دستور کی نظرِثانی ۔ پاکستان کے دینی و سیاسی راہنماؤں کے نام ایک اہم مراسلہ

   
اکتوبر ۱۹۹۴ء
بگرامی خدمت _________________ زید مجدکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ روزنامہ جنگ لندن ۲۴ اگست ۱۹۹۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک کے دستور پر نظرثانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کی توجہ اس پہلو کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان پر ایک عرصہ سے بیرونی قوتوں اور لابیوں کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستان میں اسلامائزیشن کے حوالہ سے اب تک ہونے والے اقدامات پر نظرثانی کی جائے اور ملک کو ایک سیکولر ریاست قرار دے کر اس کا رشتہ مکمل طور پر ویسٹرن سولائزیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے اندر بھی سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کی ایک مضبوط لابی منظم کام کر رہی ہے جو حکومت اور اپوزیشن دونوں میں یکساں طور پر مؤثر اور متحرک ہے، جبکہ دینی سیاسی جماعتوں کا خلفشار اور باہمی بے اعتمادی اور عدمِ رابطہ کی فضا ان لابیوں کے لیے خاصی معاون ثابت ہو رہی ہے۔

اس پس منظر میں آٹھویں آئینی ترمیم سمیت ملک کے دستور پر مکمل نظرثانی کے لیے قومی اسمبلی میں خصوصی کمیٹی کا قیام یقیناً خطرات سے خالی نہیں ہے اور دینی سیاسی جماعتوں کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

جہاں تک دستورِ پاکستان پر نظرثانی کا مسئلہ ہے اس کی ضرورت بلاشبہ موجود ہے کیونکہ دستور ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ برطانوی استعمار کے ورثہ کے طور پر مسلط اس نو آبادیاتی نظام کا تحفظ بھی کر رہا ہے جو قرآن و سنت کی غیر مشروط بالادستی اور اسلامی نظام کے مکمل نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے میری تجویز یہ ہے کہ دینی و سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر دینی و آئینی ماہرین کی کمیٹی قائم کر کے اس سلسلہ میں دستور کے تضادات و ابہامات کی نشاندہی کریں اور ان کو دور کرنے کے لیے مشترکہ دستوری سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کریں تاکہ وہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اسلام کی عملداری کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر سکیں۔ مجھے امید ہے کہ آنجناب ان گزارشات سے اتفاق کرتے ہوئے اس سمت عملی پیشرفت کی بھی کوئی صورت نکالیں گے۔

بے حد شکریہ، والسلام
ابوعمار زاھد الراشدی
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم


   
2016ء سے
Flag Counter