ اسے اسلام، اسلامی تہذیب اور عالم اسلام کے خلاف ایک نظریاتی اور تہذیبی جنگ بھی سمجھتے ہیں۔

مگر اس بات سے قطع نظر بائیں بازو نے عالمی رائے عامہ کی سیاسی اور فکری راہنمائی کے محاذ پر جو پیشرفت کی ہے اس کا اعتراف کرنے اور اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہے کہ مسلم امہ کی اسلامی تحریکات اس میدان میں اپنی غفلت، مصلحت کوشی یا نا اہلی کی وجہ سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ بلکہ مذہبی محاذ پر بھی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیں تو وہاں بھی یہ منظر کھائی دیتا ہے کہ ایک طرف منیٰ کے میدان میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے آنے والے بیس لاکھ حجاج کرام سے مفتی اعظم سعودی عرب فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ مدظلہ العالی کا خطاب ہے جس میں انہوں نے بلاشبہ عالم اسلام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور ملت اسلامیہ کے اصل مسئلہ کی حقیقت پسندانہ نشاندہی فرمائی ہے جس پر ان کے لیے دل سے بے ساختہ دعائے خیر نکلتی ہے، لیکن ان کے ارشادات صراحت کی بجائے کنایہ کی زبان میں ہیں اور انہوں نے عالم اسلام کے دشمن کا نام لینے یا اس ظالم کے ستم کا نشانہ بننے والے مظلوموں کا نام لے کر تذکرہ کرنے کو خلاف مصلحت سمجھا ہے، جبکہ دوسری طرف پاپائے روم کا بیان ہے جس میں عراق کا نام لے کر اس پر امریکہ کے حملے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شامل کر لیں کہ اسی منیٰ کے میدان میں جہاں مفتی اعظم سعودی عرب نے خطبہ دیا ہے عالم اسلام کے مختلف حصوں سے ہزاروں سرکردہ علمائے کرام اور دانشور موجود تھے مگر وہ اس کی اجتماعی تائید کے لیے مل بیٹھنے کا اہتمام بھی نہیں کر سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter