اسلام اور عورتوں کے حقوق

   
۸ مارچ ۲۰۰۴ء

اخباری اطلاعات کے مطابق ۸ مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کا دن منایا جا رہا ہے جو ہر سال منایا جاتا ہے اور عورتوں کے حقوق و مسائل کے بارے میں سیمینارز، اخباری بیانات خصوصی رپورٹوں اور دیگر ذرائع سے مختلف امور سامنے آتے ہیں۔ عورت آج کے دور میں مغرب اور عالم اسلام کے درمیان فکری و تہذیبی کشمکش کا ایک اہم موضوع ہے اور اس کے حوالہ سے جہاں مسلم دانشوروں اور مغربی مفکرین کے درمیان مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے، وہاں عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس کے بعض پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے عورت کو غلامی سے آزادی دلائی، حقوق سے روشناس کرایا، مرد کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں شریک کیا اور اس کی عزت نفس بحال کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سیاسی و شہری آزادیوں میں حصہ دار بنایا۔ مغرب کا عالم اسلام سے اور تیسری دنیا کے ممالک سے تقاضا بلکہ اصرار ہے کہ وہ بھی عورت کے بارے میں مغرب کے ایجنڈے کو قبول کریں اور مرد اور عورت کی مساوات کے فلسفہ پر مبنی جو ثقافت مغرب نے متعارف کرائی ہے، اسے اپنے معاشروں میں رواج دیں۔ مغرب کہتا ہے کہ انسانی حقوق اور عورت کی آزادی کا وہی تصور آج کے دور میں معیاری ہے جو اس نے متعارف کرایا ہے، اس لیے پوری دنیا پر اس کی پابندی کا لازمی اور اسے قبول نہ کرنے والی اقوام یا ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں۔

دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ مغرب کا یہ دعویٰ مغربی معاشرہ کی حد تک درست ہے کہ اس نے اس معاشرہ میں عورت کو حقوق سے متعارف کرایا ہے اور اسے آزادی اور حقوق سے بہرہ ور کیا ہے، کیونکہ مغرب میں اب سے ڈیڑھ دو صدی قبل تک عورت کی حالت فی الواقع قابل رحم تھی اور اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ مگر اسلامی دنیا کے بارے میں مغرب کا یہ دعویٰ تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے کہ اسلام نے اب سے چودہ سو برس قبل عورت کو جہالت اور مظلومیت کے دور سے نکال کر روشنی اور حقوق کی شاہراہ پر لا کھڑا کیا تھا۔ اسلام نے عورت کو ان تمام حقوق و مراعات کا حق دار ٹھہرایا جو مرد اور عورت کی تخلیق اور کارکردگی میں فطری تقسیم کے حوالہ سے ضروری تھے۔ عورت کو زندہ دفن ہونے سے بچایا، اسے علم اور آزادئ رائے کا حق دیا، اسے ملکیت اور وراثت کے حق سے بہرہ ور کیا، اسے بیٹی، بہن اور ماں ہونے کے ناتے سے رشتہ کا تقدس اور احترام فراہم کیا، جبکہ بیوی کی حیثیت سے اسے خاندانی زندگی میں مرد کے ساتھ گاڑی کا دوسرا پہیہ قرار دیا۔

تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان عورت اس سے کہیں پہلے ان تمام حقوق سے بہرہ ور تھی اور ان سے فائدہ اٹھا رہی تھی جب یورپ میں عورت کی مظلومیت کا احساس جاگا اور اسے اس کے حقوق سے بہرہ ور کرنے کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ اس لیے اگر مغرب اپنے معاشرے کے بارے میں یہ کہے کہ اس نے عورت کو آزادی اور حقوق کی نعمت سے سرفراز کیا تو بات کسی حد تک قابلِ تسلیم ہے، لیکن مسلم معاشرہ پر عورتوں کے حقوق اور آزادی کے بارے میں کوئی احسان جتلانے اور دعویٰ کرنے کا مغرب کو کوئی حق نہیں ہے۔ خصوصاً اس پس منظر میں مغرب کا یہ دعویٰ اور بھی زیادہ مضحکہ خیز ہو جاتا ہے کہ خود مغرب میں معاشرتی حقوق، آزادیوں اور عورت کی جبر و تشدد کے ماحول سے آزادی کے یہ خیالات مسلم اندلس کے اسلامی معاشرہ کو دیکھ کر پیدا ہوئے اور یہ بات تاریخی طور پر ناقابلِ تردید ہے کہ یورپ کو تہذیب و تمدن، باہمی حقوق و رواداری اور علم و اخلاق کی اس شاہراہ پر مسلم اندلس نے گامزن کیا اور مغرب کی تمام تر سائنسی تحقیقات اور ترقی و عروج کی اصل بنیاد اور سرچشمہ بھی مسلم اندلس کی درسگاہیں اور دانش گاہیں رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مغرب کے مذکورہ بالا موقف کے بارے میں مسلم علماء اور دانشوروں کا یہ بھی موقف ہے کہ مغرب نے عورت کی صدیوں کی مظلومیت اور مجبوریوں کے ردعمل میں اس کی آزادی کا جو فارمولا دیا ہے وہ غیر متوازن ہے، ری ایکشن پر مبنی ہے اور اس میں مرد اور عورت کی خلقت اور صلاحیتوں کی فطری تقسیم کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ خود مغرب کا خاندانی نظام افراتفری کا شکار ہو گیا ہے اور خاندانی رشتوں کا تقدس پامال ہو کر رہ گیا ہے۔

مغرب نے یہ کہہ کر کہ عورت اور مرد ہر معاملہ میں مساوی ہیں اور برابر سلوک اور حقوق کے حقدار ہیں، عورت کی صدیوں کی مظلومیت کے خلاف غصہ کا تو اظہار کیا، مگر وہ اس غصہ اور ردعمل میں اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مرد اور عورت ہر معاملہ میں یکساں ہوں اور تمام فرائض و واجبات اور حقوق و معاملات میں برابری کے معیار پر پورے اتر سکیں۔ جس کی سب سے بڑی شہادت مغرب کا آج کا معاشرہ ہے کہ مرد اور عورت کی مساوات اور برابر کے حقوق و فرائض کے تمام تر دعووں کے باوجود سیاست، تجارت، صنعت، فوج، تعلیم، سائنس اور معاشرت کسی شعبہ میں یہ برابری موجود نہیں ہے اور ان میں سے بیشتر شعبوں میں مردوں اور عورتوں کے تناسب میں پائے جانے والے ہوشربا تفاوت کو قانون اور پروپیگنڈے کی تمام تر زور آوری کے باوجود ایک اور چار کے تناسب پر بھی نہیں لایا جا سکا۔ جبکہ دوسری طرف اس کے منفی اثرات پر پورے مغرب میں چیخ و پکار شروع ہو گئی ہے کہ خاندانی نظام بکھر گیا ہے، رشتوں کا تقدس پامال ہو گیا ہے، باہمی ربط کی بجائے انفرادیت پسندی اور نفسا نفسی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور نئی نسل کی تربیت کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہمارا مسلم معاشرہ بھی عورت کی مظلومیت کے حوالہ سے کوئی بہتر تصویر پیش نہیں کر رہا۔ ہمارے ہاں روز بروز گفتگو میں عورت گالی کا سب سے بڑا ہدف ہے، اسے وراثت میں حصہ نہیں ملتا، وہ اپنے حق مہر کو بھی خوشدلی کے ساتھ وصول نہیں کر پاتی، اسے ’’کاروکاری‘‘ جیسی مذموم رسم کے مطابق قتل کر دیا جاتا ہے، وہ ’’ونی‘‘ جیسی جاہلانہ روایت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، اسے قرآن کریم کے ساتھ شادی کے ’’مقدس دھوکہ‘‘ کے ذریعہ شادی کے فطری حق اور جائیداد میں حصہ سے محروم کر دیا جاتا ہے، اسے ہمارے بہت سے خاندانوں میں رائے اور مشورہ کے حق سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے اور دیگر بہت سی قبیح روایات ہیں جو ہماری معاشرت میں رچ بس گئی ہیں۔ لیکن یہ اسلام پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی کی وجہ سے ہیں۔ اس لیے کہ اسلام ان میں سے کسی بات کی اجازت دیتا، بلکہ اگر عورت کے بارے میں دور نبویؐ اور خلافت راشدہ کے دور کو دیکھا جائے تو اسے جو حقوق و اختیارات اور عزت و احترام اس دور میں حاصل تھا آج اس کا دسواں حصہ بھی ہمارے معاشرہ کے بہت سے خاندانوں اور علاقوں میں نہیں پایا جاتا۔

لیکن اب اس کے برعکس مغرب کے آج کے معاشرہ کو دیکھا جائے تو عورت کی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر وہاں بھی لائق دید نہیں ہے۔ مغرب نے عورت کے فطری فرائض میں مرد کو شریک کیے بغیر مرد کی ذمہ داریوں میں عورت کو حصہ دار بنا دیا ہے اور ذمہ داریوں کو حقوق کا نام دے کر اس ’’عقل کی پوری‘‘ کو خوش کر دیا ہے کہ وہ مرد کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں برابر کی شریک ہے۔ اس طرح بچوں کو جنم دینے اور ان کی پرورش کرنے کی بلاشرکت غیر ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وہ انہیں کما کر کھلانے کی ذمہ داری میں بھی شریک ہو گئی ہے۔ مغرب نے زیادہ سے زیادہ تیر مارا تو یہ کہ عورت کو دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازمت کا حق دے کر اس کے بچوں کو پرورش کا متبادل کر دیا۔ اب بچوں کو سکول اور نرسری میں سنبھالا جاتا ہے اور ان کی ماں انہیں ان اداروں کے سپرد کر کے خود دفتر یا فیکٹری میں ملازمت کرنے چلی جاتی ہے، لیکن بچوں کی پرورش کے ان اداروں میں بھی تو ان بچوں کی پرورش عورتیں ہی کرتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال عورتوں کے سپرد ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ کام فطری طور پر عورت کا ہے اور وہی اس کام کو صحیح طور پر سرانجام دے سکتی ہے۔

چنانچہ آپ کو مغرب میں یہ منظر بھی دکھائی دے سکتا ہے کہ ایک عورت کسی اور کے بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال میں مصروف ہے، جبکہ اس کے بچے اسی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے کسی اور عورت کے سپرد ہیں اور اس ستم ظریفی کو ’’عورت کے حقوق‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ فطرت کے قانون سے انحراف کا منطقی نتیجہ ہے جو مغرب بھگت رہا ہے کہ مرد اور عورت میں مساوات بھی عملاً قائم نہیں ہو سکی اور فطری تقسیم کار سے انحراف کے باعث فیملی سسٹم بھی افراتفری کا شکار ہو گیا ہے۔

اس لیے آج کی دنیا میں جائز یا ناجائز طور پر یا بالادست قوت کے طور پر مغرب کا یہ حق تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس کا اخلاقی طور پر استحقاق رکھنے یا نہ رکھنے کی بحث سے قطع نظر اس حوالہ سے دنیا کی نگرانی کرے کہ مختلف انسانی طبقات بالخصوص عورتوں کے حقوق کو کہاں کہاں تلف کیا جا رہا ہے اور وہ اقوام و ممالک کو توجہ بھی دلائے، لیکن اس کے لیے مغرب کی ثقافت اور معاشرت کو معیار قرار دینے کی بات قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم مغرب سے یہ بات دو ٹوک انداز میں کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کا دنیا کی دوسری اقوام بالخصوص اسلامی ممالک و اقوام کو عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے مغربی فلسفہ و ثقافت کی پیروی اور انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پیروی کے لیے کہنا اور اس سلسلہ میں ان پر دباؤ ڈالنا قطعی غلط ہے۔ اس لیے کہ مغرب کے فلسفہ و ثقافت کی بنیاد مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے، جبکہ مسلمان اس بات کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر دوسری جنگ عظیم کی فاتح قوموں کا خود ساختہ ہے جو یکطرفہ ہے اور اس میں تیسری دنیا اور مسلمان اقوام کی آزادانہ رائے شامل نہیں ہے۔ اس لیے اسے موجودہ حالات میں کلی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کے مغربی تصور نے مغرب کے خاندانی نظام کو بکھیر کر رکھ دیا ہے جس کا اعتراف خود مغربی دانش ور بھی کر رہے ہیں۔ ان کھلے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ فلسفہ و ثقافت اپنانے کا دوسرے ممالک و اقوام کو دعوت دینا مغرب کے لیے اخلاقی طور پر بھی روا نہیں ہے۔ اس فلسفہ و ثقافت کے لیے دوسرے ممالک و اقوام پر دباؤ ڈالنا ان کے مذہبی اور ثقافتی معاملات میں مداخلت ہے، جس کے ناجائز ہونے سے خود مغرب کو بھی اتفاق ہے۔

ہم پاکستان میں عورتوں کے حقوق اور مفادات کے لیے آواز اٹھانے کی حمایت کرتے ہیں، اس کی خاطر جدوجہد کو ملی فرائض میں شمار کرتے ہیں اور ایسی ہر آواز اور جدوجہد کا ساتھ دینا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ اس بات کی وضاحت کو ضروری تصور کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عام انسانی حقوق یا عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے مغربی فلسفہ و ثقافت قطعی طور پر معیاری نہیں ہے۔ ہم صرف اور صرف قرآن کریم، اسوہ نبویؐ اور خلافت راشدہ کو اس سلسلہ میں حتمی اور واحد معیار قرار دیتے ہیں اور وہی انسانی معاشرہ میں امن و سکون اور انصاف کے لیے صحیح معیار ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter