لندن میں علماء کرام سے ملاقاتیں

   
۲۶ ستمبر ۲۰۰۴ء

۱۹ ستمبر کو لندن پہنچا تو معلوم ہوا کہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی کینیڈا جاتے ہوئے چند روز کے لیے لندن رک گئے ہیں۔ کینیڈا میں ان کے عقیدت مندوں کا ایک حلقہ ہے جس کے اصرار پر وہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات کا بڑا حصہ وہاں گزارتے ہیں، درس قرآن کریم کی محافل ہوتی ہیں اور مسلسل تبلیغی اجتماعات چلتے رہتے ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسٰی منصوری میرے انتظار میں تھے، سال میں ایک آدھ بار یہاں آتا ہوں تو مختلف ضروری مسائل پر تبادلۂ خیالات ہو جاتا ہے، چند فکری نشستیں ہوتیں ہیں، ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس ہوتا ہے اور اگلے سال کے لیے فکری جدوجہد کا ایجنڈا طے ہو جاتا ہے۔ مولانامفتی برکت اﷲ، مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری، مولانا عبد الحلیم لکھنوی اور مولانا عادل فاروقی، مولانا منصوری کے خصوصی رفقاء میں سے ہیں۔ ہم خیال دوستوں کا یہ حلقہ علماء کرام اور دینی حلقوں میں دینی جدوجہد کے حوالہ سے آج کی ضروریات اور تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔

فکری جدوجہد کرنے والوں کی ہر جگہ مشترکہ مشکل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں روایتی حلقوں میں اس کام کو دین کا کوئی اہم کام تصور نہیں کیا جاتا اور عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ یہ ’’ذہنی تعیش‘‘ کی ایک صورت ہے جس میں کچھ لوگ خود کو مصروف رکھتے ہیں۔ مولانا منصوری کے ہاں گزشتہ روز مذکورہ احباب جمع تھے اور اسی عنوان پر گفتگو ہو رہی تھی کہ فکری بیداری کے کام کی اہمیت اپنے لوگوں کو کیسے سمجھائی جائے؟ مولانا منصوری نے سوال کیا کہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا کام کیسا چل رہا ہے؟ میں نے گزارش کی کہ اسی طرح جیسے اس نوعیت کی محنت کرنے والوں کا کام ہمارے ہاں چلتا ہے۔ گزشتہ سال کا نصف سے زیادہ حصہ قرض حسنہ کے سہارے چلایا ہے جبکہ تعمیر کی مد کا بہت سا کام ابھی ادھورا پڑا ہے اور میرے ساتھ دو گھروں کے مہمان والی بات ہو رہی ہے۔گوجرانوالہ کے دوست سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ اور برطانیہ کے بہت چکر لگاتا ہے ا س لیے اسے ہمارے تعاون کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امریکہ اور برطانیہ کے احباب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گوجرانوالہ جیسے معروف کاروباری شہر کا مولوی ہے اسے ہمارے تعاون کی کیاضرورت ہے؟ جبکہ کسی اجتماع میں تعاون کی اپیل کرنے یا دروازے کھٹکھٹا کر چندہ مانگنے کا نہ معمول ہے اور نہ ہی مزاج اس کا متحمل ہے۔ اور پھر ہم جس نوعیت کا کام کررہے ہیں اسے نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں سمجھا جاتا بلکہ ہمارے بعض حلقوں میں اسے روایتی دینی تقاضوں سے انحراف کے مترادف تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سال میری بیرون ملک روانگی سے قبل الشریعہ اکادمی کی مجلس مشاورت کا سالانہ اجلاس ہوا اور اگلے سال کا تعلیمی پروگرام اور ایجنڈا طے ہونے لگا تو میں نے اس اجلاس میں اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بھئی!اپنے پروگرام میں تھوڑا بہت ’’دین کا کام‘‘ بھی شامل کرلو تاکہ دوستوں کو اعتماد ہو کہ ان کے ساتھ تعاو ن میں بھی کچھ ثواب مل سکتا ہے۔

۲۱ ستمبر کو ابراہیم کمیونٹی کالج میں احباب کا اکٹھ ہو گیا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی تشریف لے آئے۔ یہ کالج سلہٹ (بنگلہ دیش) سے تعلق رکھنے والے باذوق اور باصلاحیت عالم دین مولانا مشفق الدین صاحب نے قائم کیا ہے، ان کے ساتھ نوجوان علماء کی ایک ٹیم ہے جو تعلیم اور نوجوانوں کی ذہنی و فکری تربیت کے محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ ایسٹ لندن کی مرکزی جامع مسجد جو وائٹ چیپل کی مسجد کہلاتی ہے اس کی بیک ڈور والی گلی میں ابراہیم کمیونٹی کالج ایک وسیع عمارت میں قائم ہے۔ گزشتہ سال مولانامنظور احمد چنیوٹیؒ نے علماء کرام کے ایک گروپ کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں بحث و مباحثہ کی تیاری اسی کالج میں کرائی تھی اور افتتاحی تقریب میں مجھے بھی شرکت کا موقع مل گیا تھا۔ مفتی برکت اﷲ صاحب نے جو کہ دارالعلو م دیوبند کے فضلاء میں سے ہیں اور ورلڈ اسلامک فورم کے ڈپٹی چیئرمین ہیں مجھے بتایا کہ یہاں کے ایک لوکل ٹی وی چینل کے ساتھ ان کا تعلق ہے اور انہوں نے شام کو چار سے پانچ بجے تک ’’سیرت نبویؐ کاپیغا م‘‘ کے عنوان پر میرا پروگرام طے کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ وہاں پہنچا تو کچھ بنگالی علماء کرام سے ملاقات ہوئی، پتہ چلا کہ روزانہ شام چار بجے سے پانچ بجے تک ’’دین اسلام‘‘ کے عنوان سے ایک گھنٹہ کا پروگرام نشر ہوتا ہے جو مختلف زبانوں میں الگ الگ ہوتا ہے۔ آج کے اردو پروگرام میں مجھے بطور مہمان مقرر شامل کیا گیا تھا۔ مولانا قاسم رشید اس پروگرام کے میزبان تھے جو کرائیڈن کی جامع مسجد کے خطیب ہیں۔

ایک گھنٹہ کا پروگرام تھا، میں نے قیصر روم کے نام جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرامی نامہ کے حوالہ سے حضرت ابو سفیانؓ کی روایت کا خلاصہ بیان کیا جس میں انہوں نے قیصر روم کے دربار میں ان سے کیے جانے والے سوالات، ان کے جوابات اور ان پر قیصر روم کے تبصرے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ میں نے گزارش کی کہ جناب نبی کریمؐ کے تعارف اور پیغام کے بارے میں اس روایت کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ اس وقت کی سب سے طاقتور حکومت کے سربراہ کے دربار میں جناب نبی اکرمؐ کا تعارف اور پیغام آپ کے اس دور کے سب سے بڑے حریف نے پیش کیا تھا۔

کم و بیش پندرہ منٹ کی گفتگو کے بعد پون گھنٹے تک سوال وجواب کا سلسلہ چلتا رہا اور مختلف خواتین وحضرات نے فون کے ذریعے دینی مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر مفتی برکت اﷲ صاحب کے ہمراہ لندن کے ایسٹ ہیم کے علاقہ میں الحاج عبد الرحمان باوا صاحب کے ختم نبوت سنٹر میں جانا ہوا جہاں وہ اور ان کے فرزند مولانا سہیل باوا تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ عبد الرحمان باوا تحریک ختم نبوت کے پرانے کارکن ہیں، انہوں نے برما (رنگون) میں اس مشن پر جدوجہد کا آغاز کیا، پھر چٹاگانگ (بنگلہ دیش) میں اس محاذ پر ایک عرصہ تک سرگرم رہے، اس کے بعد کراچی آگئے اور ختم نبوت کے محاذ کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا، پھر لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سٹاک ویل ختم نبوت سنٹر کو قائم اور آباد کرنے میں بھرپور جدوجہد کی اور اب اپنا الگ مرکز بنا کر اسی مشن میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

۲۲ ستمبر کو مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ برمنگھم آگیا اور ایک روز ہم ٹینیسن روڈ کی جامع مسجد میں مولانا اکرام الحق خیری کے مہمان رہے۔ اس مسجد میں ہمارے ایک پرانے بزرگ حضرت مولانا منظور الحقؒ ایک عرصہ تک رہے ہیں، ان کا تعلق چھچھ کے علاقے سے تھا، لاہور میں سعدی پارک کی جامع مسجد میں مدتوں خطیب رہے، پھر برطانیہ آگئے اور برمنگھم میں ڈیرہ لگا لیا۔ کئی سال ان کی خدمت میں حاضری اور ان کی مہمان نوازی کا حظ اٹھانے کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔ ان کی وفات کے بعد سے مولانا اکرام الحق خیری اس مسجد کے خطیب ہیں، ان کا تعلق ڈگری سندھ سے ہے، کراچی کے معروف خطباء میں ان کا شمار ہوتا تھا، مدرس اور صاحب مطالعہ عالم دین ہیں، پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر رہے ہیں اور اب ان کی قیادت میں برطانیہ میں پاکستان شریعت کونسل کا حلقہ قائم کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

برمنگھم سے مولانا درخواستی لندن واپس چلے گئے جہاں سے آج ۲۴ ستمبر کو ان کی ٹورانٹو کے لیے فلائٹ ہے جبکہ میں نوٹنگھم میں آگیا ہوں اور اس وقت جامعہ الہدٰی میں ہوں۔ بچیوں کی تعلیم کا یہ معیاری ادارہ سیاکھ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا رضاء الحق سیاکھوی چلارہے ہیں اور بڑی محنت اور توجہ سے کام کررہے ہیں۔ اس ادارہ کی تعلیمی مشاورت کے نظام میں شروع سے میں بھی شریک ہوں۔ جب بھی حاضر ہوتاہوں دو تین روز تک جامعہ کے مسائل کے حوالے سے مسلسل مشاورت جاری رہتی ہے۔ کل آکسفورڈ سے مولانا اکرم ندوی بھی آرہے ہیں، پھر دو روز ہماری مشاورت رہے گی اور اس کے بعد سفر کے اگلے مرحلہ کے لیے روانہ ہو جاؤ ں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter