دینی مدارس کا نظام و نصاب اور عصر حاضر کے تقاضے

   
۲ جولائی ۲۰۰۷ء

(الشریعۃ اکادمی گوجرانوالہ کی شائع کردہ کتاب ’’دینی مدارس کا نصاب و نظام، نقد و نظر کے آئینے میں‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ۱۸۵۷ء میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریک آزادی کی ناکامی اور دہلی پر باضابطہ برطانوی حکومت قائم ہونے کے بعد جب دفتروں اور عدالتوں سے فارسی زبان اور فقہ حنفی پر مبنی قانونی نظام کی بساط لپیٹ دی گئی تو فارسی اور عربی کے ساتھ فقہ اسلامی اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا اور ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کی نذر ہو گئے۔ اس پر حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جماعت کے کچھ بچے کھچے درویش صفت بزرگوں نے دیوبند، سہارنپور، مراد آباد اور ہاٹ ہزاری میں دینی مدارس کے ایک رضاکارانہ اور پرائیویٹ سلسلے کا آغاز کیا جو ان بزرگوں کے خلوص اور معاشرے کی دینی ضروریات کے باعث بہت جلد ایک مربوط اور منظم نظام کی شکل اختیار کر گیا اور جنوبی ایشیا کے کونے کونے میں ایسے مدارس کا جال بچھ گیا۔

ان مدارس کا بنیادی مقصد عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق باقی رکھنا، دینی علوم کی تعلیم و تدریس کے تسلسل کو قائم رکھنا اور دینی معاشرت اور اقدار کا تحفظ تھا، جس کے تحت ایک خاص تحفظاتی ماحول میں ان مدارس نے برطانوی استعمار کے اقتدار کے خاتمہ تک اپنا کردار پورے تسلسل اور کامیابی کے ساتھ جاری رکھا، اور علامہ محمد اقبالؒ کے بقول جنوبی ایشیا کی مسلم سوسائٹی کو اسپین بننے سے بچا لیا۔ دینی مدارس کے اس تاریخی کردار کے، اپنے اور پرائے سب معترف ہیں، اور جہاں یہ بات کھلم کھلا تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس خطہ کے مسلمانوں میں مذہبیت کا شعور اور مشرقیت کا ادراک باقی رہنے کا واحد ذریعہ یہ دینی مدارس ہیں، وہاں اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا جا رہا ہے کہ نو آبادیاتی حکمرانوں نے اس خطہ کے مسلمانوں کے عقیدہ و فکر اور ان کی ثقافت و تہذیب کو تحلیل کر دینے کے لیے جو ہمہ جہتی یلغار کی تھی، اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ مدارس ثابت ہوئے ہیں۔

لیکن ان مدارس دینیہ کے اس عظیم کردار کے اعتراف کے باوجود مسلم معاشرہ کی دینی ضروریات کی وسعت وتنوع اور گلوبل سوسائٹی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے انسانی معاشرہ کے تقاضوں کے حوالے سے دینی مدارس کے نصاب، نظام، طریق کار، دائرۂ عمل، اہداف اور پیشرفت کی رفتار کے دائروں میں مختلف نوع کے خلا کا احساس ہر دور میں پایا جاتا رہا ہے، جس کی اہل فکر و دانش نشاندہی بھی کرتے رہے ہیں، مگر اب زمانہ کی رفتار میں مزید تیزی کے باعث یہ احساس مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور دینی مدارس پر اس حوالے سے دباؤ میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔

دینی مدارس کا معاشرتی اور تعلیمی کردار آج کی دنیا میں زیر بحث آنے والا ایک اہم موضوع ہے اور مشرق و مغرب میں اس پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ دینی مدارس کو اس سلسلے میں دو طرفہ دباؤ کا سامنا ہے:

  1. ایک طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی نظام کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں ہے اور انہیں اپنا امتیاز و تشخص ختم کر کے عالمی اور قومی نظام تعلیم کے اجتماعی دھارے میں ضم ہو جانا چاہیے۔
  2. جبکہ دوسری طرف سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی اور قومی سیکولر نظام تعلیم کے مقابلے میں دینی مدارس کا جداگانہ دینی تشخص اپنے طریق کار اور دائرۂ عمل کے بہت سے پہلوؤں میں کچھ ایسی عملی کمزوریوں اور خامیوں کا شکار ہے جنہیں اگر دور کر لیا جائے تو ان مدارس کے اسلامی تشخص میں مزید نکھار پیدا ہو سکتا ہے، اور وہ آج کے عالمی سیکولر ماحول میں اسلامی تعلیمات کا پرچم زیادہ حوصلے اور اعتماد کے ساتھ بلند رکھ سکتے ہیں۔

اس دوسرے پہلو پر بات کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل ہے، بحمد اللہ تعالیٰ گزشتہ ربع صدی سے اس موضوع پر مختلف اخبارات و جرائد میں کچھ نہ کچھ لکھتا آ رہا ہوں اور اس کے بیسیوں پہلوؤں پر گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے ان میں سے اہم مضامین کو کتابی شکل میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس سے ان کے دائرہ اور افادیت میں ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور اضافہ ہوگا۔ یہ مضامین چونکہ ایک ہی موضوع پر مختلف اوقات میں مختلف زاویوں سے لکھے گئے ہیں، اس لیے قارئین کو ان میں بعض نکات کے ذکر میں تکرار محسوس ہوگا، لیکن ایسی صورت میں اس قسم کا تکرار ایک حد تک ناگزیر ہو جایا کرتا ہے اور امید ہے کہ قارئین کے لیے یہ زیادہ گرانی کا باعث نہیں ہوگا۔

قارئین سے استدعا ہے کہ وہ راقم الحروف اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے لیے بطور خاص دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ دین کی مثبت اور مؤثر خدمت کی توفیق سے ہمیشہ نوازتے رہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ابو عمار زاہد الراشدی
ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
۲ جولائی ۲۰۰۷ء
   
2016ء سے
Flag Counter