مولانا ابو الحسن علی ندوی کے ساتھ بھارتی پولیس کی بدسلوکی

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۹ء

گزشتہ شمارے میں ہم یہ ذکر کر چکے ہیں کہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سربراہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے یوپی (اترپردیش) کے سرکاری سکولوں میں بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی حکومت کے آرڈر کے تحت روزانہ صبح گائے جانے والے اس ترانے میں مسلمان طلبہ اور طالبات کی شرکت کو ناجائز قرار دیا ہے جس کا ایک بند یہ ہے کہ ’’ہم دھرتی کی پوجا کرتے ہیں‘‘۔

اس اعلان کے بعد مولانا ندوی کو ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلسل طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔ حتٰی کہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۹ دسمبر ۱۹۹۸ء میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق لکھنؤ پولیس نے گزشتہ دنوں مولانا موصوف کے گھر پر ریڈ کیا اور ان سے بدسلوکی کی اور بدتمیزی کا مظاہرہ بھی کیا، جس پر متعدد دینی حلقوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ اور چونکہ مولانا علی میاں کی علمی شخصیت عالمی سطح پر متعارف ہے اس لیے عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور بی بی سی نے اس پر ایک مستقل پروگرام نشر کیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے ساتھ بھارتی پولیس کا یہ شرمناک طرز عمل تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، وہی تاریخی تسلسل جو اہلِ حق کے ساتھ اربابِ ظلم و جور کے ہمیشہ سے چلے آنے والے معاندانہ اور توہین آمیز رویہ سے عبارت ہے۔ اور جس کے سینکڑوں مظاہر کا تذکرہ خود مولانا موصوف نے اپنی معرکۃ الاراء تصنیف ’’تاریخِ دعوت و عزیمت‘‘ کی متعدد ضخیم جلدوں میں کیا ہے۔ بہرحال ہم بھارتی پولیس کی اس افسوسناک حرکت کی مذمت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مولانا موصوف کو صحت و سلامتی کے ساتھ بھارتی مسلمانوں کی تادیر راہنمائی کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter