مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی

   
مئی ۲۰۰۷ء

ہفت روزہ وزارت گوجرانوالہ نے ۲۴ اپریل ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر دی ہے کہ ممبئی بھائی ہائیکورٹ نے مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر کے مطابق مسلمان لڑکے عمر اور ہندو لڑکی پرانیکا کی شادی کو پرانیکا کے خاندان والوں نے قبول نہیں کیا اور اس شادی کے خلاف ہندو تنظیموں بجرل دل اور آر ایس ایس نے ممبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ درج کرا دیا، جس میں ان کا موقف یہ تھا کہ عمر نے پرانیکا کو اغوا کیا ہے۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان شادی نکاح کا معاملہ صرف بھارت میں نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس وقت خاندانی نظام کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بالغ مرد اور عورت رنگ، نسل یا مذہب کی کسی بھی تفریق کے بغیر آپس میں شادی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اسلام کے خاندانی نظام کے ان قوانین کو غیر انسانی قرار دیا جاتا ہے جن میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان شادی اور رشتوں کی ممانعت کی گئی ہے۔ بھارت میں یہ مسئلہ اس لحاظ سے زیادہ شدت اختیار کیے ہوئے ہے کہ وہاں ہندو، سکھ، پارسی، بدھ اور مسیحی وغیرہ آپس میں شادیاں اور رشتے کر رہے ہیں مگر مسلمان اس کے لیے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان پر الزام ہے کہ وہ بھارت کی سیکولر قومیت کو قبول نہیں کر رہے اور اپنا خاندانی تشخص الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالیٰ بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت اس سلسلہ میں اپنے دینی تشخص اور موقف پر قائم ہے اور ’’کامن سول کوڈ‘‘ کے نام سے سول سوسائٹی میں ضم ہوجانے کے پر وہ آمادہ نہیں ہے جس کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عنوان سے تمام مذہبی مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس قسم کی صورتحال پاکستان میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بہت سی این جی اوز کی طرف سے مذہبی امتیاز کے قوانین ختم کرنے کے جو مطالبات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں ان کا ایک حصہ یہ مطالبہ بھی ہوتا ہے کہ خاندان اور شادی کے معاملات میں مذہب کی بنیاد پر فرق و امتیاز قائم کرنے والے قوانین ختم کیے جائیں۔ ان حالات میں اسلام کے خاندانی نظام اور شرعی احکام قوانین کو اور زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر دینی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معروضی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے نئی نسل اور عام مسلمانوں کی ذہن سازی اور دینی راہنمائی کا اہتمام کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter