قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے

   
فروری ۲۰۱۱ء

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر متنوع قسم کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، اس قتل کو افسوسناک قرار دینے والے بھی موجود ہیں اور اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، مگر یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ نے صورتحال بالکل بدل ڈالی ہے اور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پالیسیوں اور اندازوں میں ہلچل کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔

  • توہین رسالتؐ کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے اب معذرت خواہانہ رویہ پر آگئے ہیں، قانون میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، بلکہ وزیر داخلہ نے یہاں تک کھلے بندوں کہہ دیا ہے کہ ان کے سامنے کوئی توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرے تو وہ خود اسے گولی مار دیں گے، عوام کے جوش و خروش میں اضافہ ہو رہا ہے اور سلیمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے اپنے حفاظتی گارڈ ملک ممتاز قادری کو جو پذیرائی مل رہی ہے اس نے دنیا بھر کے دانشوروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے۔
  • پہلے اسے صرف علماء اور دینی حلقوں کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا اور علماء کو اس پر شدت پسندی اور تنگ نظری کے طعنے دیے جاتے تھے مگر اب اس میں وکلاء بھی پیش پیش ہیں۔ جس قانون دان طبقہ سے مغربی استعمار نے پاکستان میں سیکولر جمہوریت کے لیے فیصلہ کن کردار کی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں وہ ملک ممتاز قادری کی پشت پر کھڑا ہے اور ملک بھر کے وکلاء توہین رسالتؐ کے قانون کے ہر قیمت پر تحفظ کے لیے پر عزم دکھائی دیتے ہیں۔
  • صورتحال کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ دیوبندیوں کو دہشت گردی کا سر چشمہ قرار دے کر جس طبقے کو مذہبی حوالوں سے دیوبندیوں کے مقابل لانے کے لیے کئی سالوں سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور جس کے لیے پینٹاگون تک میں بریفنگ کا اہتمام کیا گیا تھا، وہی طبقہ اب سیکولر حلقوں کے سامنے صف باندھے کھڑا ہے جس سے منصوبہ بندوں کے سارے منصوبے الٹ کر رہ گئے ہیں۔کبھی کبھی ذہن میں بات آتی ہے کہ ملک ممتاز قادری اگر دیوبندی ہوتا تو اس وقت تک ملک میں دیوبندیوں کے خلاف کتنا بڑا طوفان بپا ہو چکا ہوتا، مگر ملک ممتاز قادری نے دیوبندیوں پر دہشت گردی کے طعنے کسنے والوں کے منہ بند کر دیے ہیں اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ ہو تو اس ’’دہشت گردی‘‘ میں کوئی مسلمان دوسرے سے کم نہیں ہے۔
  • پھر ایک بات اور بھی اس منظر پر دکھائی دینے لگی ہے کہ ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی اسلام‘‘ میں فرق کو اجاگر کرنے اور صوفی اسلام کو قابل قبول قرار دینے کے جو تجزیے مغربی تھنک ٹینکس نے کیے تھے اور جن کی بنیاد پر پاکستان میں صوفی ازم کو فروغ دینے کے منصوبے تشکیل پائے تھے، حتٰی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی سربراہی میں ایک ’’صوفی کونسل‘‘ بھی اس مقصد کے لیے قائم ہوئی تھی، وہ سارے تجزیے اور منصوبے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں اور دنیا نے اس حقیقت کا ایک بار پھر مشاہدہ کر لیا ہے کہ ناموس رسالتؐ کے مسئلہ پر پوری قوم متحد ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، صوفی اور غیر صوفی کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا اور اپنے محبوب پیغمبرؐ کے ساتھ عقیدت و محبت اور غیرت و حمیت کے اظہار میں ہر مسلمان ایک دوسرے سے آگے نظر آتا ہے۔

ہم کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ مسلمان قوم کی نفسیات و مزاج کو سمجھنے میں سیکولر قوتوں نے ہمیشہ دھوکہ کھایا ہے اور وہ مسلسل مغالطوں کا شکار رہی ہے۔ آج بھی سیکولر قوتوں کو یہ مغالطہ ہے کہ مسلمانوں کو قرآن کریم سے اور جناب نبی اکرمؐ کی ذات اقدس سے ہٹایا جا سکتا ہے،اسی وجہ سے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے دینی جذبات اور حمیت کا ٹمپریچر چیک کرنے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کیے جاتے ہیں مگر ہر بار وہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ٹمپریچر ایک ہی جگہ سیٹ ہے اس میں اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر اس میں کمی کا کسی درجہ کا کوئی امکان نہیں ہے۔

عالمی سیکولر حلقوں کی تو یہ مجبوری سمجھ میں آتی ہے کہ اپنے سامراجی اور تہذیبی ایجنڈے کی راہ میں حائل اس سب سے بڑی رکاوٹ سے آخر وقت تک انہوں نے سر ٹکراتے ہی رہنا ہے، مگر پاکستان میں قومی سطح کے منصوبہ سازوں کو اب یہ بات بہرحال باور کر لینی چاہیے کہ پاکستان کے غیور مسلمانوں کی دینی حمیت و جذبات کے لیول کو کسی صورت میں کم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے وہ اس فضول کوشش میں وقت اور صلاحیتیں ضائع کرتے رہنے کی بجائے قومی پالیسیوں کو صحیح رخ دیں اور عوام کے عقیدہ و ایمان، حمیت و جذبات اور ملی رجحانات کی بنیاد پر قومی پالیسیاں از سر نو تشکیل دے کر اس قومی وحدت کا احترام کریں جس کا اظہار پوری قوم نے ناموس رسالتؐ کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر کرکے دکھا دیا ہے کیونکہ قوم کی وحدت اور مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter