’’احسان شناسی‘‘ اور حسین حقانی کا شکوہ!

   
۲۲ جون ۲۰۰۸ء

جناب حسین حقانی واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر محترم ہیں اور ملک کے معروف دانشوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ پاکستانی لوگ امریکہ سے شکایتیں تو بہت کرتے ہیں اور تنقید و اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن امریکہ کے احسانات انہیں یاد نہیں رہتے اور امریکہ نے پاکستان اور اس کے عوام پر جو مہربانیاں کی ہیں ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ حقانی صاحب کا یہ شکوہ گزشتہ روز ایک اخبار میں نظر سے گزرا جو خدا جانے انہوں نے کس پس منظر میں کیا ہے مگر ہمیں یاد آیا کہ ایک بار خود ایک امریکی حکمران نے بھی فرمایا تھا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اتنی مہربانیاں کرتے ہیں مگر انہیں بھلا دیا جاتا ہے اور احسانات پر سراپا تشکر ہونے کی بجائے مسلمان ہر وقت غم و غصہ کا اظہار ہی کرتے رہتے ہیں۔

ہم اس موقع پر اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ امریکہ نے پاکستان اور اس کے باشندوں پر گزشتہ چھ عشروں میں کیا کیا احسانات کیے ہیں اور کون کون سی مہربانیوں سے ہمیں نوازا ہے۔ اس لیے کہ سب باتیں ریکارڈ پر ہیں جو کچھ امریکہ نے پاکستان کے لیے اور پاکستان کے ساتھ کیا ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے اور جو کچھ پاکستان اور پاکستانی عوام نے امریکہ کے لیے کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اور اگر ان دونوں پہلوؤں کا کوئی گوشہ عام لوگوں کے علم میں نہیں ہے تو وہ واشنگٹن ڈی سی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سفارت کے منصب پر فائز ایک دانشور سے تو یقیناً مخفی نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے تاریخ انسانی کے ایک پرانے دور کا قصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں اور اسے جناب حسین حقانی کی نذر کر رہے ہیں کہ مہربانیوں اور احسانات کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے۔

بنی اسرائیل کی مصر میں آمد حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی۔ جب ان کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام جیل سے نکل کر مصر کے وزیرخزانہ بنے اور اس کے بعد حکمرانی کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے اپنے پورے خاندان کو کنعان سے مصر بلا لیا جن میں ان کے گیارہ بھائیوں کے ساتھ ان کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام اور والدہ محترمہ بھی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کو نبوت اور حسن کے ساتھ حکمرانی بھی دی اور خاندان پر ایسی فضیلت عطا کی جو ان کے اس پرانے خواب کی تعبیر بن گئی جو انہوں نے بچپن میں اپنے والد محترم کو سنایا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا، انہی کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے اور ان کی زندگی میں ہی بنی اسرائیل مصر کے اقتدار میں شریک ہوگئے تھے جس کے بعد مدتوں یہ خاندان مصر پر حکمران رہا۔ مگر اس کے بعد زوال کا شکار ہوئے تو آل فرعون کی غلامی ان کا مقدر بن گئی اور یہ نسل در نسل آل فرعون کی غلامی کا عذاب سہتے رہتے۔

فرعونوں کی غلامی میں بنی اسرائیل کا وہی حال ہوا جو غلام قوموں کا ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس غلامی کی ایک بدترین شکل یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جاتا تھا۔ اس کا پس منظر بعض روایات میں یوں بیان ہوا ہے کہ فرعون کو اس کے کسی خواب کی تعبیر میں یہ بتایا گیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تمہاری بادشاہت کے خاتمہ کا ذریعہ بنے گا۔ اس پر بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دینے کا شاہی حکم صادر ہوگیا اور تاریخی روایات کے مطابق ستر ہزار کے لگ بھگ معصوم بچے اس حکم کے تحت قتل کیے گئے ۔مگر جس بچے نے فرعون کی بادشاہت کے خاتمے کا ذریعہ بننا تھا اسے قتل نہ کیا جا سکا بلکہ خود فرعون کے گھر میں اس کی پرورش ہوئی اور فرعون کے خرچے پر وہ پلا بڑھا۔ یہ حضرت موسٰی علیہ السلام تھے جن کی ولادت پر ان کی والدہ محترمہ کی پریشانی اور پھر انہیں فرعون کے گھر پہنچا کر اس کے گھر میں ان کی پرورش کا اہتمام کرنے کا واقعہ قرآن کریم نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس طرح اپنی بے نیازی اور قدرت کا اظہار کیا کہ جس بچے کے خوف سے فرعون نے ستر ہزار کے لگ بھگ معصوم بچے قتل کیے اس کی پرورش خود فرعون نے کی اور فرعون کے گھر میں اس کے خرچے پر پرورش پا کر حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کے مفادات کے محافظ بن گئے۔ حتیٰ کہ حضرت موسٰیؑ کے ہاتھوں فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد کے قتل کا جو قصہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس کا پس منظر بھی یہ ہے کہ ایک اسرائیلی سرِ بازار ایک قبطی (شاہی خاندان کے فرد) کے ظلم پر واویلا کر رہا تھا کہ حضرت موسٰیؑ اس کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور قبطی کو ایک مکا رسید کر دیا۔ حضرت موسٰیؑ کا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا مگر مکا جلالی پیغمبرؑ کا تھا، وہ قبطی ایک ہی مکے سے ڈھیر ہوگیا اور اسے قتل کرنے کے الزام میں حضرت موسٰیؑ کے خلاف جوابی کاروائی کے خطرے نے انہیں مصر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ قسمت انہیں اپنے وقت کے ایک اور پیغمبرؑ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس مدین میں لے گئی جہاں وہ دس سال رہے اور حضرت شعیبؑ کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی دامادی کے شرف سے بھی فیضیاب ہوئے۔ حضرت شعیبؑ کے ساتھ حضرت موسٰیؑ کے اسی تعلق کے حوالے سے اقبالؒ نے کہا ہے:

اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

وہاں سے واپسی پر وہ اہلیہ سمیت مصر تشریف لا رہے تھے کہ کوہِ طور پر نبوت و رسالت سے بہرہ ور ہوئے۔ ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کو نبوت اور معجزات کے ساتھ فرعونِ مصر کے پاس دو مشن دے کر بھیجا۔ ایک یہ کہ فرعون کو یہ پیغام دو کہ وہ اللہ رب العزت کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کا اقرار کرے، اور دوسرا یہ کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرے۔ قرآن کریم نے اس کی تفصیلات متعدد مقامات پر بیان کی ہیں اور فرعون کے ساتھ حضرت موسٰی اور حضرت ہارون علیہم السلام کے مکالمہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے جادوگروں کے ساتھ ان دو برگزیدہ پیغمبروں کے مقابلہ کی تفصیل بھی بتائی ہے۔ مگر ہم ان میں سے صرف دو مکالموں کا کچھ حصہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب میدانِ مقابلہ میں فرعون کے جادوگر اور حضرت موسٰیؑ آمنے سامنے ہوئے اور فرعون سمیت ایک بڑا ہجوم اس مقابلہ کو دیکھنے کے لیے جمع تھا تو مقابلہ سے پہلے فرعون نے جادوگروں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ کے بارے میں کہا کہ:

’’یہ دو جادوگر ہیں جو تمہیں تمہارے ملک سے نکالنے اور تمہارے مثالی نظام کو ختم کرنے کے لیے آئے ہیں، اس لیے تدبیر کی پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرو۔‘‘ (سورۃ طہ ۲۳ و ۲۴)

مگر اس مقابلہ میں جادوگروں کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ وہ حضرت موسٰیؑ پر ایمان بھی لے آئے اور فرعون کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرا یہ کہ جب حضرت موسٰیؑ فرعون کے دربار میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور بنی اسرائیل کی آزادی کا پیغام لے کر گئے اور فرعون کو یہ پیغام سنایا تو فرعون نے حضرت موسٰیؑ کو اپنے احسانات یاد دلائے اور کہا کہ:

’’کیا ہم نے تمہاری بچپن میں پرورش نہیں کی تھی اور کیا تم نے زندگی کا ایک حصہ ہمارے پاس نہیں گزارا تھا اور کیا تمہیں یاد نہیں کہ تم نے ہمارا ایک آدمی بھی قتل کر دیا تھا۔‘‘

حضرت موسٰیؑ نے جواب میں فرمایا کہ قتل تو مجھ سے غلطی سے ہوگیا تھا اور اسی وجہ سے میں تمہارے خوف سے یہ ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت عطا فرمائی ہے۔ مگر یہ احسانات کون سے یاد دلا رہے ہو؟

’’اور تمہارا یہی احسان ہے جس کو تم جتلا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟‘‘ (الشعراء ۲۲)

حضرت موسٰی علیہ السلام کے اس ایک جملے کے پیچھے مطالب و معانی کا ایک پورا جہان آباد ہے جن تک رسائی کے لیے بہت زیادہ عقل و دانش کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم محترم جناب حسین حقانی اور ان کے ذریعے امریکی حکمرانوں کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان پر امریکہ کے ’’احسانات‘‘ ایک ایک کر کے سب یاد ہیں لیکن ہمیں ان نوازشات اور مہربانیوں کے سنہری ورق میں لپٹی ہوئی غلامی کی زنجیریں بھی نظر آرہی ہیں بلکہ اب تو ان کی تپش اور روز افزوں تنگی ہمارے لیے ’’عذاب الیم‘‘ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جناب حسین حقانی صرف اپنی قوم کو ’’احسان شناسی‘‘ کا سبق دیتے رہیں گے یا مظلوم پاکستانی قوم کے گرد غلامی کی زنجیروں کا حصار توڑنے میں بھی کوئی کردار ادا کر سکیں گے؟

   
2016ء سے
Flag Counter