مغربی دنیا اور آسمانی تعلیمات

   
جون ۲۰۱۴ء

جب سے مغربی دنیا کے ذہنوں میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزادی اور عورت و مرد میں مساوات کا سودا سمایا ہے، عجیب و غریب قسم کے لطیفے سننے اور پڑھنے میں آرہے ہیں۔

  • کچھ عرصہ قبل امریکی سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی ایک رٹ کی خبر اخبارات کی زینت بنی تھی کہ جب مرد اور عورت میں مکمل مساوات ہے اور کسی کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے تو جب گاڈ (اللہ) کے حوالہ سے کوئی بات کہی جاتی ہے تو مذکر کا صیغہ بولا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے اور مؤنث کا صیغہ نہیں بولا جاتا کہ گاڈ کہتی ہے، یہ امتیازی رویہ ہے اور عورت اور مرد میں مساوات کے تصور کے منافی ہے، اس پر ایک جج کے یہ ریمارکس بھی خبر کا حصہ تھے کہ کوئی حرج کی بات نہیں دونوں طرح کہنا درست ہے، گاڈ کہتا ہے بھی ٹھیک ہے اور گاڈ کہتی ہے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
  • اسی طرح ایک اور ملک کی عدالت میں دائر ہونے والی یہ خبر بھی اخبارات میں پڑھنے کو ملی جس میں ایک خاوند نے درخواست دائر کی تھی کہ میری بیوی کو بچے کی ولادت کے موقع پر زچگی کے ایام میں جو رخصت ملتی ہے وہ مجھے بھی دی جائے، اس لیے کہ عورت کو چھٹی ملنا اور مرد کو نہ ملنا امتیازی رویہ ہے جو مرد و عورت کی مساوات کی نفی کرتا ہے۔ خدا جانے اس کیس کا متعلقہ عدالت نے کیا فیصلہ کیا تھا مگر ابھی تازہ رپورٹ امریکی سپریم کورٹ میں دائر ہونے والے ایک کیس کی ہے جس میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کاؤنٹی کونسل کے اجلاس کا آغاز دعا کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
  • روزنامہ پاکستان لاہور میں ۷ مئی کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی نیویارک ریاست میں ایک کاؤنٹی کونسل کے اجلاس کا آغاز دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے جسے وہاں کی دو خواتین نے کورٹ میں چیلنج کر دیا کہ دعا مذہب کی علامت ہوتی ہے جبکہ ریاستی اداروں کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے ان اداروں کو مذہب کی کسی بھی علامت کو اپنی کاروائی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ لوکل کورٹ نے یہ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریاستی اداروں کو مذہب سے الگ تھلگ رہنا چاہیے اس لیے کاؤنٹی کونسل کے اجلاس میں دعا مانگنا امریکی دستور کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اس کے بعد یہ کیس بالائی عدالت میں گیا تو بحث کچھ آگے بڑھی کہ دعا میں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن چونکہ کونسل میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں اور دعا کسی ایک مذہب کے مطابق مانگی جاتی ہے جو کونسل کو کسی ایک مذہب کا فریق ظاہر کرتی ہے، اس لیے یہ دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ مگر جب یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں آیا تو سپریم کورٹ کے نو میں سے پانچ ججوں نے اکثریتی فیصلہ دے دیا کہ کسی بھی مذہب کے مطابق دعا مانگی جا سکتی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق فیصلہ دینے والے پانچ جج عیسائی ہیں اور اس سے اختلاف کرنے والے چار جج یہودی ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ فیصلہ لکھا ہے اور اس میں یہ ریمارکس دیے ہیں کہ ریاستی ادارے مذہب کی بالاتری سے آزاد نہیں ہوتے اور امریکی قوم دستور کے نفاذ سے پہلے بھی دعا مانگا کرتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی قوم خود کو دستور سے پہلے اور دستور سے بالا تر کسی اور قوت کا تابع بھی سمجھتی ہے۔

ہمارے خیال میں یہ فیصلہ آسمانی تعلیمات سے انحراف کی آخری حدوں کو چھونے کے بعد ان کی طرف واپسی کے سفر کی ایک علامت ہے جس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اور اس حوالہ سے مغربی دنیا کی راہنمائی وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے کہ دعا، آسمانی تعلیمات اور وجدانیات کا اصل سرچشمہ کون سا ہے؟ ہم اگر اس مرحلہ میں مغرب کی نفسیات اور ضروریات کے صحیح ادراک کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات اور خلفاء راشدینؓ کے دور سے مغرب کو اس کے اسلوب اور فریکونسی کے مطابق متعارف کرانے کا اہتمام کر سکیں تو یہ نسل انسانی کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی بہت بڑی خدمت ہو گی، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ دینی مدارس اور علمی مراکز اس ضرورت کا احساس کریں اور اس ضرورت کی تکمیل کی طرف سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت کی کوئی صورت نکالیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter