ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن کی قراردادیں

   
۱۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے ۲۹ نومبر تا ۱دسمبر کو کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں تحریری خطبۂ صدارت پڑھنے کے علاوہ اپنے خطاب کے دوران کچھ دیگر اہم امور کی طرف بھی علماء کرام کو توجہ دلائی جس کا مختصرًا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی مختلف جماعتوں، حلقوں اور اداروں کے درمیان مشاورت و رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اپنی اپنی جگہ کام کرتے ہوئے باہمی ربط اور تبادلۂ خیالات انتہائی ضروری ہے تاکہ محنت کو پوری طرح منظم اور مربوط کیا جا سکے۔ انہوں نے میڈیا کے جدید ذرائع کی اہمیت کا ذکر کیا اور کہا کہ دعوت و ابلاغ اور تحفظ و دفاع میں ان کا کردار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور یہ ایک مؤثر ہتھیار کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس لیے ضرورت کے مطابق ان کے استعمال کی طرف توجہ ضروری ہے۔ اگر آپ خود نہیں کر سکتے تو آپ کے حلقہ اور زیر اثر افراد میں بہت سے لوگ اس کے استعمال کی مہارت رکھتے ہوں گے، ان کو اس طرف توجہ دلائیں اور تربیت دیں تاکہ وہ ان ذرائع کو اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی عقائد و روایات کے تحفظ و دفاع کے لیے استعمال میں لائیں۔

مولانا نعمانی نے اپنے ایک پیش رو مقرر مولانا قاری محمد رفیق وجھوی کی اس بات کی تائید کی کہ اسلام قبول کرنے والے حضرات اور قادیانیت وغیرہ ترک کردینے والے لوگوں کو معاشی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ بات بھی بسا اوقات اسلام قبول کرنے اور باطل کا ماحول چھوڑنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

کانفرنس میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج نے مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کیں جنہیں کانفرنس کے مجموعی پیغام کے طور پر منظور کر لیا گیا:

  • یہ کانفرنس دنیا کی تمام مسلم حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ کے دفاع و تحفظ اور ان حوالوں سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ، نیز ان کو فروغ دینے والے افکار و نظریات کے رد و تعاقب کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات کریں اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اسے اپنی باقاعدہ پالیسی کا حصہ بنائے۔
  • مسلم ریاستوں میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی عملداری اور خلافت اسلامیہ کے قیام کے لیے راہ ہموار کی جائے تاکہ مسلم دنیا اسلامی تعلیمات پر مبنی صحیح اسلامی معاشرہ سے بہرہ ور ہو سکے۔
  • امت مسلمہ کی وحدت و یک جہتی کے عملی اظہار، باہمی تنازعات کو آپس میں طے کرنے اور مسلم دنیا کے مفادات کے عالمی سطح پر تحفظ کے لیے او آئی سی کو متحرک عملی ادارہ کی حیثیت دی جائے۔
  • اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی میڈیا اور لابیوں کی ثقافتی و فکری یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور تہذیبی روایات و اقدار کے تحفظ کی پالیسی اختیار کی جائے اور مسلمان حکومتیں اس کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دیں۔
  • سعودی عرب کی معزز حکومت حرمین شریفین میں منکرین ختم نبوت بالخصوص قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی کو یقینی بنانے کے لیے حج و عمرہ اور ورک ویزے کے درخواست فارم میں عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے کا اضافہ کرے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنائے۔
  • افریقی ریاست انگولا میں مبینہ طور پر اسلام کی عبادات پر پابندی اور متعدد مساجد کا انہدام قابل مذمت ہے۔ او آئی سی اس کا نوٹس لے اور ان اقدامات کی واپسی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

کیپ ٹاؤن سے عالمی ختم نبوت کانفرنس کے مندوبین کی واپسی سے قبل مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے ہیڈ آفس میں ان کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا جس میں کونسل کے صدر الشیخ احسان ہندرکس نے مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اجتماعات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے کونسل کی کوشش ہوگی کہ ایسے اجتماعات وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہیں۔

انہوں نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بارے میں تاریخی مقدمہ کا ذکر کیا اور اس میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی دل چسپی اور کردار کا بطور خاص حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے اس تاریخی مقدمہ میں یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ چونکہ کسی فرد یا گروہ کو مسلمان یا غیر مسلم قرار دینے کی اتھارٹی صرف علماء اسلام ہیں۔ اس لیے علماء اسلام نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہی صحیح فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنوبی افریقہ میں قادیانیت کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے عقائد کے تحفظ اور صحابہ کرامؓ کے ناموس کے دفاع کا مسئلہ بھی درپیش ہے، جبکہ رفض و تشیع کے مسلسل فروغ سے اس خطرہ کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم انڈیا اور پاکستان کے علماء کرام سے اس سلسلہ میں بھی راہ نمائی اور تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت، آزادی اور حقوق کا جدید فلسفہ اپنے ساتھ جو فتنے لا رہا ہے، ان کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں بہت سے اعتقادی، فکری اور ثقافتی فتنے ہمارے معاشرے میں پھیل رہے ہیں۔ اس لیے علماء اسلام کو ہر جگہ اس صورت حال پر نظر رکھنا ہوگی اور مسلمانوں کو ان فتنوں سے بچانے کے لیے محنت کرنا ہوگی۔

مسلم جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الخالق علی، مولانا محمد یوسف کران اور الشیخ ریاض فتار نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا اور مشترکہ دینی، علمی اور ثقافتی معاملات میں باہمی تعاون و اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔ مندوبین کی طرف سے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج اور اہل سنت پاکستان کے صدر مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے اور میزبانی اور اکرام پر مسلم جوڈیشل کونسل کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ ہمارا یہ باہمی تعاون آئندہ بھی دینی اور ملی مقاصد کے لیے جاری رہے گا۔ اس موقع پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے تجویز پیش کی کہ قادیانیت اور رفض و تشیع کے حوالہ سے تربیتی کورسز کی ضرورت ہے، اس کے لیے جنوبی افریقہ کے منتخب علماء کرام کو پاکستان اور انڈیا کے علمی اداروں میں بھجوایا جائے، یا وہاں سے ان شعبوں کے ماہرین کو یہاں بلا کر تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے۔

کیپ ٹاؤن سے علماء کرام کا وفد جو سعودی عرب، انڈیا اور پاکستان کے بیس کے لگ بھگ افراد پر مشتمل تھا ۳ دسمبر کو جوھانسبرگ کے قریب لوڈیم کے مقام پر پہنچا جہاں جمعیۃ علماء جنوبی افریقہ کے صدر بزرگ عالم دین مولانا عباس علی جناح کا ادارہ اور رہائش ہے۔ اس روز وہاں جمعیۃ کے سرکردہ علماء کرام کا ایک مشاورتی اجلاس تھا جس کی ایک نشست میں ہماری شرکت ہوئی جبکہ ہم ۴ دسمبر کو جوھانسبرگ دارالعلوم زکریا میں پہنچ گئے اور جمعیۃ علماء جنوبی افریقہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت سیمینار میں شریک ہوئے۔ اس کی تفصیلات اگلے کالم میں پیش کی جائیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter