بیرونی ممالک میں قید ہزاروں پاکستانی شہری

   
دسمبر ۲۰۰۵ء

روزنامہ انقلاب لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بارہ ہزار سے زائد پاکستانی شہری اٹلی، یونان، ترکی اور ایران کی جیلوں میں اذیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ ۱۶ ہزار سے زائد افراد دھکے کھا کر وطن واپس آگئے ہیں اور سینکڑوں افراد بین الاقوامی سرحد کو ناجائز طور پر عبور کرتے ہوئے متعلقہ ملک کی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان کی وزارت داخلہ کے بعض ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ ترکی، ایران اور یونان نے اس سلسلہ میں پاکستان سے باقاعدہ احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کے اس رجحان کو نہ روکا تو وہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر آواز اٹھائیں گے کیونکہ ان کی جیلیں پاکستانی قیدیوں سے بھری پڑی ہیں اور جیلوں میں مزید قیدیوں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کی جیلوں میں سات ہزار ،اٹلی کی جیلوں میں دو ہزار اور یونان کی جیلوں میں تین ہزار پاکستانی قید ہیں، جبکہ گزشتہ دس ماہ کے دوران سولہ ہزار پاکستانیوں کو ایرانی حکومت نے گرفتار کرکے پاکستان کے حوالہ کیا ہے۔

بیرونی ممالک کی جیلوں میں قید کاٹنے والے یہ ہزاروں پاکستانی وہ بدنصیب لوگ ہیں جو بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک بھجوانے والے جعلساز ایجنٹوں کے دام فریب کا شکار ہو کر اور اپنا بہت کچھ لٹا کر غیر قانونی طور پر ملک سے باہر گئے ہیں اور بہتر روزگار کی بجائے اذیت ناک قید کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بیرونی دنیا میں وطن عزیز کی بدنامی کے ساتھ ساتھ ایک انسانی المیہ بھی ہے جس سے ہزاروں افراد ہی نہیں بلکہ ان سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے لاکھوں افراد کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔ یہ صورتحال ملک کے غلط معاشی نظام کے علاوہ متعدد سرکاری محکموں کی نااہلی اور بدعنوانی کی آئینہ دار ہے جن کی ملی بھگت سے جعلساز ایجنٹوں کو ہزاروں شہریوں کی زندگی، دولت اور آزادی کے ساتھ یہ مکروہ کھیل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ بیرون ملک بہتر روزگار دلانے کے نام پر اب تک لاکھوں خاندانوں کو دھوکے کا شکار بنایا جا چکا ہے مگر اس کے سدباب کے لیے حکومت کچھ بھی نہیں کر سکی۔

ہم ارباب اختیار سے گزارش کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور بیرون ملک ہزاروں پاکستانی شہریوں کو قید سے رہائی دلا کر بحفاظت ملک میں واپس لانے کے انتظامات کے ساتھ ساتھ اس جعلسازی کا مؤثر سدباب بھی کریں جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter