خلافت کا تصور اور تاریخی پس منظر

   
۲۰۱۷ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ایک اہم موضوع پر بات کرنا چاہوں گا کہ خلافتِ اسلامیہ کیا ہے؟ خلافت کا شرعی تصور کیا ہے؟ اس کی علمی اور فکری بنیادیں کیا ہیں؟ تاریخ کا تناظر کیا ہے؟ اور خلافت کے مسئلہ پر ہمارا دنیا کے ساتھ جو تنازع ہے، اس میں ہمارا موقف کیا ہے اور دنیا کا موقف کیا ہے؟ ہماری کشمکش کس میدان میں ہے اور کیسے آگے بڑھ رہی ہے؟ اس سارے تناظر کو سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔

خلافت کا لفظی معنیٰ تو نیابت ہے۔ کوئی بھی اتھارٹی اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے لیے یا اپنا کام کرنے کے لیے کسی کو نائب بنا دے کہ میری طرف سے تم کر دو، تو یہ خلافت اور نیابت ہے۔ اللہ رب العزت نے زمین پر انسان کو خلافت دی ہے اور انسان کو خلیفہ کا خطاب اور ٹائٹل دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’انی جاعل فی الارض خلیفۃ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کرنے سے پہلے فرشتوں سے ذکر کیا کہ میں دنیا میں خلیفہ بنانے لگا ہوں۔ اس خلیفہ کے کئی معنی مفسرین بیان فرماتے ہیں۔ ایک تو نسلِ انسانی بطور خلیفہ کے ہے۔ اور اس معنیٰ میں بھی ہے کہ ہم سے پہلے اس زمین پر بسنے والے ہمارے پیشرو جن تھے ، اب ان کی جگہ انسان ہیں، تو ہم زمین پر جنوں کے بعد خلیفہ ہیں، ان کے بعد آنے والے ہیں۔

خلافت کا جو معنیٰ اللہ تعالیٰ کی نیابت بیان کیا جاتا ہے کہ انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے، وہ دو حوالوں سے ہے۔ ایک خلافتِ تکوینی ہے، دوسری خلافتِ تشریعی ہے۔ ایک خلافتِ ارضی ہے اور دوسری خلافتِ شرعی ہے۔ دونوں کا اپنا اپنا دائرہ ہے۔

خلافتِ تکوینی اور خلافتِ ارضی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے زمین کا نظام اور زمین کا کنٹرول انسان کے حوالے کیا ہوا ہے۔ زمین پر ہزاروں نہیں لاکھوں قسم کے جانور رہتے ہیں، ہم سے چھوٹے بھی اور بڑے بھی، ہم سے کمزور بھی اور زیادہ طاقتور بھی، لیکن زمین کے نظام کو صرف انسان ہی چلا رہا ہے۔ زمین پر اور اس کے اندر، فضا میں، سمندر اور اس کی تہہ میں انسان کا تصرف ہے۔ زمین، فضا اور سمندر کے نظام میں اگر کسی کا عمل دخل ہے تو وہ انسان کا ہے ۔

زمین سے پیداوار کا حصول، زمین میں کانٹ چھانٹ جو کچھ بھی کر رہا ہے انسان ہی کر رہا ہے۔ انسان زمین میں کھیتی باڑی کرتا ہے اور اس میں گہرائی کر کے اس سے پانی، سونا اور گیس نکالتا ہے۔ ہوائی جہاز چلاتا ہے اور ہوا میں اڑتا ہے، پانی میں کشتیاں چلاتا ہے اور اس میں سے موتی نکالتا ہے۔ جو کام انسان زمین کے ساتھ کر رہا ہے، نہ یہ شیر کے بس کی بات ہے اور نہ ہاتھی کے بس کی بات ہے، ان میں اس کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ زمین کے اندر اور اوپر، سمندر کے اوپر اور اس کی تہ میں، اور فضا میں انسان ہی تصرفات کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی، صلاحیت دی اور تصرف کے مواقع دیے، بلکہ اللہ تعالیٰ نت نئے مواقع پیدا کرتے رہتے ہیں۔ سائنس یہی ہے، زمین کے ماحول کو سمجھنا، اس کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا۔

انسان کی صلاحیت پر میں چھوٹی سی مثال دیا کرتا ہوں۔ اونٹ انسان سے جسامت اور طاقت میں بڑا ہے لیکن ستر اونٹوں کی قطار چل رہی ہو گی، ایک دوسرے کی دم سے بندھے ہوئے جا رہے ہوں گے، اور ان کی نکیل ایک لڑکے کے ہاتھ میں ہو گی۔ انسان بحیثیت انسان زمین اور اس کے متعلقات کے نظام میں عمل دخل بھی رکھتا ہے اور بہت سے معاملات میں انسان کو کنٹرول بھی حاصل ہے۔ بلکہ اب تو انسان نے زمین سے باہر بھی دخل دینا شروع کر دیا ہے، دیگر سیاروں پر بھی جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ انسان کی تکوینی خلافت کا ایک پہلو ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہے۔

خلافتِ تشریعی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے احکام پر عملدرآمد کے لیے ہمیں ذمہ داری سونپی ہے کہ ہم اللہ کے قانون کو، اس کے نظام کو اس کی زمین پر قائم کریں۔ اس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا تھا۔ خلافتِ شرعیہ کا تصور کیا ہے؟ اللہ رب العزت نے جب نسلِ انسانی کو زمین پر آباد کرنے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے دو افراد کو بھیجا ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام۔ سب سے پہلے دنیا میں یہ جوڑا بھیجا گیا۔

یہ الگ ضمنی بحث ہے کہ سوسائٹی کی بنیاد فرد پر ہے یا خاندان پر ہے۔ ہمارا مغرب کے ساتھ ایک فکری تنازع چلتا ہے۔ مغرب کہتا ہے کہ فرد بنیاد ہے، وہ اس کو انڈویجولزم کہتے ہیں کہ فرد پر ہی ساری سوسائٹی کے معاملات کا مدار ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ معاشرہ کی بنیاد فرد پر نہیں بلکہ خاندان پر ہے، سوسائٹی کا بنیادی یونٹ فیملی ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے زمین پر سب سے پہلے فرد نہیں بلکہ ایک جوڑا اتارا تھا۔ مغرب کے اس موقف کے تناظر میں کہ فردیت، فرد کی آزادی، اور فرد ہی سب کچھ ہے، اس پر میں نے اپنا اصولی موقف عرض کیا ہے کہ فرد بہت کچھ ہے لیکن سب کچھ نہیں ہے۔

جب اللہ رب العزت نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کو دنیا میں بھیجا تو ہمیں پہلے دن سے دو باتیں واضح فرما دی تھیں، جو قرآن مجید میں مذکور ہیں:

اللہ تعالیٰ نے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ’’قلنا اھبطوا منھا جمیعا‘‘ (البقرہ ۳۸) اتر جاؤ زمین پر، تم دونوں میاں بیوی بھی اور تمہارے ضمن میں جو بھی نسلِ انسانی ہے وہ بھی۔ ’’ولکم فی الارض مستقر و متاع الی حین‘‘ (الاعراف ۲۴) تمہارے لیے زمین پر مستقر بھی ہو گا اور متاع بھی ہو گا۔ روٹی، کپڑا، مکان ملے گا، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ لمیٹڈ ہو گا۔ ایک بات تو یہ فرمائی کہ زمین میں قرار گاہ بھی ہو گی، متاع اور زندگی کے اسباب بھی ملیں گے لیکن یہ اَن لمیٹڈ نہیں ہو گا بلکہ لمیٹڈ ہوگا۔ ’’الیٰ حین‘‘ ایک وقت تک ہو گا۔ فرد کا حین پچاس، ساٹھ، ستر، اسی سال ہے۔ قرن یعنی زمانے کا حین ایک صدی۔ نسلِ انسانی کا اجتماعی حین چودہ پندرہ ہزار سال ہے قیامت تک۔ اللہ رب العزت نے وقت متعین کیا ہوا ہے لیکن بتایا کسی کو نہیں ہے۔ انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے یہاں آئے ہیں، یہاں کچھ وقت گزاریں گے، پھر ان کی اللہ رب العزت کے ہاں واپسی ہو جائے گی۔

اللہ تعالیٰ نے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ’’فاما یاتینکم منی ھدً‌ی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون‘‘ (البقرہ ۳۸) کہ زمین پر رہنے کے لیے ہدایات میری طرف سے آئیں گی۔ زمین پر کون سے کام کرنے ہیں، کون سے کام نہیں کرنے، زندگی کیسے گزارنی ہے، یہ ہدایات میری طرف سے آتی رہیں گی، جس نے میری ہدایات کی پیروی کی وہ خوف اور غم سے نجات پائے گا۔ اس لیے انسان زمین پر رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کا پابند ہے اور ہماری نجات اور فلاح کا مدار ’’ھدًی‘‘ کی پیروی میں ہے۔ وہ ہدایات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ السلام کے ذریعے آتی رہیں، وہ ان ہدایات کو پہنچاتے بھی تھے ، اور جہاں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ اقتدار بھی دیا وہاں وہ ان احکامات کو نافذ بھی کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا ’’انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق‘‘ (ص ۲۶) کہ آپ نے لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرنے ہیں۔ اس موقع پر انسان کو زمین پر اتارتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ’’بعضکم لبعض عدو‘‘ تمہارے درمیان باہمی کشمکش اور دشمنی بھی چلتی رہے گی۔

چنانچہ انسانی سوسائٹی تک اللہ کے احکام پہنچانا اور ان کو نافذ کرنا خلافتِ شرعی ہے۔ خلافت شرعیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت سوسائٹی پابند ہیں کہ اللہ رب العزت کے اُن احکام اور ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں جو اللہ کے رسولوں کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ یہ خلافت کی علمی و فکری اور منطقی بنیاد ہے۔

خلافت کا یہ تصور کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی روشنی میں زندگی گزارنے کے پابند ہیں، یا اپنی مرضی بھی کر سکتے ہیں؟ اس پر کشمکش حضرت آدم ؑکے بعد ان کے بیٹوں ہابیل اور قابیل سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ ہابیل نے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا کہ جو اللہ کا حکم اور قانون ہے میں اس کے مطابق چلوں گا۔ جبکہ قابیل نے اپنی مرضی اور خواہش کی بنیاد پر نہ صرف یہ کہ بھائی کو قتل کر دیا بلکہ اس بات کا آغاز کیا کہ میں اپنی مرضی سے چلوں گا۔ وہاں سے جو کشمکش شروع ہوئی تو بڑھتے بڑھتے آج دنیا کی ساڑھے سات ارب سے زائد انسانوں کی سوسائٹی دو واضح حصوں میں تقسیم ہے۔

انسانی سوسائٹی میں دو بنیادی فکر پائے جاتے ہیں، تب بھی تھے، آج بھی ہیں۔ آج کی اصطلاح میں ایک کو بلیورز کہتے ہیں اور ایک کو نان بلیورز کہتے ہیں:

• وہ انسان جو اللہ تعالیٰ، آخرت اور آسمانی ہدایات کو کسی بھی درجے میں مانتے ہیں، وہ بلیورز کہلاتے ہیں، جو جوابدہی کے تصور، آسمانی تعلیمات اور وحی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں مختلف مذاہب ہیں، یہودی، عیسائی، مسلمان اور ہندو وغیرہ، ان کی مختلف تعبیرات اور تشریحات ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ خدا، آخرت اور آسمانی تعلیمات کو ماننے والے ہیں۔ خلافت کا تصور ان لوگوں کا ہے جو آسمانی تعلیمات کو مانتے ہیں اور قیامت، جنت، دوزخ اور جزا و سزا پر یقین رکھتے ہیں۔

• اور وہ جو اللہ تعالیٰ، آسمانی تعلیمات اور آخرت کی زندگی کو نہیں مانتے، وہ نان بلیورز کہلاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے، فرد بھی اپنے فیصلے میں آزاد ہے اور سوسائٹی بھی اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ آج دنیا میں مجموعی آبادی کا تصور کریں تو میرے خیال میں اکثریت نان بلیورز کی ہے جو خدا، آخرت اور آسمانی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے۔ ۔ آج یہ فکر عام ہے کہ ہم انسان صاحبِ عقل، صاحبِ فہم اور صاحبِ دانش ہیں، ہم اپنی زندگی اور اپنے معاملات کے فیصلے کرنے میں خود مختار ہیں۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیثِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کے حوالے سے ان کے سیاسی نظام کی تشریح فرمائی ہے۔ کیونکہ ہم سے پہلے اس روئے زمین پر مذہبی سیادت و قیادت اور سوسائٹی کی رہنمائی بنی اسرائیل کر رہے تھے۔ حضرت یعقوب ؑبلکہ حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت عیسٰیؑ تک زیادہ انبیاء اور شریعتیں، صحیفے اور کتابیں بنی اسرائیل میں ہی آئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’انی فضلتکم علی العالمین‘‘ (البقرہ ۴۷) کہ میں نے اپنے زمانے میں بنی اسرائیل کو دنیا کے تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔ چنانچہ جناب نبی کریمؐ بنی اسرائیل کا سیاسی نظام بیان فرماتے ہیں، قرآن مجید میں بھی اس کی بعض باتوں کا ذکر ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء بنی اسرائیل‘‘ میں سیاسی قیادت انبیاء کرامؑ کیا کرتے تھے۔ حکومت کرنا، حکومت قائم کرنا، حکومتوں کی رہنمائی کرنا ،حکومتوں کو کنٹرول کرنا، یہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کا کام تھا۔ فرمایا کہ ’’کلما ھلک نبی خلفہ نبی‘‘ ایک نبی جاتا تو دوسرا آ جاتا۔

بنی اسرائیل نے اپنی حکومت کا آغاز مصر سے کیا تھا اور پہلے حکمران حضرت یوسف ؑ ہیں۔ پھر جب بنی اسرائیل مصر میں غلام بن گئے اور فرعون کے تحت ان کی کئی نسلیں غلامی کی گزریں تو اس کے بعد بنی اسرائیل کی آزادی کا مشن لے کر بھی اللہ کے پیغمبر ہی آئے۔ جب حضرت موسیٰ ؑکو اللہ رب العزت نے نبوت دی اور ان کے مشن میں ان کی درخواست پر ان کے بھائی حضرت ہارون ؑکو شامل کیا تو اللہ رب العزت نے ان دونوں بھائیوں کو فرعون کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ’’ان ارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبھم‘‘ (طہ ۴۷) تم نے بنی اسرائیل کو جو غلامی کے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اس سے نجات دو۔ ہم ان کو اور اپنے خاندان کو لے کر فلسطین واپس لے جانا چاہتے ہیں جہاں سے ہمارے ابا جان حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام آئے تھے، اس لیے ہمارا راستہ مت روکو اور ہمیں اپنے وطن واپس جانے دو۔ گویا فرعون کے پاس حضرت موسٰی ؑکے جانے کا مقصد بنی اسرائیل کی آزادی تھی، اور یہ سیاسی مقصد تھا۔ غلامی سے آزادی اور قوم کی آزادی۔

اس کو یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ قوموں کی آزادی کی جنگ لڑنا بھی پیغمبروں کا کام ہے اور یہ بھی دین کے تقاضوں اور انبیاءؑ کے فرائض میں سے ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑنے اس کے لیے باقاعدہ فرعون سے مطالبہ کیا تو اس پر فرعون نے ان دونوں بھائیوں کے حوالے سے جو طعنہ دیا وہ یہ تھا کہ یہ ہمیں ہماری حکومت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون نے یہ طعنہ بھی دیا ’’الم نربک فینا ولیدا ولبثت فینا من عمرک سنین‘‘ (الشعراء ۱۸) تجھے یاد ہے جب تم میرے گھر میں پلے تھے، میری روٹیوں پر پل کر اب میرے سامنے کھڑے ہو، تم نے عمر کا ایک بڑا حصہ ہمارے پاس گزارا ہے۔ فرعون نے یہ بھی کہا ’’وفعلت فعلتک التی فعلت‘‘ (الشعراء ۱۹) تمہیں یاد ہے جب تم ایک آدمی کو قتل کر کے بھاگ گئے تھے۔ اس کا حضرت موسٰی ؑنے بڑا دلچسپ کمال کا جواب دیا فرمایا ’’تلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل‘‘ (الشعراء ۲۲) کیا تم مجھ پر یہ احسان جتاتے ہو کہ تم نے میری قوم کو صدیوں سے غلام بنا رکھا ہے۔ چار روٹیاں کھلا کر دو دن گھر میں رکھ کر یہ احسان جتا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔

میں یہ سارا پس منظر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تشریح میں ذکر کر رہا ہوں ’’کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء‘‘ کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت موسیٰ ؑسیاسی مشن لے کر آئے تھے، بنی اسرائیل کی آزادی کا پروگرام لے کر آئے تھے۔

باقی مراحل کی باتیں چھوڑتے ہوئے کہ حضرت موسیٰ ؑنے کیسے فرعون کا مقابلہ کیا، پھر قوم کو کیسے لے کر نکلے، اللہ تعالیٰ نے کیسے نجات دی، اس سے اگلا مرحلہ دیکھیں کہ جب بنی اسرائیل وادی تیہ میں گئے تو انہیں حکم ہوا کہ اپنا وطن فلسطین آزاد کراؤ۔ بحیرۂ قلزم عبور کرنے سے پہلے حضرت موسٰی ؑکا مشن فرعون کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا تھا، جبکہ وادی تیہ میں مشن یہ تھا کہ اپنے ملک پر قبضہ کرو۔ ’’یا قوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم‘‘ (المائدہ ۲۱) جاؤ بیت المقدس جا کر جہاد کرو۔ لیکن بنی اسرائیل میں ہمت نہیں تھی، انہوں نے کہا ’’ان فیھا قوما جبارین وانا لن ندخلھا حتی یخرجوا منھا‘‘ (المائدہ ۲۲) کہ ہم نہیں جا سکتے جب تک دشمن وہاں سے نکل نہیں جاتا۔ ان کا آخری جواب یہ تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑے، ہم سے تو نہیں لڑا جاتا۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑنے حسرت کا اظہار فرمایا ’’رب انی لا املک الا نفسی واخی‘‘ (المائدہ ۲۵) کہ یا اللہ میں تو اپنا مالک ہوں اور زیادہ سے زیادہ اپنے بھائی کو زور دے سکتا ہوں، اور تو کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا ’’فافرق بیننا وبین القوم الفاسقین‘‘ (المائدہ ۲۵)

یہ سارا مکالمہ اس پس منظر میں ہے کہ اللہ رب العزت بنی اسرائیل کو حکم دے رہے ہیں کہ جا کر جنگ لڑو، اپنے وطن کو آزاد کراؤ اور وطن کا قبضہ حاصل کرو۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کیا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے، ہم نہیں جائیں گے۔ لہٰذا انہیں اس انکار کی سزا ملی ’’انھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ‘‘ (المائدہ ۲۶) وہ سزا یہ تھی کہ تم چالیس سال کیمپوں میں ہی رہو گے، صحرا میں بھٹکتے پھرو گے، زمین میں بھٹکتے پھرو گے، کبھی یہاں کیمپ لگا لیا اور کبھی وہاں، جیسے ہمارے ہاں خانہ بدوش ہوتے ہیں، چنانچہ ان کی یہی حالت رہی۔

ادھر حضرت موسٰی ؑاور حضرت ہارون ؑفوت ہو گئے۔ حضرت موسی ؑکی حسرت دیکھیے کہ فوت ہو رہے ہیں اور وطن آزاد نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ سے درخواست کر رہے ہیں کہ یا اللہ! میں زندگی میں بیت المقدس نہیں جا سکا، کم از کم میری قبر کو بیت المقدس کے قریب کر دے۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ اللہ رب العزت نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو بیت المقدس کے اتنے فاصلے پر جا کر دفن کرو جتنی دور سے ایک پتھر کو پھینکا جا سکتا ہے۔ پھر ان کے بعد حضرت یوشع بن نونؑ کی قیادت میں جنگ لڑی گئی، بیت المقدس فتح ہوا اور حکومت قائم ہوئی۔ یہ تیسرا دور تھا حضرت یوسف ؑکے بعد۔

پھر ایک اور مرحلے پر غور کر لیں۔ ایک وقت پھر آیا جب بیت المقدس پر ظالم قوتوں کا قبضہ ہو گیا۔ یہ انسانی سوسائٹی کی ترتیب ہے کہ ایک قوم آتی ہے، اچھے اعمال کے ساتھ اپنا مقام بناتی ہے، اس کی تین چار نسلیں چلتی ہیں، پھر جب ان میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں، وہ کمزور ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو پھر کوئی دوسری قوم آ جاتی ہے، پھر ان کے بعد تیسری قوم آجاتی ہے۔ انسانی سوسائٹی کا نظام اسی طرح چل رہا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل پر پھر ایک وقت آیا جب وہ غلام ہو گئے۔ فلسطین پر جالوت کا قبضہ ہو گیا، یہ ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ اس کے خلاف پھر آزادی کی جنگ کا مرحلہ درپیش تھا۔ یہ مرحلہ کیسے طے ہوا؟

قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے کہ اس وقت حضرت سموئیل ؑپیغمبر تھے۔ بنی اسرائیل اکٹھے ہو کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی ’’ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ‘‘ (البقرہ ۲۴۶) کہ کسی کو ہمارا امیر بنا دیجیے تاکہ ہم اس کی قیادت میں جہاد کر سکیں۔ حضرت سموئیل ؑنے حضرت طالوت ؒ کو ان پر امیر مقرر کیا۔ لوگوں کو اس پر اعتراض بھی ہوا کہ آپ نے کیسا بادشاہ بنا دیا ’’ولم یؤت سعۃ من المال‘‘ (البقرہ ۲۴۷) کہ اس کے پاس تو پیسے ہی نہیں ہیں، یہ تو معاشی طور پر بہت کمزور آدمی ہے۔ حضرت سموئیل ؑنے فرمایا ’’ان اللہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم‘‘ (البقرہ ۲۴۷) کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا انتخاب کیا ہے، یہ جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہیں اور علم کے لحاظ سے بھی ٹھیک ہیں، ان میں قیادت کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ چنانچہ حضرت طالوتؒ کی قیادت میں بنی اسرائیل نے جنگ لڑی۔ لیکن پیچھے اصل قائد جنہوں نے سارا نظم قائم کیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت سموئیل ؑہیں جن سے درخواست کر کے بادشاہ مقرر کروایا تھا۔ میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت انبیاء کر رہے تھے۔ اس جنگ کا نقشہ بھی قرآن مجید نے بڑا عجیب بیان فرمایا ہے۔ قرآن مجید نے کسی بات میں ابہام نہیں چھوڑا۔ اگر ہم قرآن مجید کو ذوق کے ساتھ پڑھیں تو ہمیں معلوم ہو گا۔

روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت طالوتؒ چلے، اسی ہزار کی تعداد میں لشکر ان کی قیادت میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ میں آزماتا ہوں کہ کون لڑنے کے قابل ہے اور کون نہیں ہے۔ ’’فلما فصل طالوت بالجنود قال ان اللہ مبتلیکم بنھر‘‘ (البقرہ ۲۴۹) نہر سے مراد دریائے اردن ہے۔ اِس وقت فلسطین اور اردن کے درمیان جو سرحد ہے، یہ دریائے اردن کا مغربی اور مشرقی کنارہ ہے جو آج بھی میدانِ جنگ ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان محاذ جنگ بھی یہی دریائے اردن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آزمانے کے لیے نہر میں آزمائش رکھ دی کہ جو نہر میں سے پانی پی لے گا وہ جہاد نہیں کر سکے گا۔ جب لشکر نے نہر پار کی تو تین سو تیرہ رہ گئے جنہوں نے جالوت کا مقابلہ کیا اور جنگ جیتی۔

جالوت کو کس نے قتل کیا؟ حضرت طالوت کے لشکر حضرت داؤد علیہ السلام ایک نوجوان مجاہد کے طور پر شریک تھے، ان کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا، کافروں کو شکست ہوئی، اور پھر اللہ رب العزت نے حضرت داؤد ؑکو بادشاہت دے دی۔ وہ ایسے کہ حضرت طالوتؒ نے خوشی میں حضرت داؤد ؑکو اپنی بیٹی کا رشتہ دے دیا تھا اور اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا۔ حضرت طالوتؒ کی وفات پر حضرت داؤد ؑان کے جانشین بنے، پھر اللہ رب العزت نے حضرت داؤد ؑکو خلافت عطا فرمائی۔ چنانچہ یہ خلافت کی بنیاد ہے۔

اللہ رب العزت نے حضرت داؤد ؑسے فرمایا ’’یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض‘‘ (ص ۲۶) ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنا دیا ہے۔ اس کے بعد دو اصول بیان فرمائے ’’فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھویٰ فیضلک عن سبیل اللہ‘‘ (ص ۲۶) کہ آپ نے حق کے ساتھ حکومت کرنی ہے اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی۔ وہی اصول جو شروع سے چلا آ رہا تھا کہ انسانی سوسائٹی کے لیے پیروی کی بنیاد آسمانی تعلیمات ہیں یا انسانی خواہشات ہیں۔ چنانچہ حضرت داؤد ؑحکمران بنے اور ریاست قائم ہوئی جس کا نام اسرائیل تھا۔

حضرت داؤد ؑکے بعد حضرت سلیمان ؑبادشاہ ہوئے اور ان کی بادشاہت تو ایسی تھی کہ قرآن مجید میں ان کی دعا کا ذکر ہے ’’رب اغفر لی و ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی‘‘ (ص ۳۵) یا اللہ مجھے ایسی حکومت دے جیسی میرے بعد کسی کو نہ ملے۔ چنانچہ پھر ایسی حکومت کسی کو نہیں ملی۔ آپ علیہ السلام کی انسانوں کے علاوہ جنّوں پر، ہوا ، سمندر ، پرندوں، جانوروں سب پر حکومت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلطنت کو اتنی وسعت عطا فرمائی کہ یہودی آج تک اس اسرائیل کو نہیں بھول رہے۔

میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے اسرائیل کی بنیاد اسی اسرائیل پر ہے۔ یہودیوں نے وہ ریاست دوبارہ بحال کرنے کے لیے اسرائیل کے نام سے فلسطین کے ایک حصے پر قبضہ کر کے ریاست بنائی ہے اور ان کا اصل ہدف گریٹر اسرائیل کے عنوان سے وہی عظیم تر اسرائیل ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ تصور ہے کہ حضرت سلیمان ؑکے زمانے میں اسرائیل کا جو جغرافیہ اور حدود تھیں ہم نے ان حدود تک پہنچنا ہے ۔ وہ اسے اپنا فریضہ اور اپنا قومی حق سمجھتے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا نقشہ نیٹ پر موجود ہے۔ اس میں مدینہ منورہ، خیبر، مصر، عراق، اردن، شام اور آدھا سوڈان شامل ہے۔ گریٹر اسرائیل کی حد مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ہے۔ یہود کا کہنا ہے کہ مدینہ تم نے ہم سے چھینا تھا، خیبر سے بھی ہمیں جبری نکالا تھا، اس لیے مدینہ بھی ہمارا ہے اور خیبر بھی ہمارا ہے۔ ہم نے حضرت سلیمان ؑکے دور کی ریاست دوبارہ بحال کرنی ہے اور وہاں تک جانا ہے جہاں تک ان کی حکومت تھی۔ چنانچہ اس وقت وہ گریٹر اسرائیل کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

میں خلافت کے حوالے سے یہ بات کر رہا ہوں کہ بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کرتے تھے۔ میں نے اس سیاسی قیادت کی کچھ جھلکیاں عرض کی ہیں۔ حضرت یوسف ؑکے حوالے سے، فرعون کے خلاف آزادی کی جنگ کے حوالے سے حضرت موسیٰ ؑکی قیادت میں جہاد، پھر حضرت یوشع بن نونؑ کی قیادت میں فلسطین پر دوبارہ قبضہ، پھر حضرت طالوت ؒ، حضرت سموئیلؑ اور حضرت داؤدؑ کا جہاد، اور پھر اسرائیل کا قیام۔ یہ سارا تسلسل میں نے بیان کیا ہے جو حضرت یوسف ؑسے شروع ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑکے زمانے میں جب رومیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا، اس وقت تک بنی اسرائیل کی حکومت کا تسلسل قائم رہا۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سیاسی فلسفے کی وضاحت فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل میں انبیاءؑ سیاسی قیادت کیا کرتے تھے ’’کلما ھلک نبی خلفہ‘‘ نبی ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آ جاتا۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ ’’وانہ لا نبی بعدی‘‘ میرے بعد نبی کوئی نہیں ہو گا۔ تو سوال پیدا ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ نظام کیسے چلے گا۔ پہلے تو اس نظام کو چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی آتے رہتے تھے، اب نبی تو کوئی نہیں آئے گا تو یہ نظام کیسے چلے گا۔ اس لیے حضورؐ نے ساتھ ہی فرما دیا ’’وسیکون بعدی خلفاء‘‘ کہ میرے بعد اس سیاسی نظام کو چلانے کے لیے خلفاء ہوں گے جو مسلمانوں کے سیاسی نظام کی قیادت کریں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آپؐ کے بعد خلیفۃ رسول اللہ حضرت صدیق اکبرؓ نے خلافت کا منصب سنبھالا۔ اور حضورؐ کے بعد آپؐ کی نیابت میں امت کے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی نظام کو چلانا، اسی کا نام خلافت ہے۔ ہم مسلمانوں کا جو شرعی سیاسی نظام ہے اس کی اصطلاح ’’خلافت‘‘ ہے۔

یہاں ایک بنیادی بات توجہ طلب ہے جس پر مجھے اور آپ کو غور کرنا چاہیے۔ عام طور پر جب خلافت کی بات ہوتی ہے تو ہم خلیفہ کو اللہ کا خلیفہ کہتے ہیں ۔لیکن یہ بات دو حوالوں سے درست نہیں ہے۔ الاحکام السلطانیہ میں قاضی ابو یعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت صدیق اکبرؓ کو کہہ دیا ’’یا خلیفۃ اللہ!‘‘ تو آپؓ نے ٹوک دیا ’’لست بخلیفۃ اللہ، انا خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہ میں اللہ کا خلیفہ نہیں ہوں، میں رسول اللہ کا خلیفہ ہوں۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کا سرکاری لقب اور سرکاری منصب کا ٹائٹل خلیفۃ رسول اللہ تھا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں امیر المؤمنین کی اصطلاح نہیں تھی۔ حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانے میں بھی یہ اصطلاح نہیں تھی۔ جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو ان کا خطاب ’’یا خلیفۃ خلیفۃ‘‘ رسول اللہ ہو گیا۔ حضرت عمرؓ کو الجھن ہوتی تھی کہ تیسرے خلیفہ کو کہا جائے گا ’’یا خلیفۃ خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ‘‘ اور چوتھا کہلائے گا ’’یا خلیفۃ خلیفۃ خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ‘‘ یہ تو لمبا قصہ ہو جائے گا۔ حضرت عمرؓ کو دو کلموں والے تکرار پر ہی الجھن ہوتی تھی۔ ایک دن حضرت عمرو بن العاصؓ آئے اور بے ساختہ حضرت عمرؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یا امیر المومنین! حضرت عمرؓ چونکے اور پوچھا تم نے کیا کہا۔ انہوں نے سوچا شاید مجھ سے گڑبڑ ہو گئی ہے کہ میں نے نئی بات کہہ دی ہے۔ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان اور مومن ہیں ، آپ ہمارے امیر ہیں، اس لیے میں نے آپ کو امیر المومنین کہا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ بہت اچھی بات ہے، بس آج کے بعد مجھے یہی کہا کرو۔ چنانچہ اس کے بعد سے آج تک مسلمان حکمران کے لیے امیر المؤمنین کا لقب چلا آ رہا ہے۔

درمیان میں ایک لطیفہ ذکر کرنا چاہوں گا۔ جب حضرت عثمانؓ خلیفہ بنے تو چونکہ آپؓ خلیفہ راشد اور مجتہد تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے دور میں بہت سے معاملات میں تبدیلیاں کیں ۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے کہ خلفاء نے اپنے اپنے دور میں پچھلے نظام میں کیا کیا تبدیلیاں کیں جو نافذ ہوئیں اور آج تک نافذ ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے نظام میں حضرت عمرؓ ؓنے کیا تبدیلیاں کیں؟ حضرت عمرؓؓ کے نظام میں حضرت عثمانؓ نے کیا تبدیلیاں کیں؟ اور حضرت عثمانؓ کے نظام میں حضرت علیؓ نے کیا تبدیلیاں کیں؟ یہ مستقل موضوع ہے لیکن میں صرف ایک جزوی بات کرنا چاہتا ہوں کہ منبر رسولؐ کی تین سیڑھیاں تھیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جمعہ کا خطبہ اوپر والی سیڑھی پر کھڑے ہو کر دیا کرتے تھے۔ حضرت صدیق اکبرؓ آئے تو احتراماً دوسری سیڑھی پر آگئے۔ حضرت عمرؓ آئے تو احتراماً تیسری سیڑھی پر آگئے۔ حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا تو سیڑھیاں چونکہ تین ہی تھیں، تو حضرت عثمانؓ نے پہلی سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، جہاں حضورؐ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔

چنانچہ حضرت عثمانؓ پر سب سے پہلا اعتراض یہ ہوا کہ انہوں نے پہلے والی روایت قائم نے نہیں رکھی، انہیں نیچے کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اس کا بڑا خوبصورت جواب دیا کہ دیکھو میرے پہلے بزرگوں نے ادب و احترام کا تقاضہ ملحوظ رکھا ہے، ان کا عمل بھی ٹھیک تھا، لیکن میں نے اصل سنت پر عمل کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پہلی سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا ہے۔

جو لطیفہ ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عباسیوں اور امویوں کے درمیان سیاسی چپقلش تھی، کیونکہ عباسیوں نے امویوں سے حکومت چھینی تھی۔ ایک دفعہ عباسی خلیفہ غالباً منصور کے دربار میں حضرت عثمانؓ کے بارے میں ذکر ہو رہا تھا، وہ بنو اُمیہ میں سے تھے جن سے اس کی سیاسی مخاصمت تھی، تو اس نے اپنے درباریوں سے سوال کیا کہ حضرت عثمان پر پہلا اعتراض کیا ہوا تھا؟ سیاسی مخاصمت میں فطری بات ہے، ایسا ہوتا ہے۔ مجلس میں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کو حضرت عثمانؓ کا اس انداز سے تذکرہ پسند نہ آیا۔ ان بزرگ نے کہا کہ حضرت عثمانؓ پر پہلا اعتراض یہی ہوا تھا کہ وہ منبر کی اوپر کی سیڑھی پر کیوں جا کھڑے ہوئے تھے، اس پر لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ وہ پہلے بزرگوں کی روایت پر قائم نہیں رہے۔ لیکن امیر المومنین حضرت عثمانؓ پر جو اعتراض بھی ہوا ہو، امیر المؤمنین! ان کا آپ پر بہت بڑا احسان ہے۔ منصور نے کہا، حضرت عثمانؓ کا مجھ پر کیا احسان ہے؟ ان بزرگ نے کہا کہ اگر حضرت عثمانؓ پچھلی روایت کو قائم کرتے ہوئے زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، تو ان کے بعد آنے والا خلیفہ زمین کھود کر اندر کھڑا ہو کر خطبہ دیتا، اور اس کے بعد آنے والا اس سے زیادہ نیچے تک زمین کھود کر وہاں کھڑا ہوتا، اور اگر وہ روایت یوں ہی چلتی رہتی تو آپ کا وقت آنے تک آپ کنویں کے اندر سے خطبہ دیتے اور ہم اوپر کھڑے ہو کر سنتے کہ امیر المومنین خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے پہلی روایت قائم نہ رکھ کر آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔

اگر فقہاء کی تصریحات کو دیکھا جائے کہ وہ خلافت کی کیا تعریف کرتے ہیں۔ امت کے اجتماعی معاملات کو کنٹرول کرنا، عدل قائم کرنا، انصاف فراہم کرنا، لوگوں کی ضروریات پوری کرنا، جہاد کی قیادت کرنا، بیت المال کا نظام قائم کرنا، یعنی حکومت کے سبھی کام سر انجام دینا۔ آپ جہاں بھی خلافت کی تعریف پڑھیں گے اس میں کوئی فقیہ ’’نیابۃ عن اللہ‘‘ نہیں کہتا، بلکہ ’’نیابۃ عن النبیؐ‘‘ کے الفاظ ملیں گے، کیونکہ خلیفہ نائب ہوتا ہے نبی کا۔ اہل سنت کے ہاں یہی ہے، اس پر ایک بہت بڑے فرق کی بنیاد ہے جو میں عرض کرنا چاہ رہا ہوں۔

2016ء سے
Flag Counter