دولتِ فاطمیہ کیا تھی؟

   
۱۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء

دولت فاطمیہ کی واپسی کی مبینہ کوششوں کے حوالہ سے عید کے روز شائع ہونے والے میرے کالم پر بہت سے دوستوں نے فون پر تقاضہ کیا ہے کہ دولت فاطمیہ کے بارے میں کچھ معلومات اس کالم میں فراہم کی جائیں تاکہ ان خطرات کا صحیح طور پر اندازہ ہو سکے جن کا اظہار اس کالم میں کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کا مختصر سا تعارف پیش خدمت ہے۔

حضرت امام جعفر صادقؒ کی وفات کے بعد اہل تشیع دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ نے ان کے فرزند امام موسیٰ کاظمؒ کو ان کے جانشین کے طور پر امام تسلیم کر لیا۔ اس اکثریتی گروہ نے امام موسیٰ کاظمؒ کے بعد بارہویں امام تک امام حاضر، اور پھر بارہویں امام کے غائب ہو جانے پر ’’امام غائب‘‘ کی مسلسل امامت کے ساتھ اثنا عشریہ کا عنوان اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے امام جعفر صادقؒ کے بڑے بیٹے امام اسماعیلؒ کو، جو اُن کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے، ان کا جانشین قرار دیتے ہوئے ان کے فرزند محمدؒ (امام جعفر صادقؒ کے پوتے) کو اپنا امام بنا لیا۔ یہ گروہ اسماعیلی کہلاتا ہے جو آج تک امام حاضر کے تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود ہے۔

عباسی خلیفہ مقتدر باللہ کے دور خلافت میں شمالی افریقہ میں اسماعیلی گروہ کے عبید اللہ نامی ایک صاحب نے اس دعویٰ کے ساتھ کہ وہ حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہیں اور مہدی موعود ہیں، اس حد تک اثر و رسوخ قائم کر لیا کہ قیروان کے اردگرد علاقوں میں حکومت قائم کرلی، اور مہدیہ کے نام سے ایک نیا شہر بسا کر اسے دارالحکومت قرار دے دیا۔ اس نے ۲۹۷ھ سے ۳۲۲ھ تک اس علاقہ میں حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالقاسم قائم بامر اللہ اور پھر اس کا پوتا اسماعیل منصور حکمران بنا۔ پھر اسماعیل کا بیٹا المعز لدین اللہ حکمران ہوا اور اس کے دور میں اس کے کمانڈر جوہر متعلی نے مصر پر قبضہ کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قاہرہ شہر کی بنیاد بھی جوہر نے رکھی جو بعد میں مصر کا دارالحکومت بنا۔ اور عالم اسلام کی معروف درسگاہ جامعہ ازہر کا آغاز بھی جوہر کے ہاتھوں ہوا۔ اور پھر پورا مصر کم و بیش دو سو سال تک فاطمی حکومت کا حصہ رہا۔ اس دوران انہوں نے شام اور فلسطین پر بھی قبضہ کیا۔ حتیٰ کہ ایک مرحلہ میں حرمین شریفین بھی ان کے زیر تسلط رہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حاکموں نے فاطمی خلفاء کی اطاعت تسلیم کرکے مسجد حرم اور مسجد نبویؐ کے خطبات جمعہ میں ان کا نام پڑھنا شروع کر دیا جو کچھ عرصہ جاری رہا۔ فاطمی حکومت کے ابتدائی تین حکمران امیر کے نام سے حکومت کرتے رہے مگر چوتھے حکمران المعز نے مصر پر قبضہ کر لینے کے بعد خلیفہ کا ٹائٹل اختیار کیا اور عباسی خلفاء کا نام خطبہ سے حذف کر کے فاطمی حکمرانوں کے نام اس میں شامل کرا دیے۔ چنانچہ کم و بیش دو سو سال تک مصر اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں جمعہ اور عید کے خطبات میں فاطمی خلفاء کا نام ہی چلتا رہا۔ حتیٰ کہ جب شام کے حکمران سلطان نور الدین زنگیؒ کے کمانڈر صلاح الدین ایوبیؒ نے مصر پر قبضہ کیا اور بعد میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے نام سے متعارف ہوا تو سلطان ایوبیؒ نے پورے مصر کی مساجد میں خطبات جمعہ میں فاطمی خلفاء کے نام حذف کرا کے دوبارہ عباسی خلفاء کے نام خطبوں میں شامل کرائے۔

مؤرخین بتاتے ہیں کہ المعز اللہ کے دور میں اسماعیلیوں نے جہاں مصر پر قبضہ کیا وہاں وہ سندھ میں ملتان تک جا پہنچے اور ملتان تک کا علاقہ دیبل کی بندرگاہ سمیت ان کی تحویل میں چلا گیا۔ جبکہ اس خطہ میں ان کا زور سلطان محمود غزنویؒ نے توڑا اور ملتان وغیرہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

فیروز سنز لاہور کی شائع کردہ ’’تاریخ اسلام‘‘ کے مصنف ڈاکٹر حمید الدین لکھتے ہیں کہ اس حکومت کے فرمانروا مذہب و عقیدہ کے لحاظ سے اسماعیلی شیعہ تھے۔ انہوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی حکومت اسی صورت میں مستحکم رہ سکتی ہے جب کہ رعایا کی اکثریت ان کی ہم عقیدہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس خاندان کے ایک وزیر یعقوب نے اسماعیلی معتقدات کے مطابق قانون کی ایک کتاب تیار کی۔ خود یعقوب مسجد میں لوگوں کو اس کا درس دیتا تھا اور جو لوگ اس کتاب کو یاد کرتے تھے۔ انہیں حکومت کی طرف سے انعامات دیے جاتے تھے۔ اس کے برعکس دوسرے مذاہب کی فقہ کا مطالعہ قابل تعزیر قرار دیا۔ چنانچہ ایک شخص کے پاس امام مالک کی مؤطا پائی گئی تو اسے زدوکوب کیا گیا اور سارے شہر میں اس کی تشہیر کی گئی۔ ۱۴۱۱ھ میں جب ظاہر خلیفہ ہوا تو اس نے حکم دیا کہ شیعی فقہاء کے سوا تمام فقہاء نکال دیے جائیں۔

البتہ تعلیمی، صنعتی، اور معاشی ترقی کے حوالہ سے فاطمیوں کا دور مصر کی ترقی و عروج کا زمانہ کہلاتا ہے جس کی سب سے بڑی علامت قاہرہ شہر اور جامعہ ازہر کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ اس پس منظر میں آج کے دور میں مشرق وسطیٰ میں زیدیوں، علویوں اور اثنا عشریوں کی سہ طرفہ پیش رفت کیا اس امر کی غمازی نہیں کرتی کہ دولت فاطمیہ کی ایک بار پھر واپسی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter