’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

   
۷ مئی ۲۰۰۱ء

اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ’’نادانی‘‘ کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’عدالت‘‘ کے منصب پر فائز بیشتر حضرات کو سرے سے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی تبدیلی کا شکار ہو رہا ہے، اقدار و روایات الٹ پلٹ رہی ہیں اور مغرب و ہند نے اس کے لیے باقاعدہ ایجنڈا طے کر رکھا ہے جس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اس بات سے بھی بظاہر بے خبر دکھائی دیتے ہیں کہ جس قرآن و سنت کو اسی دستور میں قانون سازی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے جس کی پاسداری کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے، اس قرآن و سنت نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور معاشرتی کردار کے بارے میں بھی کچھ ہدایات دے رکھی ہیں، اور ان ہدایات کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام ہم سب کی ذمہ داری کے دائرہ میں آتا ہے۔

اس لاعلمی اور بے پرواہی کا تازہ ترین شاہکار لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا یہ فیصلہ ہے جو ایک شہری محمد مودی کی طرف سے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے سلسلہ میں دائر کردہ رٹ کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے صادر فرمایا ہے۔ درخواست گزار نے اپنی رٹ میں تقاضا کیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات کریں اور انتخابات نظام مصطفٰیؐ کے تحت کرائیں جسے فاضل جج نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ملک کے دستور میں نفاذ اسلام کے لیے بہت سی شقیں موجود ہیں، بہت سے اسلامی قوانین ملک میں نافذ ہیں، کسی کو نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں روکا جا رہا اور وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہیں اسلیے اب یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھالیں۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں یہ سوال بھی کیا ہے کہ

’’ملک میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لیے حکومت کی طرف سے کون سی کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی اور اسلام کا کون سا مخصوص حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟‘‘

اس فیصلہ کے بہت سے پہلوؤں کے بارے میں کچھ نہ کچھ عرض کرنے کی گنجائش اور ضرورت موجود ہے مگر ان میں سے صرف تین امور پر چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔

  1. جہاں تک نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے کسی کو نہ روکنے کا تعلق ہے، فاضل عدالت سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ رکاوٹ برطانوی استعمار کے دور میں بھی موجود نہ تھی۔ مسجدیں آباد تھیں، روزے رکھے جاتے تھے، لوگ زکوٰۃ آزادانہ دیتے تھے، حج کے لیے جاتے تھے اور عبادات کے زمرہ کے دینی احکام پر کسی رکاوٹ کے بغیر عمل ہوتا تھا۔ بلکہ یہ سہولت اور آزادی تو آج عالم اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو فراہم کر رکھی ہے۔ تو کیا انہیں بھی یہی مشورہ دے دیا جائے کہ وہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کی اس آزادی پر قناعت کرتے ہوئے اس سے زیادہ کے لیے شور مچانا بند کر دیں ورنہ ان کی جدوجہد ’’بے بنیاد‘‘ قرار پائے گی؟
  2. فاضل جج کا یہ ارشاد کہ حکومت نے اسلامی قوانین نافذ کر دیے ہیں اور ان پر عمل کرنا اب صرف عوام کی ذمہ داری ہے، بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مگر ان میں سے صرف ایک سوال ان کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ دستور و قانون کے اسلامی حصوں کے علاوہ ملک کے باقی مروجہ قوانین کے بارے میں بھی کیا وہ یہی ریمارکس دینے کے لیے تیار ہیں؟ ملک میں تمام متعلقہ اور ضروری معاملات کے لیے قوانین نافذ ہیں اور دستور و قانون میں عوام کی ذمہ داریاں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ اس لیے اگر انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت قوانین کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتی ہے اور ان پر عملدرآمد صرف عوام کی ذمہ داری قرار پاتا ہے تو فاضل جج کو اس بات کی بھی وضاحت کر دینی چاہیے کہ پھر انتظامیہ اور عدلیہ کی سرے سے ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ بلکہ خود حکومت کے وجود کا بھی کیا جواز باقی رہتا ہے؟
  3. ہم فاضل عدالت کے اس سوال کے جواب میں بھی کچھ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام کا کون سا حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟ اس کے جواب میں اسلام کے ان حصوں کی فہرست تو طویل ہے جو صرف عملاً نہیں بلکہ دستور و قانون کے لحاظ سے بھی ملک میں نافذ نہیں ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا تذکرہ فاضل عدالت کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔
    • جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں اسلامی ریاست کے شہری کے طور پر قبول کیا تھا تو معاہدہ میں شرط لگا دی تھی کہ وہ اسلامی ریاست میں سودی کاروبار نہیں کریں گے ورنہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔ فاضل عدالت کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کا یہ حصہ نافذ نہیں ہے اور سود کا کاروبار صرف غیر مسلم نہیں بلکہ خود مسلمان اور حکمران بھی کر رہے ہیں۔ اور حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اسے ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
    • جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں اپنے ایک صحابیؓ کو ننگے بدن پر چھڑی مار دی جس سے اس کے جسم پر خراش آگئی، اس نے بدلے کا مطالبہ کیا تو آنحضرتؐ نے کسی تکلف کے بغیر چھڑی اس کے ہاتھ میں دے کر اپنا بدن اس کے آگے کر دیا تاکہ وہ بدلہ لے سکے۔ مگر ہمارے ہاں پروٹوکول اور پرسٹیج کے عنوان سے حکومتی اور عدالتی مناصب پر فائز لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالتی احتساب سے بالاتر ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
    • بنو مخزوم کی فاطمہؓ نامی خاتون چوری میں پکڑی گئی اور جرم ثابت ہوگیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ بعض صحابہؓ نے سفارش کرنا چاہی کہ معزز خاندان کی عورت ہے، ہاتھ کاٹنے سے خاندان کی بدنامی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت غصے کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اگر خدانخواستہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی (نعوذ باللہ) چوری کرے تو اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔ مگر ہمارے ہاں قانون کی عملداری کا اطلاق سب لوگوں کے لیے یکساں نہیں ہے جو کہ ہر شخص کو نظر آرہا ہے۔ جس مجرم کو کوئی معقول سفارش میسر ہے یا جس میں ’’ڈیل‘‘ کی صلاحیت موجود ہے وہ جرم ثابت ہونے پر بھی سزا سے محفوظ رہتا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
    • جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے اور بیت المال سے ان کی تنخواہ طے کرنے کا موقع آیا تو خلافت راشدہ کی مجلس شوریٰ نے یہ اصول طے کیا کہ انہیں مدینہ منورہ کی آبادی میں سے متوسط درجہ کے شہری کے معیار کے مطابق وظیفہ اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی چنانچہ اسی بنیاد پر ان کی تنخواہ طے کی گئی۔ مگر ہمارے ہاں معیار زندگی اور تنخواہوں میں ہوش ربا تفاوت ہے کہ ملک کے ایک شہری کو سرکاری خزانے سے دو ہزار روپے تنخواہ بھی نہیں ملتی جبکہ اسی ملک کا دوسرا شہری لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور اس سے کہیں زیادہ سہولتیں سرکاری خزانے سے وصول کرتا ہے جس سے معاشرہ خوفناک طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ زریں اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
    • خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ بن الخطاب خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو حکم صادر فرمایا کہ ان کی حکومت کا کوئی گورنر یا افسر ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا، باریک لباس نہیں پہنے گا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا، اور اپنے دروازے پر ڈیوڑھی نہیں بنائے گا۔ ان ہدایات کا مطلب یہ تھا کہ گورنر سمیت تمام اہل کار عام آدمیوں جیسی زندگی بسر کریں گے، ان کے درمیان رہیں گے اور لباس، خوراک اور رہائش میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار نہیں کریں گے۔ ان احکامات کی خلاف ورزی پر حضرت عمرؓ اپنے افسروں کو سزا دیا کرتے تھے۔ ایک گورنر کے دروازے پر بنی ہوئی ڈیوڑھی کو آگ لگوا دی اور ایک گورنر کو باریک (امتیازی) لباس پہننے کے جرم میں بکری کے بالوں سے بنا ہوا لمبا چغہ ننگے بدن پر پہنا کر بیت المال کی بکریاں چرانے پر لگا دیا۔ ہمارے ملک میں حکمران کلاس اور رعیت کے درمیان رہن سہن، خوراک اور سواری کے معیار کا کھلم کھلا فرق اس اصول کے منافی ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
    • حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھوک سے مر جائے تو اس کے بارے میں بھی عمرؓ مسئول ہوگا۔ مگر ہمارے ہاں انسان بھوکے مر رہے ہیں، خودکشی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور غریب آدمی زندگی کو عذاب سمجھنے لگا ہے مگر کوئی شخص یا طبقہ اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی اصلاح احوال کے کوئی دلچسپی کسی طبقے میں دکھائی دیتی ہے، اور اس طرح اسلام کا یہ سنہری اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔
    • جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنا دیا ہے اس لیے جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ، جو خود پہنو ان کو پہناؤ، ان کی طاقت سے زیادہ کام ان پر نہ ڈالو اور اگر کوئی کام ان کی طاقت سے زیادہ ہے تو خود ساتھ مل کر کام میں ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ ہمارے ہاں مالک اور غلام کا تو کوئی وجود نہیں ہے مگر افسر اور ماتحت، مالک اور ملازم، جاگیردار اور مزارع کا منظر اس سے کہیں زیادہ شرمناک ہے۔ کوئی افسر اپنے ماتحت کے لیے، کوئی مالک اپنے ملازم کے لیے اور کوئی زمیندار اپنے مزارع کے لیے وہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کی جناب رسول اکرمؐ نے ہدایت فرمائی ہے، اس لیے اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔
    • پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت کے پیشوا اور امام حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اصول بیان فرمایا ہے ’’لا رضاء مع الاضطرار‘‘ کہ مجبوری کی حالت میں رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں مجبوری اور اضطرار کی وجہ سے اپنے حق سے کم پر رضامند ہو جاتا ہے تو اس کی اس رضامندی کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے اور شرعی طور پر اس معاملہ میں اس کا وہی حق بنتا ہے جو اس کی محنت یا عمل کے لیے معروف طور پر ہونا چاہیے۔ مگر ہمارے ہاں سرکاری و غیر سرکاری اور قانونی و غیر قانونی ہر سطح پر اکثر و بیشتر معاملات کا دارومدار ہی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے پر ہے جو کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اور اس طرح اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔

ابھی ایسے معاملات کی فہرست طویل ہے، سردست ان چند امور پر اکتفاء کیا جا رہا ہے اس امید پر کہ فاضل عدالت ان کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اپنے مذکورہ فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرے گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter