انڈونیشیا کے ایک سابق قادیانی مبلغ احمد ہاریادی سے ملاقات

   
ستمبر ۱۹۹۷ء

برمنگھم کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں اس سال انڈونیشیا کے ایک سابق قادیانی مبلغ احمد ہاریادی بھی شریک ہوئے جو انڈونیشیا کے جزیرہ گروڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے، نوجوانی کے زمانے میں قادیانیت سے متاثر ہو کر قادیانی ہو گئے، دس سال تک قادیانی جماعت کے مبلغ و مربی رہے، اور مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند مرزا بشیر الدین محمود نے قرآن کریم کی جو تفسیر لکھی ہے، انڈونیشی زبان میں اس کے ترجمہ کی نگرانی اور نظرثانی بھی کرتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دی اور قادیانیت سے تائب ہو کر انہوں نے دوبارہ اسلام قبول کر لیا، اور اب وہ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور قادیانیت کے رد کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ اور اسی سلسلہ میں عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے قائدین سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے برطانیہ آئے ہوئے ہیں۔

ایک ملاقات میں قادیانیت سے تائب ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں قادیانی مذہب کے سچا ہونے پر اس قدر پختہ یقین تھا کہ وہ مسلمان علماء کو اکثر مناظرہ اور مباہلہ کا چیلنج دیتے رہتے تھے، مگر مسلمان علماء اس طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ ۱۹۸۶ء میں ایک نوجوان عالمِ دین حاجی عرفان نے مباہلہ کا چیلنج قبول کر لیا، اور احمد ہاریادی نے مباہلہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ حاجی عرفان مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا قرار دینے پر تین ماہ کے اندر عذابِ خداوندی کا شکار ہوں گے ورنہ احمد یارہادی کا گلا کاٹ دیا جائے گا۔

احمد یارہادی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد وہ مسلسل رات کو تہجد کے وقت حاجی عرفان کی تباہی کی دعا مانگتے تھے، انہوں نے کئی بکرے اللہ کی راہ میں ذبح کیے، اور مرزا طاہر احمد کو بھی دعا کے لیے خط لکھا جس کے جواب میں مرزا طاہر احمد نے یقین دلایا کہ فتح اسی کی ہو گی۔ لیکن تین ماہ گزر گئے اور حاجی عرفان کو کچھ نہ ہوا اور وہ بدستور اپنے مدرسہ میں پڑھاتے رہے۔ حتیٰ کہ تین ماہ سے پندرہ دن اوپر گزرے تو حاجی عرفان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آ گئے کہ تم مباہلے میں شکست کھا گئے ہو، اب اپنی شرط پوری کرو۔ میں نے کہا کہ میری گردن کاٹ دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کاٹیں گے، خود اپنے ہاتھ سے کاٹو۔ اتنے میں پولیس آ گئی اور ہم دونوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد احمد ہاریادی کے ذہن میں شکوک و شبہات نے جنم لینا شروع کیا اور رفتہ رفتہ یقین ہوتا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جھوٹا شخص تھا جس نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے نبوت کا ڈھونگ رچایا تھا، اور پھر تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

احمد ہاریادی کو اس امر کا شدت کے ساتھ احساس ہے کہ وہ ایک عرصہ تک جھوٹے مذہب کا پرچار کرتے رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں بہت سے لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ اس کی تلافی کرنا چاہتے ہیں اور انڈونیشیا میں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی باقاعدہ شاخ قائم کر کے ردِ قادیانیت کی خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا ۲۰ کروڑ کے لگ بھگ آبادی کا ملک ہے جہاں شافعی المذہب مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے، علماء کی جماعتیں بھی ہیں اور دینی مدارس و مکاتب بھی موجود ہیں۔ جبکہ قادیانیوں کے ڈیڑھ سو کے قریب مراکز کام کر رہے ہیں۔ اور ان کے علاوہ عیسائی مشنریاں بھی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں مصروف ہیں۔ حکومتی نظام سیکولر ہے اور سب مذاہب کو کھلم کھلا کام کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی جماعتیں اور مراکز عیسائیوں اور قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور مسلمانوں کو ارتداد سے بچانے کے لیے منظم محنت کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter