وفاقی شرعی عدالت کا مستقبل

   
مئی ۱۹۹۶ء

اعلیٰ عدالتوں میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے جہاں عدالتی اداروں کے استحکام اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور اعلیٰ عدالتوں میں حکومتی مداخلت کے امکانات کم ہو گئے ہیں، وہاں دوسری طرف اس فضا میں سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ اور وفاقی شرعی عدالت کے مستقبل کے بارے میں بھی شکوک و شبہات جہنم لے رہے ہیں۔

اس فیصلہ کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کے دو معزز ارکان جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کو فارغ کر دیا ہے، جس سے ایپلٹ بنچ عملاً ختم ہو گیا ہے۔ جبکہ وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں عدالتِ عظمیٰ کے مذکورہ فیصلے میں یہ ریمارکس موجود ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت دستورِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ’’اَن فٹ‘‘ ہے۔ اس سے وفاقی شرعی عدالت کی آئینی حیثیت بجائے خود محلِ نظر ہو کر رہ گئی ہے۔

ان حالات میں ملک کے دینی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور اسلامی احکام و قوانین کی تنفیذ و تشریح کے ان دو آئینی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter