افغان خواتین کے خیالات

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۲ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ فروری ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی آمد کے بعد کابل سے پشاور شفٹ ہونے والی چند سرکردہ خواتین نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کا دورہ کیا، اور ہائیکورٹ بار کے صدر مزمل خان ایڈووکیٹ کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ میں شرکت کے علاوہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ افغان خواتین کا گروپ ۲۴ خواتین پر مشتمل تھا جن کی قیادت آصفہ کاکڑ ایڈووکیٹ اور مریم تاجک ایڈووکیٹ کر رہی تھیں۔ اور ان میں زیادہ تر ایڈووکیٹس، جج اور پروفیسر خواتین تھیں جو کافی عرصہ سے پاکستان میں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تمام خواتین پردہ کیے ہوئے تھیں اور پریس کانفرنس میں انہوں نے طالبان حکومت اور افغان خواتین پر طالبان کے ظلم و ستم کے سلسلہ میں کیے گئے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتیں۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تحفظ صرف اسلامی نظام میں مل سکتا ہے اور ہمیں افغانستان میں مغرب کا نظام نہیں چاہیے۔ آصفہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ۱۹۷۶ء میں بھی افغانستان میں مکمل اسلامی نظام رائج تھا، اس وقت بھی مختلف جرائم کی سزائیں اسلامی قوانین اور شریعت کے مطابق دی جاتی تھیں، تمام قانونی ادارے فقہ حنفی کے تحت کام کرتے تھے، افغانستان میں فیملی خواتین بھی موجود تھیں اور لویہ جرگہ میں بھی خواتین کی نمائندگی ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں مکمل اسلامی نظام چاہتی ہیں اور مغرب کا نظام نہیں چاہتیں۔

ہمیں جدید تعلیم یافتہ سرکردہ افغان خواتین کے ان خیالات سے خوشی ہوئی ہے اور اس سے ہمارے اس یقین میں اضافہ ہوا ہے کہ افغانستان میں کچھ بھی کر لیا جائے، غیور افغانوں کو ان کے دین اور دینی روایات سے دور کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لیکن ہم ان معزز خواتین سے یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر وہ فی الواقع اسلامی نظام اور شریعت کی بالادستی کو افغانستان میں برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو وہ امریکہ اور مغربی ممالک کی سرپرستی کے ماحول میں ممکن نہیں ہے۔ اور اس کے لیے مغربی فلسفہ و نظام سے مرعوب قیادت کی بجائے مغرب کے فکر و فلسفہ کا حوصلہ و جرأت کے ساتھ سامنا کرنے والی قیادت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طالبان کی صورت میں نیک دل، سادہ منش، قناعت پسند اور راسخ العقیدہ قیادت افغانوں کو دی تھی جس کی قدر نہیں کی گئی، اب اس کے بعد اسلامی نظام اور شریعت کی باتوں کو خودفریبی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter