ووٹ کا حق اور روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی

   
مارچ ۲۰۱۵ء

روزنامہ اسلام لاہور ۱۳ فروری ۲۰۱۵ء کی ایک خبر کے مطابق برما کے روہنگیا مسلمانوں کو چند روز تک ہونے والے ایک ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور بودھوں کے ایک مظاہرہ کے بعد میانمار (برما) کے وزیر اعظم تھین سین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روہنگیا مسلمان ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے۔

برما کے علاقہ اراکان میں روہنگیا مسلمان لاکھوں کی تعداد میں صدیوں سے آباد ہیں اور ایک زمانہ میں ان کی باقاعدہ آزاد حکومت رہی ہے، مگر جنوبی ایشیا پر برطانوی استعمار کے تسلط کے دور میں جب برما کو متحدہ ہندوستان سے علیحدہ کر کے الگ ملک کی حیثیت دی گئی تو اراکان کو تقسیم کر کے اس کے دارالحکومت چٹاگانگ کو بنگال کا حصہ بنا دیا گیا جبکہ اراکان کی باقی پوری پٹی کو برما میں شامل کر دیا گیا۔ جس سے صدیوں سے آزاد رہنے والے لاکھوں مسلمان برما کی بودھ حکومت کے تابع ہو گئے اور تب سے وہ مسلسل مظالم اور جبر و تشدد کا شکار ہیں۔بودھ اکثریت کی حکومتیں نہ صرف ان کی نسل کشی کرتی آرہی ہیں بلکہ انہیں ترک وطن پر بار بار مجبور کیا جا رہا ہے اور اب ان کی شہریت کا حق بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ صدیوں سے وہاں آباد ہیں، نسل در نسل اس وطن کے باشندے چلے آرہے ہیں اور ان کی ایک دور میں آزاد حکومت بھی وہاں رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے تحقیقات کے بعد کچھ عرصہ قبل اس صورتحال کو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے برمی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انتقامی اور یکطرفہ کاروائیاں روک کر کے ان کی شہریت اور شہری حقوق کو تسلیم کیا جائے اور انہیں آزادی کے ساتھ اپنے وطن میں رہنے کا حق دیا جائے، مگر بودھ اکثریت اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے اور روہنگیا مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم کرنے کی بجائے انہیں وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہی ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں حتٰی کہ اقوام متحدہ بھی زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ رہیں اور مسلمان حکمرانوں کو تو گویا سانپ ہی سونگھ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں اور عالمِ اسلام کے بین الاقوامی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور لاکھوں مظلوم و بے بس روہنگیا مسلمانوں کو بنیادی انسانی اور شہری حقوق دلوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter