مانچسٹر میں مسجد امدادیہ کی افتتاحی تقریب

   
۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء

الحاج ابراہیم باوا صاحب تبلیغی جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے ہیں اور احکامِ شریعت کی پابندی کے اس قدر سختی کے ساتھ داعی ہیں کہ خود تبلیغی جماعت کی جن باتوں سے انہیں اتفاق نہیں ہوتا اور وہ انہیں شرعی دائرہ سے متجاوز سمجھتے ہیں، ان پر کھلے بندوں اعتراض و نکیر سے بھی نہیں چوکتے اور بعض مسائل پر تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے ان کی آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ برطانیہ کے شہر گلاسٹر میں ایک عرصہ سے مقیم ہیں اور دعوت و تبلیغ کی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ’’الاسلام‘‘ کے نام سے ماہوار رسالہ بھی اردو میں شائع کرتے ہیں۔ ان کے ایک فرزند مولانا بلال احمد مظاہری دارالعلوم مری کے استاذ حدیث ہیں اور دوسرے بیٹے مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی اردو کی دینی صحافت میں ایک محقق اور صاحبِ مطالعہ قلمکار کے طور پر متعارف ہیں، جن کے مضامین پاکستان اور بھارت کے مختلف دینی جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ ان کے داماد مفتی محمد سلیم مانچسٹر کی ایک مسجد میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حافظ محمد اقبال رنگونی سالہا سال سے مانچسٹر میں علامہ ڈاکٹر خالد محمود کی قائم کردہ اسلامک اکیڈیمی میں ان کے معاون اور نائب کے طور پر مصروف کار ہیں اور ماہنامہ الہلال کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیتے آ رہے ہیں۔ اس خاندان کے بہت سے دوسرے افراد بھی اسی قسم کی علمی و دینی خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ ختمِ نبوت اکیڈیمی لندن کے ڈائریکٹر الحاج عبد الرحمٰن باوا کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے اور اس طرح یہ خاندان مجموعی طور پر بحیثیت خاندان علمی و دینی خدمات میں ایک عرصہ سے مشغول ہے۔

گزشتہ روز مانچسٹر کے علاقہ اولڈ ٹریفورڈ میں اس خاندان کی تعمیر کردہ نئی مسجد کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے منسوب مسجد امدادیہ اس خاندان نے کوئی عمومی چندہ کیے بغیر محض اپنے خاندانی ذرائع سے تعمیر کی ہے، جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع بھی ہے اور اس میں ایک ہزار کے لگ بھگ نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ پانچ اکتوبر کو نمازِ جمعۃ المبارک کی ادائیگی کے ساتھ مسجد کے افتتاح کا پروگرام تھا، جس میں بنگلہ دیش کے علاقہ چٹاگانگ سے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا شمس الدین، حیدر آباد پاکستان سے حضرت مولانا مسیح اللہ خانؒ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا ڈاکٹر تنویر احمد خان، اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے ساتھ راقم الحروف کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ اس موقع پر ان سب حضرات نے مسجد و مدرسہ کی اہمیت اور دیگر ضروری امور پر بیان کیا، ڈاکٹر تنویر احمد خان نے خطبہ دیا اور نماز پڑھائی، جبکہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے ہاتھ پر اس موقع پر ایک غیر مسلم نوجوان کیون نے اسلام قبول کیا جس کا اسلامی نام محمد موسیٰ رکھا گیا۔

راقم الحروف نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں مسجد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ

  1. اس زمین پر حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام نے جب انسانی زندگی کا آغاز کیا اور انسانی سوسائٹی کی آبادی شروع ہوئی تو قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق سب سے پہلے بیت اللہ تعمیر کیا گیا۔ جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا آغاز فرمایا تو قبا میں عارضی قیام کے دوران بھی پہلے مسجد بنائی، اور پھر مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد بھی پہلے مسجد نبویؐ تعمیر کی، اور اس کے بعد اپنے حجرے تعمیر کیے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے روئے زمین پر انسانی آبادی کا نقطۂ آغاز مسجد ہے اور مسلمان سوسائٹی کے آغاز کا سنگِ اول بھی مسجد ہے۔ اور سنتِ نبویؐ یہی ہے کہ مسلمان جہاں بھی رہائش اور آبادی کا آغاز کریں سب سے پہلے مسجد بنائیں۔
  2. دوسری گزارش یہ ہے کہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ہمارے تمام تر اجتماعی امور کا مرکز ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں امت سے متعلقہ تمام اجتماعی امور مسجد میں ہی سرانجام دیے جاتے تھے۔ عبادت مسجد میں ہوتی تھی، تعلیم مسجد میں ہوتی تھی، اجتماعی مشاورت مسجد میں ہوتی تھی، مقدمات کے فیصلے مسجد میں ہوتے تھے، اور دوسری اقوام اور علاقوں سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں بھی مسجد میں ہوتی تھیں۔ اس لیے سنتِ نبویؐ کی رو سے مسجد ہماری اجتماعیات کا مرکز ہے۔ اور تعلیم کا تو مسجد کے ساتھ خاص جوڑ ہے جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ساتھ ایک الگ چھتہ اہتمام کے ساتھ بنوایا تھا، جس کے سائے میں وہ لوگ قیام پذیر ہوتے تھے جو دور دراز سے دین سیکھنے کے لیے مدینہ منورہ آتے تھے، اور اپنی اپنی ضرورت و گنجائش کے مطابق قیام کر کے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم اور تربیت حاصل کرتے تھے۔ اس لیے آج کے دور میں مسجد کی اصل آبادی عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے اہتمام میں بھی ہے اور یہی وہ اصل درسگاہ ہے جہاں سے تعلیم حاصل کر کے ایک مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان کا مقام حاصل کرتا ہے۔

حضرت مولانا ڈاکٹر تنویر احمد خان کا تعلق حیدر آباد سندھ سے ہے اور وہ حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحبؒ کے خلیفہ مجاز ہیں جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلفاء میں سے تھے اور اپنے دور کے عارف باللہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف اسی پچاسی برس کے پیٹے میں ہیں اور خود حضرت تھانویؒ کی مجالس سے اپنی نوجوانی کے دور میں فیضیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے واقعات سنا کر ایمان کی تازگی کی فضا پیدا کر دی، اور ایک مدت کے بعد ایسی روحانی محفل نصیب ہوئی جس سے ایمان کو تازگی ملی۔ انہوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ایمان افروز واقعات سنا کر شرکاء محفل کو اس طرف ترغیب دلائی کہ اپنی اصلاح اور تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور تربیت یافتہ حضرات سے تعلق پیدا کرنا اور خود کو تربیت کے لیے ان کے سپرد کر دینا بھی دین کے تقاضوں میں سے ہے۔

مسجد امدادیہ کے ساتھ دینی درسگاہ اور روحانی خانقاہ کا نظام بھی ترتیب دیا گیا ہے اور الحاج ابراہیم باوا صاحب اپنے روحانی حلقہ کے تعلق اور سرگرمیوں کا مرکز مانچسٹر میں منتقل کر رہے ہیں۔ اور اسی مقصد کے لیے سلسلہ چشتیہ کے نامور روحانی پیشوا حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی نسبت سے اس مرکز کا نام امدادیہ رکھا گیا ہے۔ حضرت حاجی صاحبؒ برصغیر پاک و ہند کے دو بڑے حنفی گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے مشترکہ بزرگ ہیں۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ دونوں حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے خلفاء میں سے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ مسجد امدادیہ اہلِ سنت حنفی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے دو بڑے گروہوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کا بھی ذریعہ بنے گی۔

افتتاحی تقریب میں مانچسٹر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ مختلف شہروں سے سرکردہ علماء کرام بھی شریک ہوئے اور انہوں نے اس مرکز کے قیام پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ جبکہ میرا ذہن حسبِ عادت اس تقریب میں بھی عمومی ماحول اور تناظر کے مختلف دائروں میں گھومتا رہا کہ ایک طرف مختلف مساجد پر نسل پرستانہ حملے ہو رہے ہیں، اور آج ہی ایڈنبرا کی ایک مسجد کو آگ لگانے کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے، مگر ہم برطانیہ کے ایک بڑے شہر میں ایک بڑی مسجد کی افتتاحی تقریب میں شریک ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بے نیازی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس ملک میں مسجد اور دینی ماحول کے روشن مستقبل کی بھی غمازی کرتی ہے اور مغرب میں مقیم مسلمانوں کے حوصلہ و استقامت کی علامت ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter