چینی مسلمانوں کا مسئلہ

   
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۳ء

روزنامہ جنگ لاہور ۴ نومبر ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چینی حکمرانوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ چین کے شمال مغربی سرحدی صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی تحریک کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ رپورٹ کے مطابق صدر پرویز مشرف نے اس تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے چینی حکمرانوں کو اس سلسلہ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سنکیانگ (مشرقی ترکستان) چین کا شمال مغربی سرحد پر واقع صوبہ ہے جو پاکستان کے ساتھ ملحق ہے۔ اس کی آبادی ایک کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ۸۰ فیصد مسلمان ہیں۔ یہ مسلمان ایک عرصہ سے دنیا کی مسلم برادری سے کٹے ہوئے ہیں اور بنیادی دینی فرائض کی آزادانہ ادائیگی کی سہولت سے محروم ہیں۔ کچھ عرصہ سے اس خطہ کے مسلمانوں میں دینی بیداری کی لہر ابھر رہی ہے اور وہ اپنی دینی آزادی اور جداگانہ تشخص کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر چکے ہیں۔ چینی حکومت نے سنکیانگ کی اسلامی تحریک پر پابندی لگا دی ہے اور اسے سختی کے ساتھ کچلا جا رہا ہے، جس کے پس منظر میں صدر پرویز مشرف نے مذکورہ بالا یقین دہانی کے ذریعے چینی حکمرانوں کو مطمئن کرنا چاہا ہے کہ اس تحریک کو پاکستان کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

چین عالمی سطح پر ہمارا دوست ملک ہے اور بہت سے مواقع پر اس نے ہماری بھرپور حمایت کی ہے، اس لیے اسے مطمئن رکھنے کی کوشش ایک اچھی بات ہے، اور چین کے اندر کسی پُرتشدد تحریک کے لیے پاکستان کی زمین کو استعمال ہونے سے روکنا بھی پاک چین دوستی کا ایک ناگزیر تقاضہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں چینی حکمرانوں کو مطمئن رکھنا ضروری ہے وہاں ان سے دوستانہ ماحول میں یہ بات کرنا بھی دوستی کا تقاضہ ہے کہ وہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے بارے میں جبر کی پالیسی پر نظرثانی کریں، انہیں اپنے مذہبی احکام و شعائر پر عمل کا جائز حق دیں، اور ان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کا اہتمام کریں۔

ہمارے خیال میں سنکیانگ کے مسلمانوں کے جائز حقوق کی حمایت اور چینی حکمرانوں کے ساتھ اس سلسلہ میں مؤثر گفتگو تین حوالوں سے حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے:

  1. ایک اس حوالے سے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے جائز حقوق کی حمایت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دستوری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
  2. دوسرا اس لیے کہ وہ ہمارے پڑوسی ہیں اور مظلوم پڑوسیوں کی حمایت و امداد ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔
  3. اور تیسرا اس لیے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا مضبوط رشتہ ہے، اور دوستی کے ماحول میں یہ بات زیادہ اعتماد اور بھروسہ کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ صدر پرویز مشرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے اپنی اس ذمہ داری کی طرف بھی توجہ دیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter