کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں ہے؟

   
۳۰ و ۳۱ مئی ۲۰۰۴ء

رائٹر کے حوالہ سے یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ جنیوا میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے نے ۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء کو ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ سزائے موت کو ختم کر دیں، بالغ مرد و عورت کے باہمی رضامندی سے جنسی جرم اور مذہبی امور کو سنگین جرائم کی فہرست سے خارج کر دیں۔ خبر کے مطابق قرارداد کے حق میں انتیس ووٹ آئے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپ، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت انیس ممالک نے اس کی مخالفت کی اور پانچ ممالک پر کینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

ان تینوں امور کا تعلق براہ راست ہمارے شرعی احکام سے ہے، اس لیے اس طرف قارئین کو توجہ دلانا ضروری ہے:

  1. سزائے موت کا قانون اسلام کے قوانین میں قصاص کے حوالے سے ہے، جسے قرآن کریم نے اسلامی حکومت کے فرائض میں شمار کیا ہے اور معاشرہ میں امن کے قیام کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
  2. قرآن کریم نے باقاعدہ نکاح کے سوا مرد و عورت میں جنسی تعلق کی ان تمام صورتوں کو جرم قرار دیا ہے جو آج کی دنیا میں رائج ہیں اور جنہیں جائز قرار دلوانے کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی مذکورہ بالا قرارداد بھی شامل ہے۔ اسلام نے جنسی تعلق کی مروجہ صورتوں میں سے صرف باقاعدہ شادی کی اجازت دی ہے اور باقی تمام صورتوں کو سنگین قانونی جرم قرار دیتے ہوئے اس پر سنگسار یا کوڑوں کی سزا مقرر کی ہے۔
  3. اسی طرح ارتداد اور توہینِ رسالتؐ جیسے مذہبی جرائم کو بھی سنگین جرائم کی فہرست میں رکھا گیا ہے اور اسلامی شریعت میں ان کے لیے موت کی سزا مقرر ہے۔

اس لیے مذکورہ قرارداد کی براہ راست زد ان شرعی احکام و قوانین پر پڑتی ہے، بلکہ ہم تو ایک عرصہ سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی قراردادیں اور فیصلے قرآن و سنت کے بیشتر احکام سے متصادم ہیں اور مسلم ممالک اور اداروں کو ان کا اس حوالہ سے نوٹس لینا چاہیے۔

حال ہی میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے ملک کے مختلف علمی و دینی مراکز کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ایک تبصرہ سنجیدہ توجہ کی درخواست کے ساتھ بھجوایا گیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اسلامی نظام و قوانین کے خلاف عالمی مہم اس وقت کس مرحلہ میں ہے۔

اس ضمن میں یہ گزارش بھی شاید بے محل نہ ہو کہ ہمارے بہت سے بزرگوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے اور گزشتہ ہفتے آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والی ”خدماتِ دیوبند کانفرنس“ میں بھی اس نوعیت کی ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ مغرب اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت کوئی تہذیبی و ثقافتی کشمکش جاری ہے۔ ہمارے ان بزرگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مغرب کی موجودہ کشمکش صرف سیاسی بالادستی اور معاشی تسلط کے لیے ہے اور اس کا تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات خلاف واقعہ ہے اور اصل صورت حال سے بے خبری پر مبنی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے خلاف مغرب کی یہ کشمکش جس کی قیادت اقوام متحدہ کی چھتری تلے امریکہ کر رہا ہے اس میں سیاسی بالادستی اور معاشی وسائل پر قبضہ کا جنون بھی یقیناً شامل ہے، لیکن اس کا اصل ہدف مسلمانوں کا عقیدہ، تعلیم اور تہذیب و معاشرت ہے۔ ہم اگر اس بنیادی ہدف کو نظرانداز کر کے مغرب کی مہم کا سامنا کریں گے یا مغرب سے کسی سطح پر مذاکرات کریں گے تو یہ ہماری سادگی اور بھولپن ہو گا۔

ان گزارشات کے ساتھ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ابتدائی اور سرسری تبصرہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے، جو پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے ملک کے مختلف علمی و دینی اداروں کو راقم الحروف نے ارسال کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کو آج کی دنیا میں بین الاقوامی دستور کا درجہ حاصل ہے اور کم و بیش تمام ممالک نے اس پر دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر دستخط کرنے والے تمام ممالک نے یہ پابندی قبول کی ہوئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں دستور و قانون کے نفاذ اور ملکی نظام کو چلاتے وقت اس معاہدہ کا لحاظ رکھیں گے اور اپنے باشندوں کو وہ تمام حقوق دیں گے جن کا اس چارٹر میں ذکر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں۔ مسلم ممالک اور پاکستان کے بارے میں بھی یہ رپورٹیں ہر سال جاری ہوتی ہیں اور ان میں نہ صرف واقعات کے حوالے سے اس چارٹر کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کی نشان دہی کی جاتی ہے بلکہ ملک میں نافذ ایسے قوانین کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جو رپورٹ جاری کرنے والے اداروں کے خیال میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔

اسی چارٹر کے حوالے سے متعدد اسلامی احکام و قوانین پر مسلسل تنقید ہوتی رہتی ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چونکہ یہ اسلامی قوانین و احکام اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں اور بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں اس لیے ان احکام و قوانین کو نافذ نہیں ہونا چاہیے اور اگر کسی ملک میں یہ اسلامی احکام و قوانین نافذ ہیں تو انہیں انسانی حقوق کے مذکورہ بالا چارٹر کی روشنی میں ختم یا تبدیل کر دینا چاہیے۔ اسی بنیاد پر اسلامی نظام اور شرعی قوانین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے عالمی حالات سے ہم آہنگ نہیں ہیں، دور جدید کے تقاضے پورے نہیں کرتے اور مستقبل کی گلوبل اور عالمی سوسائٹی کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ اعتراضات صرف غیر مسلم اداروں اور لابیوں کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ متعدد مسلم ادارے اور دانش ور بھی بین الاقوامی معاہدہ کی پابندی اور عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی کے نام پر اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ہزاروں این جی اوز اس وقت اس ایجنڈے پر عالم اسلام کے مختلف ممالک میں مصروف عمل ہیں اور مسلمان نوجوانوں اور عورتوں کو ان حقوق کے عنوان سے اسلامی شریعت اور احکام و قوانین کے خلاف ورغلانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔

ہم نے اس سلسلے میں متعدد علمی و دینی مراکز کو توجہ دلائی ہے اور ایک عرصہ سے اس ضمن میں آواز بلند کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا اس طور پر تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کون کون سے اسلامی احکام و قوانین اس کی کون کون سی دفعات کی زد میں آتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کا اس چارٹر کے ساتھ کہاں کہاں ٹکراؤ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مابہ النزاع امور کی نشان دہی ہوگی تو اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکے گا اور ان کا جواب بھی دیا جا سکے گا، مگر ہمیں افسوس ہے کہ مسلسل چیخ پکار کے باوجود ہمارے بڑے علمی و دینی مراکز اس طرف متوجہ نہیں ہو رہے بلکہ بعض اہم علمی اداروں نے ہماری درخواست کے جواب میں لکھا ہے کہ انہیں اس کام کی کوئی ضرورت اور افادیت محسوس نہیں ہوتی اس لیے وہ اس سلسلے میں کسی پیشرفت سے قاصر ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے ملک کے تمام علمی و دینی مراکز سے عمومی اتمام حجت کے طور پر ہم یہ گزارش کر رہے ہیں کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مذکورہ چارٹر کا، جو اس وقت بین الاقوامی دستور کے طور پر دنیا بھر میں نافذ ہے اور بین الاقوامی معاہدہ کی حیثیت سے اس کی پابندی تمام ممالک پر لازم ہے، جائزہ لیں اور اس کا گہری سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کر کے اس سلسلے میں اپنی دینی و ملی ذمہ داری سے سبکدوش ہوں۔

ہمارے نزدیک اس کے لیے تین مراحل میں کام کرنے کی ضرورت ہے:

  1. پہلے مرحلہ میں اس چارٹر کا دفعہ وار تفصیلی مطالعہ کر کے ان اسلامی احکام و قوانین کی نشان دہی کی جائے جو اس منشور کی زد میں آتے ہیں اور جن پر اس حوالے سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔
  2. دوسرے مرحلے میں تقابلی مطالعہ کے ساتھ اسلامی احکام و قوانین کی صحت و برتری کی وضاحت کی جائے اور نہ صرف عقلی و نقلی بلکہ معروضی دلائل کے ساتھ اسلامی احکام و قوانین کی افادیت اور ضرورت کو ثابت کیا جائے۔
  3. تیسرے مرحلے میں اسلامی دستور کے لیے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ ۳۱ علمائے کرام کے مرتب کردہ ۲۲ دستوری نکات کی طرز پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی حقوق کا ایسا جامع چارٹر مرتب کرنے کی ضرورت ہے جسے اقوام متحدہ کے مذکورہ چارٹر کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا سکے اور جسے ۲۲ دستوری نکات کی طرح تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام کی تصدیق حاصل ہو۔ اس پر بحث کی تمہید اور گفتگو کے آغاز کے طور پر ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے حوالے سے ان چند اسلامی احکام و قوانین کی نشان دہی کر رہے ہیں جن پر اس منشور کی بنیاد پر اعتراضات سامنے آ رہے ہیں اور جن پر اس وقت عالمی سطح پر گفتگو اور بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔

عورتوں کے امتیازی قوانین

اس منشور کی تمہید میں مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا بطور عقیدہ ذکر کیا گیا ہے اور اسی حوالے سے دنیا بھر میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان ہر شعبہ میں برابری اور مساوات قائم کی جائے اور کوئی ایسا قانون نافذ نہ کیا جائے جو عورتوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت رکھتا ہو۔ اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے جو اسلامی احکام امتیازی قوانین قرار پاتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

  • اسلام میں حکمرانی کا حق صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے۔
  • پبلک مقامات پر عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول کی ممانعت ہے۔
  • دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔
  • وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حصوں میں فرق ہے۔
  • عورتوں کے لیے طلاق کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔

غلامی کا مسئلہ

انسانی حقوق کے مذکورہ چارٹر کی دفعہ ۴ میں کہا گیا ہے کہ:

’’کوئی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا، غلامی اور بردہ فروشی چاہے اس کی کوئی بھی شکل ہو، ممنوع قرار دی جائے گی۔‘‘

اس دفعہ کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ جب مسلم حکومتیں بین الاقوامی معاہدے کی رو سے غلامی کو ختم کرنے کا عہد کر چکی ہیں تو پھر اسلامی ممالک میں قرآن کریم، احادیث نبوی اور فقہ اسلامی سے غلامی کے احکام کو خارج کیوں نہیں کیا جا رہا اور دینی مدارس میں ان مسائل و احکام کی مسلسل تعلیم کیوں دی جا رہی ہے؟

شرعی حدود کا مسئلہ

دفعہ ۵ میں کہا گیا ہے کہ:

’’کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ سلوک، انسانیت سوز، ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘

اس دفعہ کی رو سے کسی بھی سزا کا جسمانی اذیت اور تذلیل سے خالی ہونا ضروری ہے جبکہ ہاتھ کاٹنا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا اور سرعام سزا دینا وغیرہ جسمانی اذیت اور تذلیل پر مشتمل سزائیں ہیں۔ اسی بنا پر ان سزاؤں کو وحشیانہ کہا جاتا ہے اور انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔

خاندانی قوانین

دفعہ ۱۶ میں کہا گیا ہے کہ:

’’بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل، قومیت یا مذہب کی بنا پر لگائی جائے، شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے، مردوں اور عورتوں کو نکاح، ازدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے معاملے میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔‘‘

اس دفعہ کی رو سے مندرجہ ذیل احکام انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار پاتے ہیں:

  • کم سنی کے نکاح کا جواز
  • غیر مسلموں کے ساتھ شادی نکاح کی ممانعت
  • کفو اور ولایت کے تمام احکام
  • عورت کے لیے طلاق کا حق تسلیم نہ کرنا۔ اور
  • خاندانی ماحول میں مرد کا حاکم ہونا۔

آزادی مذہب

دفعہ ۱۸ اور دفعہ ۱۹ میں رائے کی آزادی، مذہب کی آزادی، مذہب تبدیل کرنے کا حق، اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا حق اور اس کے لیے دعوت و تبلیغ کا حق ہر شخص کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی رو سے ارتداد کی شرعی سزا، توہین مذہب اور توہین رسالت کی سزا، غیر مسلموں کا مسلم معاشرہ میں اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس وغیرہ سب انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے عالمی حلقوں اور لابیوں کی تنقید کا مسلسل نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

یہ چند امور بطور نمونہ عرض کیے گئے ہیں تاکہ اس انداز سے انسانی حقوق کے چارٹر کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس چارٹر کی ہر بات کی مخالفت کی جائے۔ اس میں بہت سی باتیں درست ہیں اور ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے لیکن جو امور متنازعہ ہیں اور جن کی بنا پر بہت سے اسلامی احکام و قوانین کی مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ مسلم ممالک اور حکومتوں پر ان کے خاتمہ کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ان کی نشان دہی اور ان کے بارے میں مسلمانوں کا علمی موقف سامنے لانا بہرحال ہماری دینی و ملی ذمہ داری ہے۔ امید ہے کہ تمام علمی و دینی مراکز اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے اور اسلام کی نمائندگی و ترجمانی کا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی نئی نسل کی علمی و فکری راہنمائی کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہوں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter