حدود آرڈیننس ختم کرنے کی مہم؟

   
جون ۲۰۰۲ء

کوہاٹ کی ایک خاتون زعفراں بی بی کو گزشتہ دنوں بدکاری کے جرم میں مقامی عدالت نے سنگساری کی سزا سنائی تو سیکولر حلقوں اور این جی اوز نے ملک بھر میں شور و غوغا کی فضا قائم کر دی۔ اور انسانی حقوق کی وہ تنظیمیں جنہیں افغانستان میں گزشتہ پون برس سے ہزاروں بے گناہ شہریوں کا امریکی بمباری کے ذریعے وحشیانہ قتلِ عام دکھائی نہیں دے رہا تھا، اچانک کوہاٹ کی ایک خاتون کو سنگساری کی سزا سے بچانے کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑیں، بین الاقوامی پریس کو دل پسند موضوع ہاتھ آگیا، اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بین الاقوامی فورم پر اعلان کیا کہ زعفراں بی بی کو سنگسار کرنے کی سزا نہیں دی جائے گی۔

مذکورہ خاتون کو رجم کی سزا دینے کا فیصلہ مقامی عدالت نے کن شہادتوں پر کیا ہے، اس کا جائزہ لینے کے لیے بالاتر عدالتیں موجود ہیں۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کر کے تافیصلہ سزا پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔ لیکن عدالتی طریق کار کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس کیس کو جس طرح اچھالا جا رہا ہے اور اس کی آڑ میں شرعی قوانین کے خلاف جو منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ ملک کے دینی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

حتیٰ کہ اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد سرکاری سطح پر ’’حدود آرڈیننس‘‘ کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ روزنامہ جنگ ۱۷ مئی ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق خواتین کی حیثیت کے بارے میں قائم قومی کمیشن نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں یہ ریمارکس دیے گئے ہیں کہ حدود قوانین امتیازی ہیں اور اسلام کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔ خبر کے مطابق یہ رپورٹ گزشتہ روز پاکستان لا کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر فقیر حسین نے جاری کی ہے۔ دوسری طرف روزنامہ جنگ لاہور ہی کی ۱۸ مئی کی خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی حدود آرڈیننس کا ازسرنو جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اور کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کہا ہے کہ کونسل حدود آرڈیننس پر دوبارہ غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کی طرف سے حکومتِ پاکستان سے باضابطہ طور پر کہا گیا تھا کہ (۱) توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون (۲) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے (۳) اور حدود آرڈیننس کے قوانین پر نظرثانی کی جائے۔ اور اس کے بعد سے اس سلسلہ میں جس پھرتی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان قوانین کو ختم کرنے یا کم از کم عملی طور پر غیر مؤثر بنانے کا پروگرام طے ہو چکا ہے۔ لیکن اس حوالے سے دینی حلقوں میں سکوت اور بے حسی کی جو کیفیت دکھائی دے رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم ملک کے دینی حلقوں اور علمی مراکز سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اور دستور کی اسلامی دفعات کے ساتھ ساتھ چند نافذ شدہ شرعی قوانین کو امریکی خواہشات کی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter