ریاست مدینہ کی منزل اور نئی حکومت سے عوام کی توقعات

   
ستمبر ۲۰۱۸ء

۲۵ جولائی کے انتخابات میں منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے اور وزیر اعظم کے طور پر تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو ملک کا نیا حکمران منتخب کر لیا گیا ہے، جو کرپشن سے پاک پاکستان اور ریاست مدینہ طرز کی رفاہی ریاست کے عزم و اعلان کے ساتھ اپنی حکومت کا آغاز کر رہے ہیں۔

انتخابات میں جو کچھ ہوا اور سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات و اعتراضات کا جو بازار گرم گیا، پھر اپوزیشن کی کم و بیش سبھی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالہ سے اپنے تحفظات و خدشات کا جس طرح کھلم کھلا اظہار کیا، اس نے جمہوریت کے مروّجہ سسٹم اور انتخابات کے طریقِ کار پر عوام کے اعتماد میں اضافہ کرنے کی بجائے شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا کو فروغ دیا ہے جو نئی حکومت، الیکشن کمیشن اور اپوزیشن سمیت تمام قومی اداروں کے لیے بلا شبہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اور صدر محترم جناب ممنون حسین نے یہ کہہ کر قوم کی ترجمانی کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے شکوک و شبہات اور اعتراضات کا ازالہ کرے۔

مگر اس سب کچھ کے باوجود ہم آئندہ پانچ سال کے لیے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے پر جناب عمران خان، ان کی پارٹی تحریک انصاف اور دیگر اتحادی جماعتوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے مبارک باد دیتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں اپنے وعدوں اور عزائم کے مطابق ملک و قوم کی بہتر خدمت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ کئی سالوں سے جناب عمران خان ملک کو کرپشن سے نجات دلانے اور دیانتدار حکومت و انتظامیہ فراہم کرنے کی بات کر رہے ہیں جو یقیناً خوش آئند بات ہے اور ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ کرپشن کے ناسور نے نہ صرف ملک کی معیشت و ترقی کو زنگ آلود کر رکھا ہے بلکہ سیاست و عدالت سمیت کوئی بھی قومی شعبہ اور ادارہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ اسی کرپشن کی نحوست ہے کہ ہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور استعماری لابیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور ہماری قومی خود مختاری پر سوالیہ نشان گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک آزاد، خودمختار، باوقار، نظریاتی اور اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے عمومی ماحول، بالخصوص عالم اسلام میں ہمیں جو کردار ادا کرنا چاہیے اور جس کردار کی توقع ہم سے عالمی ماحول اور اسلامی دنیا میں کی جا رہی ہے، بلکہ پاکستان کے جس کردار کا تذکرہ اور عزم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی متعدد تقریروں میں موجود ہے، ہم اسے ادا کرنے سے ابھی تک قاصر ہیں اور اس کے اسباب میں بھی کرپشن اور بددیانتی کا کردار سب سے زیادہ ہے۔

اگر عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم وطن عزیز کو کرپشن کی دلدل سے نکالنے میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے تو ہم سب کے لیے انتہائی خوشی کی بات ہو گی اور پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔ مگر یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کرپشن صرف چند سیاستدانوں اور مالیاتی شعبوں میں نہیں ہے بلکہ یہ ہر قومی شعبہ اور ادارہ میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس سے سیاست، عدالت، انتظامیہ، میڈیا، مذہب اور معاشرت کوئی دائرہ محفوظ نہیں ہے، اس لیے کرپشن کے خاتمہ کے لیے وسیع ترین تناظر میں اقدامات کرنے ہوں گے اور ہمہ گیر پروگرام پر صبر و حوصلہ کے ساتھ عمل کرنا ہو گا جس کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اور مشاورت کے نظام میں شریک کرنا بھی ضروری ہے۔

عمران خان صاحب نے متعدد بار ریاست مدینہ کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی طرز پر رفاہی ریاست کو پاکستان کی منزل قرار دیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے بھی اسلامی فلاحی ریاست کو پاکستان کے مستقبل کا عنوان بتایا تھا اور پوری قوم کی خواہش ہے کہ اسے مدینہ منورہ کی ریاست کے نقش قدم پر چلنے والی فلاحی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کا بابرکت ماحول میسر آئے۔ مگر اس کے لیے سب سے پہلے ریاست مدینہ کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

  • اس ریاست کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں وہاں کے تمام قبائل کو اعتماد میں لے کر کیا تھا۔
  • یہ ریاست ابتدا میں صرف مدینہ منورہ اور اس کے اردگرد کے علاقے تک محدود تھی جو صرف دس سال کے عرصہ میں پورے جزیرۃ العرب پر حاوی ہو گئی تھی۔ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے موقع پر نجران، نجد، بحرین اور یمن سمیت پورا جزیرۃ العرب اس ریاست کا حصہ تھا اور اسی سے خلافت راشدہ کا آغاز ہوا تھا۔
  • اس ریاست کی بنیاد قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کی تعلیمات و ارشادات پر تھی اور اس میں ملک کے عوام کو امن فراہم کرنے، انصاف مہیا کرنے اور اس کے دفاع و تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ضروریات زندگی کی فراہمی اور ریاست کے نادار اور کمزور شہریوں کی کفالت بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل تھی۔

آج بھی دنیا میں فلاحی اور رفاہی ریاست کے حوالہ سے خلافت راشدہ کے نظام اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کردار و عمل کو رول ماڈل کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی پیروی کو امن و انصاف کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ کم و بیش ہمارے سبھی حکمران مختلف اوقات میں خلافت راشدہ اور حضرت عمرؓ کے عدل و انصاف، سادگی، قناعت اور رعایا پروری کا تذکرہ کرتے آرہے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان صاحب بھی متعدد بار یہ بات کہہ چکے ہیں۔ اس لیے ہم ان کی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ریاست مدینہ اور خلافت راشدہ کے نظام و کردار سے پوری طرح واقفیت و ادراک حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کی راہنمائی کے دائرے میں ایک اسلامی رفاہی ریاست کے طور پر آگے بڑھانے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر دیں گے۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ اگر اس معاملہ میں اپنی سنجیدگی اور مخلصانہ توجہ کا احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے تو پوری قوم ان کے ساتھ ہو گی، ورنہ محض سیاسی وعدے اور نعرے تو اس سے قبل حکمران بننے والی جماعتیں بھی ہمیشہ لگاتی رہی ہیں اور اپنے انجام کو پہنچ گئی ہیں۔ قوم کو نعروں اور سیاسی وعدوں کی نہیں بلکہ مخلصانہ عمل و کردار کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے والی حکومت ہی قوم کی صحیح نمائندہ کہلانے کی حقدار ہو گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter